شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 27

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 27

  

یہ کام بادی النظرمیں جس قدر آسان معلوم ہوا تھا۔عملی صورت میں اتنا ہی مشکل ثابت ہوا۔

پہلے تو میں نے چٹان پر بیلوں کی مددسے چڑھنا چاہا۔پھر رسے چٹان کے آر پار لٹکا کر چڑھنے کی کوشش کی،لیکن کامیابی نہیں ہوئی ۔اس کوشش میں نصف گھنٹہ گزر گیاتو میں نے جامن کے درخت پر چڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔رائفل وغیرہ دلاور کے سپرد کی اور اس کو اچھی طرح ہوشیار رہنے کی تاکید کرکے میں درخت پر چڑھا اور تنے پر سے گزر کر اس شاخ پر آگیا جو چٹان سے ایک گز کے فاصلے پر تھی۔

شاخ بظاہر اتنی پتلی اور کمزور نہ تھی ،لیکن میں کچھ ہی آگے بڑھا تھا کہ وہ لچکنے لگی ۔۔۔اور آگے سر کا تو کسی قدر جھک گئی۔مجھے شاخ کے سر ے تک پہنچنے کے لیے کم ازکم دو گز آگے بڑھنا تھا اور شاخ کی یہ حالت کہ میں ایک انچ آگے سرکُوں تو وہ دو انچ نیچے جھک جائے۔۔۔میں شاخ کے دونوں طرف پیر لٹکا کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کو پکڑ کر ایک ایک انچ آگے کی طرف سرکنے لگا۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 26 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب میں سرے سے کوئی گز بھر کے فاصلے پر تھا ۔شاخ وحشت ناک طریقے سے لچکنے لگی تھی۔دلاور تو سمجھا کہ اب ٹوٹی اور میں گرا۔اسی لیے وہ بالکل نیچے آکر کھڑا ہوگیا کہ اگر میں گروں تو روک لے ۔مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر اور آگے سرکتا ہوں تو شاخ یقیناٹوٹ جائے گی اور میں سولہ سترہ فُٹ نیچے جھاڑیوں میں گر کر زخمی ہو جاؤں گا۔ پیچھے مڑ کر تنے اور شاخ کے جوڑ کی طرف دیکھا تو وہاں پر درخت کی چھال اکھڑی معلوم ہوئی ۔واپسی کا بھی امکان نہیں تھا ۔میں نے اللہ کا نام لے کر پیش قدمی جاری رکھی۔۔۔

اب شاخ کا سرا کوئی ایک فٹ رہ گیا تھا ۔یہاں سے شاخ چٹان سے دو ایک فٹ اونچی تھی۔۔۔میں نے دھیرے دھیرے پاؤں سُکیڑے ،ایک دوسری شاخ کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر کھرا ہوا اور چھلانگ لگادی ۔

ادھر میں نے جست اور ادھر وہ شاخ جس پر میں کھڑا تھا ایکبارگی سیدھی ہوکر میرے پیروں میں لگی۔نتیجہ یہ ہوا کہ میری ٹانگیں اوپر اور سر نیچے ہوگیا۔اور میں دھڑام سے چٹان پر گرپڑا ۔

ذرادیر ہوئے تو میں نے کمر سے رسی کھول کر نیچے لٹکادی۔۔۔پہلے رائفلیں ،پھر دوسرا سامان ۔اور آخر کار دلاور بھی اسی رسی کی مدد سے اوپر آگیا۔یہاں ہم دونوں نے اطراف کا جائزہ لیا اور بیلوں کو جمع کرکے آڑ بنالی ۔گرنے کی وجہ سے میری پشت اور سر میں چوٹ آئی تھی ،لیکن قابل برداشت تھی۔

بھینسا سامنے بندھا ہوا صاف نظر آرہا تھا۔میں نے تھرمس کھول کر کافی کا ایک پیالہ خود پیا اور دوسرا دلاور کو دیا ۔چند بسکٹ ،دو دو انڈے اور ابلے ہوئے گوشت کی چند بوٹیا ں کھا کر ہم نے صبح تک بیٹھنے کا انتظار کرلیا۔

کچھ ہی دیر بعد دن کا نور ماند پڑنے لگا اور شاہِ خاور اپنی زرّیں قبا سمیٹ کر شبستانِ مغرب کی طرف چل دیا۔۔۔۔اب ہمارے شکار کا اصل وقت شروع ہو رہا تھا ،لہٰذا میں نے اپنی تین سو پچھتر میگنم سیفٹی کیچ کھول کر ہاتھ میں لے لی ۔اور چار سو پچاس ایکسپریس اور ریوالور سامنے رکھ لیا۔دلاور کے پاس شاٹ گن تھی ۔میں نے اس کو پشت کی طرف سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی ۔اس کے بعد فلش لائٹ بھینسے کی طرف کرکے رکھی اور پیر کے انگوٹھے کے نیچے اس کا سوئچ اس طرح دبالیا کہ ضرورت پڑنے پر ذرا سے اشارے سے سوئچ آن کیاجاسکے ۔اس کے بعد وہی انتظار شروع ہوا،جس کے دوران مجھ کو شدید جسمانی اذیّت اٹھانا تھی۔

اندھیرا ہو جا نے کے بعد اس مقام پر ایسی گہری تاریکی چھائی کہ وحشت سی ہونے لگی ۔وہ جگہ پہلے ہی بہت خاموش اور ویران تھی۔اندھیرا ہوجانے کے بعد تو قبرستان سے بد تر ہوگئی۔۔۔جھینگر تک نہیں بولتے تھے۔۔۔گھنے جنگلوں میں مچانوں پر اندھیری راتوں میں تنہابیٹھنے کا سیکڑوں بار اتفاق ہوا،لیکن وہ کیفیت کبھی نہیں ہوئی جواس رات ہوئی تھی۔

اس پر مستزادیہ کہ بھینسا سائے میں بندھا ہونے کی وجہ سے اندھیرے کے دبیزپردوں میں چھپ گیا تھا۔لیکن چونکہ مجھے اپنی سماعت پر اعتماد تھا۔اس لیے اندھیرے کی زیا دہ پروا نہیں تھی۔۔۔ہاں ،وہ ویرانی بڑی بار گزررہی تھی۔کئی دفعہ تو خواہ مخواہ دل چاہا کہ دلاور کو آواز دے لوں ،لیکن بڑی مشکل سے اس خواہش پر قابو پایا اور خاموش رہا۔رات رفتہ رفتہ گزرتی گئی اور اس کے ساتھ ہی میں پر امید ہوتا گیا۔

گیارہ بجے کے قریب تقریباً نصف میل سے ایک بارہ سنگھے کی دہشت بھری آواز آئی۔یہاں یہ بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ بڈھے نر بارہ سنگھے کی آواز خاص طور سے نہایت خوف ناک اور دہشت ناک ہوتی ہے۔شیر کی آواز اکثر لوگوں نے سنی ہوگی ۔اس کے سننے سے خوف معلوم ہوتا ہے،لیکن بارہ سنگھے کی آواز سے قلب و روح پر عجیب قسم کی گھبراہٹ اور وحشت طاری ہوجاتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی نہایت ہی قوی ہیکل اور تندخوجن یا دیو آمادۂ پیکار ہے اور کوئی دم میں حملہ کرنے والا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سارا بیان اور الفاظ بھی خوف کی اس صحیح کیفیت کی آئینہ داری نہیں کرتے۔جو بارہ سنگھے کی آواز سن کر طاری ہوتی ہے ۔میں نے یہ آواز ہزاروں دفعہ سنی ہے ۔اس کے باوجود ہر دفعہ کم از کم ایک لمحے کے لیے ٹھٹک ضرور گیا ہوں ۔

بہرحال آواز سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ بارہ سنگھے نے شیر کو یا شیروں کو دیکھا ہے اور اگر شیر نہیں تو کم از کم کوئی درندہ تو ہوگا ہی۔۔۔بارہ سنگھے نے پانچ پانچ منٹ کے وقفے سے تین آوازیں کیں اور ہر آواز کا فاصلہ زیادہ ہوتا گیا ۔اس آواز کے ساتھ ہی جنگل پر جو ایک طلسمی کیفیت طاری تھی وہ دور ہوگئی۔۔۔کوئی دو سو گز کے فاصلے پر ایک چنکارہ خوف کی آواز کرکے بھاگا۔پھر ایک دو چیتلوں کے خوف کی آواز آئی ۔اور مجھے یقین ہوگیا کہ اب شیر بھینسے پر آنے والے ہیں۔۔۔پیر کا انگوٹھا فلیش لائٹ کے سوئچ کو چھونے لگا اور انگلی رائفل کے ٹریگر پر آگئی۔۔۔۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 28 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شیروں کا شکاری -