نصیر چانڈیو کے قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے، علی اے پل ایڈوکیٹ

نصیر چانڈیو کے قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے، علی اے پل ایڈوکیٹ

  

میرپورخاص(بیورورپورٹ /فہدملک) سندھ ہیومن رائیٹس ڈفنڈر نیٹ ورک کے عہدیدار علی اے پل ایڈوکیٹ، ممتاز جروار ایڈوکیٹ، نوشین پہوڑ ایڈوکیٹ اور دیگر نے مقامی پریس کلب میرپورخاص میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نوکوٹ کے قریب پولیس کے ہاتھوں نصیر چانڈیو کے قتل کے واقعے کی ماورائے عدالت قتل کی ایف آئی آر درج کی جائے، جس کی صاف اور شفاف تفتیش یہ طے کرے گی کہ آیا نصیر چانڈیو کو ماوروائے عدالت قتل کیا گیا یا وہ پولیس مقابلے میں قتل ہوا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ واقعہ جو 22مئی کی صبح نوکوٹ کے قریب گاؤں میں پیش آیا تھا اس میں ملوث ملیر کراچی اور نوکوٹ پولیس کے اہلکاروں کو معطل کیا جائے اور اس واقعے میں ملوث سادھے کپڑوں میں ملبوس سفید کار میں بیٹھے ہوئے افراد کون تھے ان کی بھی انکوائری کرائی جائے جو مذکورہ واقعے میں پولیس کے ہمراہ تھے، انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے حقائق پر مبنی رپورٹ تیار کی ہے، جس میں ان کی تنظیم کے وفد نے موقع پر جاکر گاؤں والوں سے، ایس ایس پی میرپورخاص، ایم پی اے تعلقہ ڈگری، سول سوسائٹی، مقامی صحافی اور سماجی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد تیار کی ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 22مئی کی صبح ملیر تھانے کی پولیس نے نوکوٹ تھانے کی پولیس کی مدد سے نوکوٹ کے قریب گاؤں میں پہنچی جبکہ ان کے ہمراہ کراچی سے گرفتار شدہ 16سالہ علی شیر چانڈیو موجود تھا جس کی نشاندہی پر پولیس نصیر چانڈیو کو گرفتار کرکے جرم کی پوچھ گچھ کرنا چاہتی تھی، مگر بقول گاؤں والوں کے پولیس نے ان کے گھر میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کی اور نصیر چانڈیوکو قتل کردیا، اس واقعہ میں 16سالہ علی شیر چانڈیو غائب ہے اور پولیس یہ بتائے کہ اب وہ کہا ں ہے، جبکہ پولیس یہ کہتی ہے کہ گاؤں والے اسے چھڑا کر لے گئے تھے، انہوں نے کہ ماورائے عدالت قتل کے ذمہ دارارن، اسلم راؤ سے لے کراب تک دیگر افسران و انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے خلاف ایکشن لیا جائے، ورنہ اس قسم کے واقعات روزانہ ہوں گے،اگر اسی طرح ہے تو پھر ججوں کی ضرورت نہیں ہے انہیں بھی ہٹا دیا جائے کیونکہ یہ ملک پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے، انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پولیس کو ہیومن رائیٹس کی ٹریننگ کرائی جائے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں لینے والے پولیس آفیسر علن عباسی جوکہ پولیس میں بڑے اچھے آفیسر کے طور پر مشہور ہیں ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے او ر کوئی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اس کی صاف شفاف انکوائری کی جائے اور اسے صاف شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے، انہوں نے کہا کہ نوکوٹ، جھڈو میں لیڈی پولیس نہیں تھی لہذا سندھ میں لیڈی پولیس میں نئی بھرتیاں کرکے کی نفری بڑھائی جائے

مزید :

صفحہ آخر -