ڈیرہ مظفرگڑھ روڈ کی تعمیر میں3ارب روپے کی کرپشن، نیب کو شہری کی درخواست

ڈیرہ مظفرگڑھ روڈ کی تعمیر میں3ارب روپے کی کرپشن، نیب کو شہری کی درخواست

مظفرگڑھ(نامہ نگار) ڈیرہ غازی خان, مظفر گڑھ روڈ کی تعمیر میں مبینہ 3 ارب روپے کی کرپشن, شہری نے نیب کو درخواست(بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

بھجوا دی. مقامی شہری ملک محمد رمضان نے دی گئی درخواست میں بتایا کہ چیف انجنیئر ساوتھ نئیر سعید محکمہ ہائی وے پنجاب لاہور، ایس سی سہیل اکرم ڈیرہ غازی خان سرکل،ایکسیئن ڈیرہ غازی خان ،ایکسیئن ہائی وے ڈویڑن مظفرگڑھ نے ناقص کام کرائے. جبکہPC1/ایسٹیمیٹ کے بر عکس مظفرگڑھ, ڈیرہ غازی خان روڈ ,54 کلومیٹر کی مالیت 14 ارب روپے میں سے تقریبا 3 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی ہے .فی کلو میٹر تخمینہ لاگت 25 کروڑ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ مظفرگڑھ ,ڈیرہ غازی خان روڈ کی تعمیر میں PC1/ ایسٹیمیٹ کے مطابق کام نہیں کرایا گیا اور اس کا ٹھیکہ بھی اپنی من پسند فرم سارکو اینڈ کمپنی وغیرہ کو دیا گیا. جو کہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی پسندیدہ فرم تھی. اس لیئے آفیسران کام کے معیار کو چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھتے تھے اور اس کام کے شروع ہونے سے قبل اس کے سروے کے لئیے محکمانہ آفیسران سے کرانیکی بجائے ایک پرائیویٹ کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی. جو کہ محکمانہ ضابطہ کے خلاف ہے . اس روڈ کی تعمیر میں بہترین مٹی ڈالنے کی بجائے ٹبہ کی ریت استعمال کی گئی ہے اور پہلے سے موجود سڑک کو اکھاڑ کر وہی میٹریل دوبارہ استعمال کیا گیا ہے .جبکہ ایک سائیڈ ڈبل روڈ کی نئی تعمیر کی گئی ہے۔ کمپیشن روڈ کی ایسٹیمیٹ کے مطابق نہ کی گئی ہے .کارپٹ کرنے سے قبل برومر کا استعمال نہ کیا گیا ہے۔روڈ پر بچھائی گئی کارپٹ کا بھی اعلی معیاری لیبارٹری سے سیمپل کروانا انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسٹیمینٹ کے مطابق معیار اور مقدار کا صحیح اندازہ ہو سکے اور مزید یہ کہ جو ایسٹیمینٹ میں لیڈ کی جو مٹی دی گئی ہے چیک کیا جا سکتا ہے کہ وہ موقع پر ہی سے ٹبہ کی ریت اٹھا کر ڈالی گئی ہے اور روڑہ اور سائز ہے یعنی ایسٹیمینٹ اور گریڈنگ کے مطابق نہ ہے۔ اس میگا پروجیکٹ کی میگا کرپشن کو پکڑنے کیلئے ایک اعلی سطح کی سینئر افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو ریکارڈ قبضہ میں لے اور موقع ملاحظہ کرے۔

3ارب

مزید : ملتان صفحہ آخر