اُردو مرثیہ نگاری .... ایک تاریخی جائزہ

اُردو مرثیہ نگاری .... ایک تاریخی جائزہ

  



مرثیہ عربی کا لفظ ہے۔مرثیے کا لفظ رثا سے نکلا ہے ۔ رثاایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مرنے والی کی تعریف کی گئی ہو۔ اصطلاحاً اردو مرثیہ ایک ایسی صنف ِ ادب ہے جس میں واقعات کربلا اور حضرت امام حسین ؑ اور ان کے خانوادے کی شہادت کے واقعات بیان کئے گئے ہوں۔احتشام حسین کے بقول :

”مرثیہ عموماً اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مذہبی یا قومی پیشوا یا کسی محبوب شخصیت کی موت پر اظہار غم کیا گیا ہو اور اس کے صفات کا بیان اس طرح کیا جائے کہ سننے والے بھی متاثر ہوں“۔(1)

مرثیہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک ثوابی چیز ہے اس کا شمار مذہبی شاعری ہی کی اقسام میں کیا جاسکتا ہے،جس طرح نعت گوئی بڑی ادبی صنف نہیں اسی طرح مرثیہ کا میدان بھی محدود ہے۔ واقعات کربلا کا تذکرہ اس انداز سے کیاجائے کہ سننے والے پر رقت طاری ہوجائے اور وہ بے اختیار رونے لگے یہ ہے مرثیے کا میدان۔ (2)

مرثیہ فنی حوالے سے کئی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے۔مرثیہ کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں۔

چہرہ:

مرثیہ کے افتتاحیہ یا تمہید کو کہتے ہیں۔ اس میں صبح یا رات کا منظر ،دنیا کی بے ثباتی وغیرہ کے علاوہ نعت یا مناجات بھی شامل ہوتی ہے۔

سراپا:

اس میں مرثیہ کے بنیادی کردار کے عادات و خصائل اور سیرت وکردار بیان کئے جاتے ہیں۔

رخصت:

اس اہم اور جامع حصہ میں رفقائے امام حسینؓ کا امام حسینؓ سے اجازت لے کر میدان میں جانے تک کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے۔

آمد:

شہادت علی اصغر ؑکے قطعِ نظر ، یہ حصہ تمام تر رزمیہ ہے ۔اس میں میدان جنگ میں آنے کے واقعات اور گھوڑے اور تلوار کی تعریف کی جاتی ہے۔

رجز:

اس حصہ میں افرادِ مرثیہ کی تعریف ،حسب نسب،اور آباءواجداد کے کارنامے بیان کئے جاتے ہیں۔ رجز خوانی عربوں کی پرانی خصوصیات میں سے ہے۔

جنگ:

یہ حصہ رزمیہ اور ایپک کے بہت قریب ہے۔ اس میں افرادِ مرثیہ کو دشمن کی فوج سے نبرد آزما ہوتے ہوئے دکھایاجاتا ہے۔

شہادت:

مرثیہ کا یہ حصہ سب سے زیادہ دردناک اور رقت آمیز ہوتا ہے اس میں افرادِ مرثیہ کو گھوڑوں سے گرتے ،زخمی ہوتے اور جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے دکھایاجاتا ہے اور ان کی بالیں پر امام حسین ؑکی موجود گی ضروری خیال کی جاتی ہے۔

بَین:

یہ مرثیہ کا اختتامیہ حصہ ہوتا ہے اس میں افرادِ مرثیہ کی لاشیں خیمہ میں آتی ہوئی دکھائی جاتی ہیں اور اس کے عزیز واقرباءکے رونے اور ماتم کرنے کے واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔

ساقی نامہ:

مرثیہ میں ساقی نامہ دبیر وانیس کے بعد شروع ہوا۔ اس میں عام طور پر حبِ اہلِ بیت اور ذکر ساقی کوثرکے مضامین بیان کئے جاتے ہیں۔

ہیئت کے اعتبار سے مرثیہ مثلث ،مربع اور مخمس کی شکل میں لکھا جاتا تھا ۔انیس اور دبیر کے دور سے کچھ پہلے شعراءنے دوسری تمام ہئیتیں ترک کردیں اور مرثیہ صرف مسدس کی شکل میں لکھا جانے لگااور یہ صنف سخن واقعاتِ کربلا کے اظہار کے لئے وقف ہو کر رہ گئی۔(3)

مرثیہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ عرب کی شاعری۔ روایت کے مطابق پہلا مرثیہ طالوت کے قتل پر داو¿د نے کہا تھا۔ عربوں میں مرثیہ نگاری کا رواج عام تھا۔ عبدالمطلب اور ابوطالب کے کہے ہوئے مرثیے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ حسان بن ثابتؓ نے حضرت صلعم کی وفات پر بڑے دردناک پیرائے میں مرثیہ کہا۔ اسی حوالے سے حضرت فاطمہ نے بھی مرثیہ کہا۔ اور حضرت علی ؑ نے حضرت فاطمہ ؑکی وفات پر مرثیہ لکھا۔ اسی دور کی شاعرات میں ختماسلمیتہ (24ھ متوفی) کانام بھی اس اعتبار سے یادگار رہے گا کہ اس نے اپنے بھائی کے قتل پر کئی ایک مرثیے کہے ہیں۔ (4)

شہدائے کربلا کے حوالے سے اردو میں مرثیے کا آغازدکن سے ہوا۔قطب شاہی اور عادل شاہی دور حکومت میں مرثیے کو ترقی ملی۔دکن میں ملا وجہی، غواصی لطیف، کاظم، افضل، شاہی ،مرزا، نوری اور ہاشمی نے مرثیے لکھے ۔شمالی ہند میں سودا نے منفردہ، مستزادہ منفردہ، مثلث،مثلث مستزاد ، مربع،مربع مستزاد،مخمس ترکیب بند،مخمس ترجیع بند مسدس، مسدس ترکیب بند، اور دوہرہ بند مرثیے لکھے۔اکثر مراثی بین اور نوحہ پر ختم کئے۔(5)

اس دور کے مرثیوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں ادبی شان پائی جاتی ہے۔ اس وقت سب سے پرانا مرثیہ جو دستیاب ہوا ہے وہ نظامی شاہی سلطنت کے شاعر ”اشرف“ کا ”نوسرہار “ہے۔اس کے بعد وجہی کا مرثیہ ہے۔ (6)دکن کے علاوہ برہان پور اور گجرات میں بھی مرثیہ گو شاعر موجود تھے۔

مسدس کی صورت میں سب سے پہلااردو مرثیہ میر مہدی متین برہان پوری نے لکھا جو کہ سولہ بندوں پر مشتمل ہے اس میں نئے انداز میں کربلا کے واقعات جناب فاطمہ زہرا کی زبان سے بیان کرائے ہیں۔متین سراج اورنگ آبادی کے شاگرد تھے۔شمالی ہندوستان میں میں بھی باقاعدہ مرثیہ گو شاعروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن میں صلاح، شاہ مبارک آبرو، خواجہ برہان الدین عاصی، مصطفےٰ خاں یک رنگ، میر عبداللہ مسکین، خلیفہ محمد علی سکندر ،مرزا مغل ندرت، وامانی علی قلی ندیم، شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی، سید محمد تقی، ،اشرف علی خاں فغاں، نظیر اکبر آبادی، مہربان خاں رند ، قائم چاند پوری، راسخ عظیم آبادی، میر امانی، میر باقر علی باقر، سامانوی، میرزا ظہور علی خلیق اور ظہور، مرزا راجہ رام ناتھ دزہ، محمد ہاشم شائق، شیخ شرف الدین حسین شرف، میرزا محمد شریف شریف، سید الٰہ بخش شیفتہ، میر حسام الدین عرف میر بھچو گریاں، میر محمد علی محب، خدا بخش موج، مرتضیٰ خاں نثار دہلوی، شیخ حسن رضا،نجات دہلوی، میر محمد علی نیاز، میر سعادت علی سعادت امروہوی، حزیں ، غمگین، محزوں امروہوی، حیدر بخش حیدری،، نظر علی، نعیم، اعلیٰ علی، درخشاں ،شاہ محمد عظیم عظیم، حسینی شاہ،جہاں آبادی، خادم، خطی اللہ، سید محمود صابر استر آبادی،،عبدالسبحان فائز ٹھٹھوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔(8)

دہلی میں مسکین وحزیںاور غمگین تین بھائیوں نے مرثیے لکھے پھر سودا اور میر نے اس میدان میں طبع آزمائی کی، مگر لکھنو سے تعلق رکھنے والے مظفر حسین ضمیر نے مرثیے کو موجودہ شکل دی۔ضمیر مصحفی کے شاگرد تھے اور خلیق کے ساتھ ان کا مقابلہ رہتا تھا۔خلیق بھی مصحفی کے شاگرد تھے۔ (9)ضمیر سے پہلے مرثیے مختصر تھے ضمیر نے مرثیے کو ایک باقاعدہ فن کی شکل دی۔

میر خلیق نے اردو مرثیے پر جو احسان کیا ہے وہ بھی میر ضمیر سے کچھ کم نہیں ہے۔لیکن ان کا کلام نہیں ملتا۔(10) میر خلیق ہی کے ہم عصر مرزا دلگیر ہیں جن کی زبان اور طرز ادا کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ خاندانی ہندو ہونے کے باوجود بیان شہادت اور رخصت کے بیان میں اس کثرت سے مسلمانوں کے مراسم کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کے ہندو ہونے میں شک ہونے لگتا ہے۔ان کے مراثی کی سات جلدیں 1897ءمیں مطبع نولکشور سے شائع ہوئی تھیں۔مرزا فصیح بھی خلیق ،ضمیر اور دلگیر کے ہم عصر تھے ان کے ہاں بھی مرثیہ کی تمام فنی خوبیاں موجود تھی۔

قائم چاند پوری،حسین شاہجہاں آبادی،عظیم شاہجہان آبادی،سکندر، مسکین اورسودا، میر تقی میر،فقیر محمد خاں گویا، دبیر اور انیس نے مرثیے کو ترقی دی اور اس کو فنی بلندی پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

سودا نے 91 مرثیے تحریر کئے ہیں۔

خلیق ،ضمیر، دلگیر،خلیل، اور فصیح نے اردو مرثیے کا جو سانچہ تیار کیا تھا اور جو اختراعات کی تھیں وہ بعد کے مرثیہ نگاروں میں بھی نظر آتی ہیں۔انیس ودبیر کا دور اردو مرثیے میں ایک سنہری دور کی حیثیت سے یاد کیاجاتا ہے۔ اس دور میں مرثیہ گوئی کے ساتھ ساتھ مرثیہ خوانی کے فن کو بھی عروج حاصل ہوا۔ انیس اور دبیر کو مرثیہ گوئی کے امام کا درجہ حاصل ہے۔اسد علی خاں آصفی بھی اسی دور کے مرثیہ نگار تھے۔

اردو مرثیے میں ایک اہم نام سلامت علی خان کا ہے جو مرزا دبیر کے نام سے مشہور ہیں۔وہ عربی فارسی کے ماہر تھے۔1803ءمیں پیدا ہوئے، اور 1874ءکو لکھنومیں انتقال ہوا۔ ان کے والد مرزا غلام حسین دہلی سے لکھنو آگئے تھے۔جب انیس بھی فیض آباد سے لکھنو آگئے تومیر انیس اور دبیر کے مقابلے ہوتے تھے۔دبیر ضمیر کے شاگرد تھے۔دبیر کی زبان بلند آہنگ اور پرشکوہ ہے۔ان کے مرثیوں میں موضوعات کا وقار اور ایک تمکنت پائی جاتی ہے۔انہوں نے بہت خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ اپنے مرثیوں میں الفاظ کو برتا ہے۔دبیر نے مرثیے کے فن کو عظمت اور ترفع سے ہمکنار کیا۔

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

رن ایک طرف چرخِ کہن کانپ رہا ہے

رستم کا بدن زیر کفن کانپ رہا ہے

ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے

شمشیر بکف دیکھ کے حیدر کے پسر کو

جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو

(سلامت علی دبیر)

میر ببر علی کا نام بھی اردو مرثیے میں بہت نمایاں ہے ان کا تخلص میر انیس تھا وہ 1802ءمیں فیض آباد میں پیدا ہوئے ،ان کا انتقال 1880ءمیں ہوا۔ان کے والد کا نام میر خلیق تھا۔انیس کا کلام پانچ جلدوں پر مشتمل ہے۔میر انیس کے ہاں اثر آفرینی ملتی ہے۔انہوں مرثیہ کے کرداروں میں مقامی رنگ بھرا ہے۔(11)جس پر ناقدین نے تنقید بھی کی ہے۔انیس کے مرثیے زبان زد خاص وعام ہیں۔ان کے مرثیوں میں سادگی اور جوش پایا جاتا ہے۔

دل صاحب اولاد سے انصاف طلب ہے

دنیا میں پسر باپ کی زینت کا سبب ہے

اولاد کا ہونا بھی بڑی بخشش رب ہے

یہ سچ ہے، مگر داغ بھی بیٹے کا غضب ہے

رونے کی ہے جا ظلم نیا کرتی ہے تقدیر

شبیر ؓ سے اکبرؓ کو جدا کرتی ہے تقدیر

(میر انیس)

شبلی نعمانی نے میر انیس اور مرزا دبیر کے مرثیے کے تقابلی مطالعے کے حوالے سے ”موازنہ¿ میر وانیس “ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جس کا پہلا ایڈیشن 1907ءمیں آگرہ سے شائع ہوا۔اس کتاب میںشبلی نعمانی نے دونوں مرثیہ نگاروں کے مرثیوں کی شعری خصوصیات پر بحث کی ہے اور فصاحت وبلاغت کے پیمانے پر دونوں کے فن کو پرکھاہے۔

واجد علی شاہ اختربھی سلام اور مرثیہ گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔مرزا غالب نے بھی مرثیے کے فن میں طبع آزمائی کی۔زین العابدین خان عارف کی وفات پر مرزا غالب کا مرثیہ مشہور ہے۔ میرانیس کے چھوٹے بھائی میر مونس اور انس بھی مرثیہ گو شاعر تھے۔انہوں نے لکھنو میں 1885ءمیں انتقال کیا۔میر انیس کی طرح ان کو بھی فن سپہ گری کا شوق تھا۔

میر انیس کے تینوں بیٹے رئیس، سلیس اور نفیس شاعر تھے، مگر میر نفیس کو باقی بھائیوں کی نسبت زیادہ شہرت ملی،ان کا نام میر خورشید علی تھا ،وہ 1816ءمیں پیدا ہوئے اور 1901ءمیں وفات پائی۔ مرثیے میں ساقی نامہ کا اضافہ بھی میر نفیس ہی سے منسوب ہے۔(13)

میر انیس اور مرزا دبیر کے بعد جن مرثیہ نگاروں کا ذکر کیا جاسکتا ہے ان میں میر جلیس، پیارے صاحب رشید، میر تعشق، میر وحید، خورشید حسن دولہا صاحب ،امین،عروج جعفر حسین اوج قابل ِ ذکر ہیں۔شاد عظیم آبادی،دہلی میں آغا شاعر قزلباش دہلوی مشہور ہیں۔اس کے بعد آرزو لکھنوی نے پانچ مرثیے لکھے۔(14)نجابت علی خان فرزند شجاع الدولہ،کوکب شادانی،جاوید،عزیز لکھنوی،عارف ،خیبر لکھنوی،نے بھی مرثیے لکھے ہی۔اس دور کے دوسرے بہت سے شعراءنے بھی سلام لکھے ہیں۔

غالب کی وفات پر حالی نے مرثیہ لکھا،نواب مرزا داغ دہلوی کی وفات پر علامہ اقبال کا مرثیہ اور اس کے علاوہ علامہ اقبال کا اپنی والدہ محترہ کا مرثیہ(والدہ مرحومہ کی یاد میں)اردو مرثیے کے حوالے سے ایک اہم اثاثہ ہے۔

قیام پاکستان سے پہلے جو مرثیہ نگار اپنی حیثیت منوا چکے تھے ان میں جوش ملیح آبادی ،نسیم امروہوی ،راجہ صاحب محمود ،سید آل رضا اور نجم آفندی کے نام قابل ذکر ہیں۔جوش ملیح آبادی نے پہلا مرثیہ ”آوازہ¿ حق“1918ءمیں تصنیف کیا اور اسی مرثیہ کی بدولت انھیں جدید مرثیہ کابانی کہاجاتا ہے ۔1941ءمیں دوسرا مرثیہ ”حسین اور انقلاب “لکھا۔جوش نے پاکستان آنے کے بعد سات مرثیے کہے جو وحدت انسانی، عظمت انسانی اور پانی کے عنوانات سے شائع ہوئے۔ جوش کے مرثیوں میں وہی گھن گرج اوردبدبہ و طنطنہ ہے جو ان کے دیگر کلام کا امتیازی وصف ہے۔نسیم امروہوی نے پندرہ سال کی عمر میں 1923ءمیں پہلا مرثیہ لکھا ۔انہوں نے ایک سوپچاس سے زائد مرثیے تصنیف کئے ہیں۔نسیم امروہوی کوے مرثیوں میں فصاحت وبلاغت اور تشبیہات واستعارات کا ایک جہان آباد ہے۔پانی کے موضوع پر راجہ صاحب محمود نے مرثیہ 1942ءمیں تصنیف کیا انہوں نے پہلا مرثیہ 1932ءمیں لکھا۔فیض بھرت پوری نے 1969ءمیں پانی کے موضوع پر مرثیہ لکھا۔(15)ان مرثیوں میں موضوع اور بیان کے حوالے سے بڑی وسعت پائی جاتی ہے۔مشہور شاعر حفیظ جالندھری نے بھی مرثیہ لکھا۔

سید آل رضا لکھنوی 10 جون 1896ءکو پیدا ہوئے ۔تقسیم ہند کے بعد کراچی آگئے۔2مارچ 1978ءکوکراچی ہی میں وفات پائی۔اان کے مرثیوں کی کتاب شہادت سے پہلے شہادت کے بعد،1944ءمیں شائع ہوئی۔شریکتہ الحسین 1970ءمیں مراثی رضا 1981ءمیں شائع ہوئی۔

مرثیہ نگار قیصر بارہوی کا اسلوب دوسروں سے مختلف اور منفرد ہے۔ئیس امروہوی نے مرثیے کے فن کو ذوق وشوق مذہبی عقیدت سے اپنایا ہے۔ جمیل مظہری،شائق زیدی، سکندر مہدی آغا، وحیدالحسن ہاشمی،آلِ رضا، افسر عباس زیدی کے نام مرثیے کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔

صبا اکبر آبادی کے مجموعہ مراثی (منجملہ ہجرت، لفظ، خاک قلب، مطمئن اور منبر) میں جہاں ہم اردو مرثیہ کو نئے امکانات سے ہمکنار ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں وہیں مرثیہ میں نعتیہ عناصر اور سیرت پاک کے دِل آویز رنگوں کو بھی مختلف دلنشیں زاویوں میں تحلیل ہوتے اور پھر ان کی چھوٹ سے کربلا کے ریگزار میں عزم واستقلال ،سرفروشی وجانثاری اور حکمت وعظمت کے پھول کھلتے دیکھتے ہیں۔(16)

سید اقبال حیدر نے اپنے مرثیوں میں کوئی بڑا فلسفیانہ نظام حیات تو پیش نہیں کیا البتہ ہمارے لئے سوچ اور فکر کے نئے نئے در ضرور وا کئے ہیں۔سید عرفی ہاشمی محض ایک روایتی مرثیہ نگار ہی نہیں،بلکہ انہوں نے عصر حاضر میں رثائی ادب کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ عرفی ہاشمی کا تعلق وحیدالحسن ہاشمی کے دبستان سے ہے لہٰذا مرثیے کی کلاسیکی روایت سے منسلک ہیں۔ڈاکٹر ابولحسن نقوی کا تعلق ملتان سے ہے اور آج کل وہ آئرلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ڈاکٹر ابولحسن نقوی کے مراثی جلیل القدر شخصیات کی سیرت وکردار کی عکاسی کرتے ہیں۔(17)

ہم کہہ سکتے ہیں کہ میر انیس اور دبیر کا دور اردو مرثیے کے عروج کا دور تھا مگر آج بھی مرثیہ نگاروں کے سوتے خشک نہیں ہوئے ۔یہ بات ضرور ہے کہ دلی لٹنے اور لکھنو¿اجڑنے کے بعد اور تہذیبی ومعاشرتی قدریں تبدیل ہونے کے بعد اردو مرثیے کے حوالے سے ایک خلا ضرور پیدا ہو گیا ہے،مگر پھر بھی سلام اور نوحہ لکھنے کا رواج کم نہیں ہوا۔

سلام

بحضور امام عالی مقام ؑ

رہِ وفا پہ چلا ہوں تو آئنہ ہے حسین ؑ

کبھی بھٹک نہیں سکتا کہ رہنما ہے حسین ؑ

میں با وضو جو کبھی نیند اوڑھ لیتا ہوں

تمام شب مری آنکھوں میں جاگتا ہے حسین ؑ

کسی طرح بھی لکھا ظلم کے خلاف لکھا

خیال وفکر میں ایسے بسا ہوا ہے حسین ؑ

اسی کے دم سے ہے سورج میں روشنی کا ہجوم

ہوا کے سامنے جلتا ہوا دیا ہے حسین ؑ

ملا دیا ہے غرورِ غنیم مٹی میں

دیارِ جبر میں لوگوں کا حوصلہ ہے حسین

پلٹ گئے ہیں کڑے وقت پر مفاد پرست

یزیدِ وقت کے آگے ڈٹا ہوا ہے حسین ؑ

میں عین وقت پہ اپنوں سے آملوں گا کمال

اس انتظار میں ہوں کب پکارتا ہے حسین ؑ

(ڈاکٹر محمد اشرف کمال)

مزید : ایڈیشن 1


loading...