پیپلزپارٹی نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

پیپلزپارٹی نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

  

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا،پیپلزپارٹی کی طرف سے لطیف کھوسہ نے پٹیشن دائر کی ہے جس میں وفاق اور نوازشریف ،سینٹ ،قومی اسمبلی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے سیکشن 203کے تحت سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والا شخص پارٹی کا سربراہ بن گیا ہے جس کے بعد تمام منتخب نمائندے اب نااہل شخص کے سامنے جوابدہ ہو گئے ہیں ،نااہل شخص کے سامنے منتخب نمائندوں کا جوابدہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے ،نئے قانون کے تحت تمام نااہل افراد کے لیے راستہ بنایا گیا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کرپشن کے مرتکب افراد کو سیاسی جماعت چلانے کا اہل بنایاگیا ہے ، ،آئین کی روح کیخلاف قانون سازی نہیں ہو سکتی ،سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں ،ان کو پارٹی صدر نہیں بنایا جا سکتا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کابینہ کو پارٹی صدر نواز شریف سے ہدایات لینے سے روکا جائے اور ن لیگ کے صدارتی انتخاب کو کالعدم قرار دیا جائے۔

انتخابی اصلاحات

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -