وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64

  

بھولو نے لحاظ ملحوظ نہ رکھا اور چند منٹ بعد باپ کے حصار سے باہر نکل آیا۔ ابھی وہ سنبھل نہ پایا تھا کہ حمیدا پہلوان نے اسے پٹھی ماری اور بھولو دھڑام سے اکھاڑے میں پڑا تھا۔ بھولو کو اپنے ماموں جیسے کوہ گراں کو گرانا تھا۔

بھولو حمیدا پہلوان سے آدھ گھنٹہ تک حساب کتاب کرتا رہا۔ وہ اس وقت پسینے میں نہا رہا تھا جب وہ اس آہنی دیوار کو ہٹا کر بیس پہلوانوں کو زور کرا رہا تھا۔ اس میں اس کے پانچوں بھائی بھی خم ٹھونک کر کھڑے تھے۔ پانچوں بھائی پسینے میں شرابور اور مٹی میں لت پت بھولو سے چمٹ گئے اور اسے ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہ سب اس کے ساتھ زور آزمائی کرنے لگے۔ کوئی ٹانگ سے چمٹا ہوا تھا تو کوئی بازو سے۔ کسی نے کمر جکڑ رکھی تھی تو کوئی گردن پر سوار تھا۔ ایک سامنے سے حملہ آور تھا اور دوسرا پشت پر۔۔۔ یہ روزانہ کا معمول تھا۔ بھولو کی یہ ورزش اس کے دم اور تنفّس میں پختگی کیلئے ہوتی۔ اس سے جہاں تمام پہلوانوں کے پٹھوں کی توانائی میں اضافہ ہوتا وہاں داؤ پیچوں میں روانی پیدا ہوتی۔ یہ زور کرانے کا عمل دو گھنٹہ تک جاری رہتا۔ اس دوران سورج طلوع ہو جاتا تو بھولو کو چکی کے سپرد کر دیا جاتا۔ یہ ہنسلی کی ورزش کہلاتی تھی۔ ایک ڈھائی من پتھر کا وزنی پاٹ جس کے درمیان میں ایک اتنا چوڑا کٹاؤ ہوتا، بھولو اسے گردن میں ڈال کر گھماتا۔ وہ یہ عمل بار بار کرتا۔ اس پاٹ کو محدود تعداد میں گھمانے، پھرانے اور نکالنے کے بعد وہ سنتولہ کی ورزش کرتا۔ اس میں بھی اسے دو من سے زائد وزن اپنی گردن اور سینے سے کھینچنا پڑتا۔ اس کیلئے لکڑی کا ایک مضبوط تختہ جس کی لمبائی چار یا پانچ فٹ اور وسعت تقریباً ایک فٹ ہوتی، اس کے درمیان یا دونوں کونوں پر مضبوط وزنی پہلوانوں کو بٹھا کر رسی یا زنجیر کے دائرہ کو سینہ یا گردن میں ڈال کر اکھاڑے میں کھینچنا ہوتا تھا۔ یہ ورزش سینہ، گردن کو مضبوط کرنے کیلئے تنفّس کو قائم رکھنے میں مدد دیا کرتی تھی۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر63  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بھولو رات اڑھائی بجے سے صبح نو بجے تک پہلوانوں کے نرغے میں رہتا۔ اس وقت اس کی یومیہ خوراک بھی بڑھا دی گئی تھی۔ جو چھ عدد مرغ یا پانچ سیر بکری کے گوشت کی یخنی، دس سیردودھ، آدھ سیر گھی یا مکھن، بارہ چھٹانک بادام کا شربت اور مربّہ جات کے علاوہ معمولی مقدار میں سنکھیا کا استعمال ہوتا۔ سنکھیا بھاری غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا تھا۔ بھولو مستقل مزاجی سے اپنے بڑوں کے درمیان یہ کٹھن وقت طے کرتا رہا اور پھر وہ وقت آ ہی گیا جب اہل پنجاب نے منٹو پارک میں رستم و سہراب کا دنگل دیکھا۔

11 اپریل 1948ء بروز اتوار منٹو پارک لاہور میں شاہی دنگل کا اہتمام دیدنی تھا۔ شہر بھر میں پوسٹر لگا دئیے گئے تھے۔ یہ رنگا رنگ پوسٹر اپنے عہد کی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہوتے۔ پوسٹروں میں بھولو پہلوان کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ دکھایا گیا۔ رستم و سہراب کی یہ جنگ خاں بہادر راجہ محمد افضل خاں صاحب کمشنر اور خان صاحب قربان علی خاں انسپکٹر جنرل کی زیر سرپرستی لڑی جا رہی تھی۔ منصفین کشتی مہاجا پہلوان بلاقی والا ستارہ ہند اور مہتاب پہلوان حلوائی تھے۔ اس موقع پر شائع ہونیوالے تمام اشتہارات میں خلیفہ سراج الدین سراج پہلوان کی ایک غزل نمایاں طور پر شائع کی گئی تھی جس کے چند اشعار حاضر ہیں۔

سنو اے شائقینوں اب ذرا اظہار ہوتا ہے

سنبھل بیٹھو کہ ہر فقرہ جگر کے پار ہوتا ہے

اگر ہے زندگی میلہ تو ہم ہر سال دیکھیں گے

مگر ایسا بھی دنگل کہیں ہر بار ہوتا ہے

چلے آؤ کہ ہے وہ آج دنگل پہلوانوں کا

کہ جس کا تذکرہ ہر سو سربازار ہوتا ہے

یہ دیکھا ہے کہ ہیں لاہور کے شوقین خوش قسمت

عموماً کشتیاں ہوتی ہیں جب اتوار ہوتا ہے

کسی کی ڈھاک چلتی ہے کوئی تیغ کا عادی ہے

کسی کی ٹانگ کا پھرذکر سو سو بار ہوتا ہے

کوئی بے فکر ہو کر یوں سواری ڈال بیٹھے گا

کہ جیسے پشت گھوڑے پر کوئی سوار ہوتا ہے

اس دنگل کے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بک رہے تھے ۔ٹکٹ دنگل کے روز صبح آٹھ بجے کھول دی گئی۔البتہ کوچ اورکرسی کی نشستیں حاصل کرنے والوں نے اپنی ٹکٹ ایک روز پہلے کی بک کرالی تھیں۔تمام ٹکٹ تین روپے اورکرسی کا چھ روپے رکھا گیا جبکہ سالم کوچ تین سیٹ والا تیس روپے میں بک کیا گیا۔

کشتی سے ایک روز قبل پہلوانوں کا روائتی جلوس نکالا گیا۔10اپریل بروز ہفتہ کودوپہرتین بجے پرانی میوہ منڈی بیرون شا عالمی دروازہ پر تانگے پہلوانوں سے لدے ہوئے تھے۔ ڈھول کی تھاپ پربھنگڑا ڈال رہے تھے۔ جلوس میں بھولواوریونس پہلوان اپنے اپنے حواریوں کے ساتھ موجود تھے۔جلوس وقت مقرر پر روانہ ہوا اور منٹو پارک میں جا کر منتشر ہوا۔خلقت خدا پہلوانوں کے دیدار کے لیے مڈ آئی تھی۔اس وقت لاہور اور گوجرانوالہ کے علاوہ سیالکوٹ،ملتان اور گجرات سے بھی شائقین کشتی جوق در جوق آچکے تھے۔

اگلے روز ٹھیک بارہ بجے دنگل کا آغاز ہو گیا۔چھوٹی جوڑیں میدان میں اترنے لگیں۔اسی دنگل میں اعظم پہلوان پسر امام بخش اور حسینا دفتری پٹھہ ببو پہلوان ستارہ ہد کی بھی کانٹے دار جوڑ تھی۔یہ دنگل 49کشتیو ں پر مشتمل تھا۔اعظم پہلوان نے حسینا دفتری کو شکست دے کر لشکر گاماں کو پر عزم بنا دیا تھا۔ان کے ایک شاہ زور نے بھولو کے سابق شکست خوردہ پہلوان کو ہرا کر ثابت کر دیا تھا کہ گاماں اور امام بخش کی ڈھالیں نہایت مضبوط اور ان کے قلعے ناقابل تسخیر بن چکے ہیں۔

جوں جوں بڑی جوڑ کا وقت قریب آرہا تھا بے چینیاں دو آتشہ ہو رہی تھیں۔ہجوم ان چھوٹی جوڑوں کی طوالت سے اُکتا کر بڑی جوڑ کا مطالبہ کرنے لگا۔وہ شیر اور چیتے کو جلد سے جلد میدان میں متصادم دیکھنا چاہتے تھے۔

چار بجے کے قریب حمیدا پہلوان نے بھولو کو لنگوٹ کسایا اور میدان میں دھکیل دیا۔بھولو قرمزی جانگیا میں سپاٹے لگاتا میدان میں اترا تو درجن بھر ڈھولچیوں نے اس کا سواگت کیا۔بھولو اکھاڑے کی سلامی کے بعد میدان میں تن کر کھڑا ہو گیا۔رحیم بخش سلطانی والا نے بھی اپنے پٹھے کو لنگوٹ کسایا اور تھاپڑادے کر میدان رن میں چھوڑ دیا۔یونس پہلوان تن و توش میں بھولو سے قدرے بھاری تھا۔ وہ ایک پاؤں پر’’یا علی یا علی‘‘کے نعرے لگاتا اکھاڑے میں آیا۔لوگوں نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔

منصف نے دونوں شاہ زوروں کو اکھاڑے کے درمیان بلایا اور انہیں چند ہدایات دینے کے بعد ایک طرف ہو گیا۔سرزمین پاکستان پر یہ پہلا شاہی دنگل تھا جس میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد دو بڑے شاہ زور پاکستان کے حصے میں آئے تھے اور اب وہ دونوں اپنے نام کا سکّہ جمانے کے لیے برسرپیکار تھے۔یونس پہلوان پہلے اچھا پہلوان کو گرانے کے بعد گاماں خاندان پر دھاک بٹھا چکا تھا۔ بھولو کو اس داغ رسوائی کو دھونے کے لیے یہ میدان مارنا تھا۔

ان دونوں کی لپک جھپک دیکھنے والی تھی۔ یونس پہلوان نے پہل کی اور حریف کو زبردست کسوٹا مارا۔ بھولو نے کمال برداشت کا مظاہرہ کیا اور یونس سے گتھم گتھا ہو گیا۔اسی دوران یونس پہلوان نے بھولو کی کسیں بھرنے کی کوشش کی مگر بھولو صاف بچ گیا اور جوابی حملہ کیا۔یونس پہلوان بھی رحیم بخش کا پٹھہ تھا۔اس نے داؤ کا جواب داؤ سے دیا۔وہ بڑے تحمل سے کشتی لڑ رہا تھا۔ اس کا اندازہ اس کے اندر کے جوش کو دبائے ہوئے تھا۔ وہ جلد بازی میں کوئی غلط قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ تماشائی کشتی کے ہر لمحہ سے محظوظ ہو رہے تھے۔ یونس پہلوان کا پلہ بھاری ہونے لگا تھا مگر تقدیر کو اس کی فتح منظور نہ تھی۔ بھولو نے اس طاقت و فن کے طوفان کو بڑے فنکارانہ انداز میں روک رکھا تھا لیکن ساتھ ہی وہ جوالا مکھی کی صورت میں حریف پر چھایا ہوا تھا۔ بھولو کو بالآخر داؤ چلانے کا ایک بھرپور موقع مل گیا اس نے یونس پہلوان کو کھڑا گھسا مارا۔یونس اکھاڑے میں گرا تو بھولو نے اسے پھر نہ اٹھنے دیا۔یونس بھولو کے حصار کو توڑنے میں رگ جاں کو مجتمع کرتا رہا مگر سرتوڑ کوشش کے وہ نیچے سے نہ نکل سکا۔ بھولو نے چند منٹ بعد یونس پہلوان کو مکمل طور پر چت کر دیا۔ منصفین نے متفقہ طور پر بھولو کی فتح کا اعلان کر دیا۔(جاری ہے )

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

طاقت کے طوفاں -