دیامیر بھاشا ڈیم کا مستقبل؟

دیامیر بھاشا ڈیم کا مستقبل؟

ایک اطلاع کے مطابق عالمی بینک خیبر پختونخوا میں واقع داسو پاور پراجیکٹ کے لئے فنڈنگ پر تیار ہے،جبکہ زیادہ اہم منصوبے دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنڈ مہیا کرنے میں اُس کے بعض تحفظات ہیں۔ امکان غالب ہے کہ بھارت پس منظر میں رہ کر دیامیر بھاشا ڈیم کی مخالفت کر رہا ہو، جس کی وجہ سے عالمی بینک نے داسو پاور پراجیکٹ کو ترجیح دی ہے۔ اگر پاکستان یہ منصوبہ شروع کرتا ہے تو دیامیر بھاشا ڈیم کم از کم دس سال تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔

پاکستان میں دو مختلف حکمران تین بار دیامیر بھاشا ڈیم کے منصوبے کا افتتاح کر چکے ہیں لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اِس منصوبے کے لئے تاحال فنڈز کی فراہمی بھی غیر یقینی ہے، جس پر کم از کم 12بلین ڈالر لاگت آنے کا امکان ہے۔ داسو پاور پراجیکٹ اور دیامیر بھاشا ڈیم میںبنیادی فرق ہے کہ اول الذکر صرف پاور پراجیکٹ ہے اور یہ ” رَن آف دی رور“ پر بنے گا، یعنی بجلی بنانے کے لئے پانی کا ذخیرہ نہیں کرنا پڑے گا، جبکہ دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے پانی کا ذخیرہ بنانا پڑے گا، جس سے بجلی کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لئے پانی بھی حاصل ہو گا، پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بن سکا، کالا باغ ڈیم جسے ماہرین اب بھی قابل عمل منصوبہ سمجھتے ہیں۔ بدقسمتی سے شروع سے ہی متنازعہ ہو گیا، حالانکہ اِس پر کام شروع کیا جائے تو یہ اب بھی سب سے پہلے مکمل ہو سکتا ہے۔ واپڈا حکام کا خیال ہے کہ اگر داسو پاور پراجیکٹ کو شروع کر دیا گیا تو دیامیر بھاشا ڈیم کو لامحالہ موخر کرنا پڑے گا، کیونکہ دونوں میگا پراجیکٹ ایک ساتھ شروع نہیں ہو سکتے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عالمی بینک بھاشا ڈیم کے لئے فنڈز مہیا نہیں کرے گا تو کیا پاکستان کے پاس متبادل ذرائع دستیاب ہوں گے؟ فی الحال اس سوال کا جواب مشکل ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس لابی نے سال ہا سال تک کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی اور بالآخر وہ اسے رکوانے میں کامیاب ہو گئی، کہیں وہی لابی دیا میر بھاشا ڈیم کے خلاف تو متحرک نہیں ہوگئی؟ رُبع صدی سے زیادہ عرصے تک پاکستان کالا باغ ڈیم کی سیاست میں اُلجھا رہا، نہ تو کالا باغ ڈیم بنا اور نہ ہی کوئی دوسرا ڈیم ۔

طویل عرصہ ضائع ہونے کے بعد جب دیا میر بھاشا ڈیم بنانے کا فیصلہ ہو گیا تو اب اگر اسے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے روکنا یا مو¿خر کرنا پڑا تو یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہو گی۔ اس وقت پاکستان میں اندھیروں کا راج ہے، بجلی مل نہیں رہی اور جو دستیاب ہے اُس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ادائیگی حکومت کے لئے بھی مشکل ہو رہی ہے اگر اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ایک وقت میں اتنی مہنگی بجلی ناقابل برداشت ہو جائے گی، نتیجے کے طور پر چوری میں اضافہ ہو گا، جو اب بھی کم نہیں۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے ابھی گزشتہ روز ہی پی اے سی کو بتایا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں صرف40فیصد بل وصول ہوتے ہیں۔ اِن حالات میں یہ ضروری ہے کہ حکومت وضاحت کرے کہ اگر عالمی بینک نے فنڈنگ روکی تو دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے متبادل ذرائع سے فنڈز کا انتظام کیا جائے گا۔ کالا باغ ڈیم کے خاتمے کے بعد بھاشا کی تعمیر میں تاخیر ہماری ناکامیوں میں ایک اور اضافہ کر دے گی اور یہ سوال بھی پیدا کر دے گی کہ کیا پاکستانی قوم اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے قابل بھی رہ گئی ہے یا نہیں؟

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...