شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 29

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 29

  



مارچ کی آخری تاریخیں تھیں کہ ان آدم خور وں کے بارے میں مجھے ایک اور اطلاع موصول ہوئی۔ان تینوں نے مل کر مڑھی کے دو آدمیوں کو کھا لیا تھا۔گویابتدریج ان کی جرات میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔اگر حالات سازگار ہوتے تو ان شیروں کی ہلاکت کے لیے دور دور سے شکاری آتے ۔حکومت کی طرف سے معقول انعامات مقرر کیے جاتے اور ان کی ہلاکت میں اتنی تاخیر نہ ہوتی۔لیکن سارے ملک میں افراتفری کی وجہ سے شکاریوں کی آمد قطعی بند تھی۔مقامی شکاری بھی کچھ سناٹے کے عالم میں تھے ۔بس،ایک میں تھا،جس کی لَو اِدھر لگی تھی۔

اپریل کے پہلے ہفتے میں بھوپال سے روانہ ہوا اور اسی روز دوپہر کوکراریہ ہوتا ہوا مڑھی پہنچ گیا۔۔۔مڑھی سے چند میل آگے ہی میں ایک دفعہ ایک آدم خور کو ہلا ک کر چکاتھا ۔پھر کچھ روز قبل یہیں دو آدمی مارے گئے تھے ۔اس لیے میں نے ایک روز یہاں ٹھہر کر واقعات کا مطالعہ کیا اور جنگل کا چکر لگا کر مختلف مقامات دیکھے۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 28 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہاں مزید قیام بے سود تھا ۔کیونکہ آدم خور شیر جس علاقے میں ایک واردات کرلیں ،وہاں سے فوراًرفُو چکر ہوجاتے ہیں اور کافی عرصے تک پھر ادھر کا رُخ نہیں کرتے۔یہ آدم خور کی ایک ادنٰی چالاکی ہے۔ان کی اس عادت کے پیشِ نظران آدم خوروں کی موجودگی بعید از قیاس تھی۔لہٰذا میں دوسرے روز صبح دس بجے بیل گاڑی سے جھولا بن کی طرف روانہ ہوئے۔دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک ہماری گاڑی نالے کے کنارے کنارے چلتی رہی ۔دو ریچھوں نے غالباًفِطری نا سمجھی کی بنا پر دو میل تک گاڑی کا تعاقب کیا۔اس کے بعد جنگل کی طرف گھوم گئے۔

ابھی گاڑی جھولا بن سے دو تین میل ادھر ہی تھی کہ ایک مقام پرمور کی آواز نے مجھے چوکنا کردیا۔۔۔اس مقام پر جنگل گھنا تو نہیں تھا ،لیکن چھوٹے بڑے پہاڑی ٹیلے اور مختلف حجم کی چٹانیں جا بجا پھیلی ہوئی تھیں ،جن کے درمیان شریفے کے چھدرے جنگل تھے۔جھاڑیاں بھی زیادہ نہیں تھیں۔لیکن جس سمت سے مور کی آواز آئی تھی ،اس طرف لہسوڑے ،جنگلی بیر اور مہوے وغیرہ کے اونچے اونچے درخت تھے۔۔۔۔البتہ جھاڑیاں اس جانب بھی کم نظر آتی تھیں ۔

بعض اوقات تو قدرت اس قدر مہربان ہوجاتی ہے کہ تعجب ہوتا ہے۔۔۔مور کی آواز سے میں نے بہت کچھ اندازہ لگا لیا تھا۔۔۔۔اور ابھی رائفل اٹھانے کا ارادہ ہی کر رہا تھا کہ ایک لنگور نے جانی پہچانی آواز میں اپنے ساتھیوں کو شیر کی موجودگی سے مطلع کیا۔۔۔لنگور کی یہ آواز بعض وقت شکاری کی بڑی مددگار ثابت ہوتی ہے۔بہرحال یہ آواز سننے کے بعد میں نے بالکل غیر ارادی طور پر رائفل اٹھا کر سیفٹی کیچ کھولے اور ہوشیار ہو بیٹھا۔۔۔مجھے دیکھ کر دلاور نے بھی شاٹ گن کے گھوڑے چڑھا لیے۔۔۔۔میں گاڑی بان کے بالکل پیچھے بیٹھا سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا اور دلاور گاڑی کے عقبی حصے کی طرف منہ کیے پشت کی رکھوالی کر رہا تھا۔

ابھی گاڑی مشکل سے بیس گز ہی گئی ہوگی کہ شیر کے حملے کی آواز آئی۔۔۔شدید قسم کی خوفناک گرج جسے بادلوں کے دل ہلا دینے والے دھماکے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ۔۔۔اور فوراًہی زرد رنگ کا ایک شیر ۔۔۔تیر سے بھی زیادہ تیز ۔۔۔۔جھاڑی سے نکل کر گاڑی کی طرف آتا نظر آیا۔

شیر کے حملے کی آواز سے اعصاب پر جو اثر ہوتا ہے،اس کے زائل ہوتے ہی میں نے شیر کا نشانہ لیا۔اس وقت وہ گاڑی سے بمشکل بیس گز پر ہوگا ۔۔۔اور غالباًپہلی جست ختم کرکے دوسری جست کے لیے زمین پر اتراہی تھا کہ جھاڑی میں سے دوسرا شیر نکلا اور اسی سرعت سے گاڑی کی طرف بڑھا۔

میں نے فورََ ا ٹر یگر دبا یا۔الحمدللہ کہ گولی عین دل میں اْتر گئی اور شیر وہی گِر گیا۔

رائفل کے دھماکے سے بیلوں کو خطرے کا احساس ہْوا اور وہ یکبارگی سِیدھے بھاگ کھڑے ہْوئے۔راستہ ناہموار تھا۔گاڑی اْچھل رہی تھی اور اْس کے ہردم اْلٹنے کا ڈر تھا کہ دلاور زور سے چِیخا’’صاحب !شیر آگیا۔!‘‘مَیں نے گْھوم کر پیچھے دیکھا۔ایک بڑا شیر آہستہ سے پندرہ گز کے فاصلے پر پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔

میں جانتا تھا کہ وہ حملہ نہیں کرے گا۔کیونکہ اْسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اْچھلتی کْودتی گاڑی میں کوئی بیٹھا نہیں رہ سکتا۔یا تو گاڑی اْلٹ جاتی ہے اور یا گاڑی کی اْچھل کْود سے اْس میں بیٹھے ہْوئے لوگ باہر جا پڑتے ہیں۔شیر اسی موقعے کامنتظر تھا کہ گاڑی میں سے کوئی گِرے اور وْہ لْقمہ تر بنالے۔میں نے گاڑی والے کو ڈانٹا کہ وہ بیلوں کو روکے۔تعجب کی بات تو یہ تھی کہ فائر ہو جانے اور ایک شیر کے گر جانے کے بعد بھی دْوسرا شیر مطلق خوف زدہ نہ ہوا۔اس کے بر عکس وہ گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا۔

اس پریشانی کے عالم میں مجھے خیال آیا کہ اتنے کم فاصلے سے شیر کوہلاک کرنے کے لئے تین سو پچھترمیگنم کافی نہیں۔لہذا میں نے ہاتھ کی رائفل رکھ کر قریب رکھی ہوئی دہ نالی چار سو پچاس ایکسپریس اْٹھا کر گھوڑے چڑھائے اور اسی اْ چھلتی کودتی حالت میں شیر کے جھکے ہوئے سر سے ذرا اْوپر نشانہ لے کر فائر کر دیا۔گولی ذرا دائیں کو ہٹ کر زمین پر پڑی۔لیکن اس فائر کی آواز سے شیر اپنی جگہ پر ہی رک گیا۔اسی وقت سڑک پر گرے ہوئے ایک درخت کی شاخوں اور تنے میں گاڑی کے پہیے پھنس گئے اور گاڑی رک گئی۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 30 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری