افواج پاکستان سے امن و امان کے قیام کا کام لیا جا سکتا ہے

افواج پاکستان سے امن و امان کے قیام کا کام لیا جا سکتا ہے
افواج پاکستان سے امن و امان کے قیام کا کام لیا جا سکتا ہے

  

بدقسمتی سے اس وقت سارا پاکستان خوفناک بدامنی اور لاقانونیت کا شکار ہو چکا ہے۔ ملک کی سالمیت اور حاکمیت اعلیٰ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بھارت سے اس وقت میں اتنا خطرہ نہ ہے جتنا کہ اندرون ملک سے ہے۔ ہمارے ملک کی بنیادیں لگاتار کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم سب دن رات یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے ہم وطن موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے محض تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ہمارے آئین اور قانون کا یہی تقاضہ ہوتا ہے کہ جب کبھی حکومت کی رٹ ناکارہ اور بے اثر ہو جائے تو ملک کے دوسرے ادارے حرکت میں آجاتا کرتے ہیں۔ ہماری پولیس مکمل طور پر بے بس ہوگئی ہے۔ اسی طرح رینجرز بھی امن کی بحالی میں کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں کرسکے۔ فوری طور پر پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ اس ا جلاس میں صرف اور صرف ایک ہی ایجنڈا پر بحث کی جائے کہ ہم کس طرح ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کر سکتے ہیں۔ یہ اجلاس اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک کہ ہماری پارلیمینٹ کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہ کر لے۔ اس اجلاس میں افواج پاکستان کو بھی امن کی بحالی کے لئے بلائے جانے کے امکانات پر غور کیا جائے۔ ایسے کیا جانا آئین اور قانون کے تحت میری رائے کے مطابق ممکن ہے۔ افواج کا کام بلاشبہ بیرونی اور اندرونی دونوں خطرات سے نمٹنا ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں بات قطعی طور پر بے معنی ہوگئی ہے کہ اگر فوج آئی تو وہ واپس نہ جائے گی۔ سوات میں فوج نے کارروائی کی تھی، امن بحال ہوگیا تھا۔ فوج پھر واپس چھاو¿نیوں میں چلی گئی تھی۔ آخر فوج ہماری اپنی ہے۔ افواج بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ ایک دن بھی غیر ضروری طور پر چھاو¿نیوں سے باہر نہ رہ سکتی ہے۔ بدامنی ہمارے وطن کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتی ہے۔ قوم خوفزدہ ہوگئی ہے۔ بلاوجہ لوگ موت کا تر نوالہ بن رہے ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ میں بہت خون بہہ چکا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت تو مجھے روز روشن کی طرح نظر آتی ہے کہ ہماری اندرونی بدامنی میں بھارت کے ہاتھ لگاتار کام کر رہے ہیں۔ ہر صورت میں ہمیں اپنی آزادی اور خود مختاری کی خاطر ایسی تمام ملک دشمن کارروائیوں کا خاتمہ جلد از جلد کرنا ہوگا۔ بھارت کو خبردار کرنا پڑے گا کہ وہ ہمارے اندرونی حالات میں مداخلت کو بند کر دے۔ طالبان یا اس قسم کے تمام عناصر کا رخ کشمیر کی طرف موڑ دیا جائے۔ بھارت آئے دن بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ ہمارا مقدس فرض نہ ہے کہ ہم اپنے ہی کشمیری بھائیوں کو بھارت کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے قدمے درمے سخنے دن رات کام کریں۔ ہماری حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں از سر نو پوری تیاری سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہوگا۔ کشمیری لوگ مظلوم ہیں۔ وہ بھارتی غلامی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بھارت کی آٹھ لاکھ کے لگ بھگ کیل کانٹے سے لیس ہو کر افواج ریاست جموں و کشمیر کے کونے کونے میں مورچہ زن ہیں۔

بھارت نے مسئلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو دوبارہ اقوام متحدہ میں لے جانا ہوگا۔ پہلے تو1948ءمیں بھارت خود مسئلہ کشمیر کو یو این او میں لے کر گیا تھا۔ اب کی بار ہمیں مسئلہ کشمیر کو اقوام عالم کے پاس لے کر جانا ہوگا۔ کشمیریوں کے انسانی حقوق کو بھارت دن رات پامال کر رہا ہے۔ اس کو ایسا کرنے سے کوئی بھی روکنے والا موجود نہ ہے۔ ہمارے قبائلی لوگ بھی خاموش تماشائی بن گئے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم سب ایک ہو جائیں اور کشمیر کی آزادی کے لئے بھارت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے، جب بھارت کو کشمیر خالی کرنا پڑے گا۔ امریکہ جیسی سپر پاور کو ویت نام خالی کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح دنیا کی دوسری سپر پاور روس کو بھی افغانستان کو خالی کرنا پڑا تھا۔ یہ کل کی دونوں مثالیں ہمارے سامنے پڑی ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی آزادی سے قبل کشمیری ڈوگروں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے۔ موجودہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد اسی کوشش کا تسلسل ہے۔ وہ وقت قریب تر ہے جب کشمیریوں کی جدوجہد کامیاب ہوگی۔ ہم کبھی بھی کسی صورت مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

ذرا سوچیں کہ آج کل پاکستان میں پانی کی کمی کیوں ہے؟....لوڈشیڈنگ نے ہماری ہر قسم کی انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اچانک گھریلو کام ہوتے ہوتے رُک جاتے ہیں۔ مَیں یہ کالم لکھ ہی رہا تھا کہ اچانک بجلی بند ہوگئی۔ لوڈشیڈنگ ہمارا روزانہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ بھارت نے ہمارے پانی کے چشمے کشمیر پر طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے۔ پانی اور بجلی کا قحط صرف اور صرف اس وقت ختم ہوگا، جب بھارت کا ناجائز اور غیر اخلاقی کشمیر پر قبضہ ختم ہوگا۔ یہ نوشتہءدیوار ہے۔ کشمیر سے ہماری زندگی وابستہ ہے۔ کشمیر آزاد ہوگا تو ہم خوش حال اور مکمل طور پر بحال ہوں گے۔ کشمیر میں بھی بدامنی اور قتل و غارت بھارت نے پھیلایا ہوا ہے۔ پاکستان کے دروازے کھلتے ہی کشمیر شروع ہو جاتا ہے۔ ذرا سیالکوٹ کو دیکھ لیں کہ وہاں سے کشمیر کتنا دور واقع ہے۔ جموں شہر تو سیالکوٹ سے چند میل دور واقع ہے۔ وہاں سے سری نگر کا سفر بھی چند گھنٹوں میں شروع ہو کر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سری نگر سے راولپنڈی کی طرف جاتے ہوئے مظفر آباد پہلا پڑاو¿ ہے۔ چکار سے آگے وادیءکشمیر شروع ہو جاتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں مسلمان صدیوں سے آباد چلے آ رہے ہیں۔وہ ہر لحاظ سے پاکستان کا جُزولاینفک نظر آتا ہے۔ مَیں خود کشمیر سے آیا ہوں۔ بھارتی قبضہ کی وجہ سے مَیں اپنے وطن کشمیر نہیں جا سکتا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔

افواج پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کی ضامن ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لوگوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے بے حساب قربانیاں دی ہیں۔ وہ لوگ اب بھی کشمیر کی آزادی کی تڑپ اور جذبہ اپنے دلوں کے اندر رکھتے ہیں۔ ہماری بہادر افواج کشمیر کے چپہ چپہ پر مورچہ زن ہیں۔ کشمیر ایک سلگتی ہوئی چنگاری ہے، جس سے کسی وقت بھی برصغیر پاکستان اور بھارت کا امن خاک و خاشاک میں بدل سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو ہر صورت میں کشمیریوں کی مرضی اور خواہش کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ بھارت کبھی کسی خوش فہمی کا شکار نہ بنے کہ وقت کے گزر جانے سے مسئلہ کشمیر کمزور پڑ جائے گا۔ مسئلہ کشمیر تو ہر نئی صبح کو بھرپور تازگی سے ابھرتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں کشمیر سے اپنی اپنی افواج کو واپس بلا لیں۔ اس طرح کشمیریوں کو خود بخود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ میرا یقین ہے کہ کشمیر میں بھی امن و امان افواج پاکستان ہی قائم کریں گی۔ یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستان میں بے چینی اور بدامنی مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ جب مسئلہ کشمیر حق و انصاف کی بنیاد پر حل ہوگا تو برصغیر میں ہر طرف امن ہی امن ہوگا۔”پاکستان اور آزادی کشمیر زندہ باد“    ٭

مزید :

کالم -