والدین سے حسنِ سلوک ، قرآن و احادیث کی روشنی میں ۔۔۔!!!

والدین سے حسنِ سلوک ، قرآن و احادیث کی روشنی میں ۔۔۔!!!
والدین سے حسنِ سلوک ، قرآن و احادیث کی روشنی میں ۔۔۔!!!

  

اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں اپنی عبادت و بندگی کے متصل بعد انسان کو والدین کیلئے حُسن سلوک کا حکم دیا ہے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک تو رب کائنات ہے جس نے زمین بنائی،ہوا،پانی،سورج،چاند، ستارےوغیرہ پیدا کیے۔ آسمان سے بارش برسائی اور پھر انسان کی ساری ضروریاتِ زندگی زمین سے وابستہ کر دیں اور انسان کی پیدائش اور پرورش کا ظاہری سبب اسکے والدین کو بنایا۔۔۔

ماں راتوں کو جاگ کر بچے کے اپنا آرام اپنے بچے پر قربان کرتی ہے اور باپ اپنے بیٹے اور اسکی ماں کی اخراجات پورے کرنے کیلئے دن بھر محنت و مزدوری کرتا ہے۔۔۔ اگر اللہ تعالی نے والدین کے دل میں اُنکی اولاد کیلئے بے پناہ محبت اور ایثار کا جذبہ نہ رکھا ہوتا تو یقیناً بچہ کی صحیح معنون میں پرورش و تربیت نہ ہو پاتی۔۔۔اب اگر یہی بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں بے یار ومددگار چھوڑ دے،اُن کیساتھ حُسن سلوک سے نہ پیش آئے، انکی گستاخی و بے ادبی کرے تو اس سے زیادہ بے انصافی اور ظلم کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔؟؟؟

دینِ اسلام میں والدین کیساتھ حُسن سلوک کی شدید تاکید کی گئی ہے اور ان سے بد سلوکی کرنے سے منع کیا گیا ہے، اولاد پر والدین کا حق اتنا بڑا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حق کے ساتھ والدین کا حق بیان فرمایا ہے۔یعنی مخلوقِ خدا میں حقِ والدین کو باقی تمام حقوق پر ترجیح دی ہے، اسی طرح حضور نبی کریمﷺ نے بھی والدین کی نافرمانی کرنے اور اُنہیں اذیت و تکلیف پہنچانے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے،والدین سے بدسلوکی کرنے والے بدنصیب کو رحمت الٰہی اور جنت سے محروم قرار دیا ہے۔

قرآن کریم میں والدین سے حُسن سلوک کا حکم۔۔!!

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر والدین سے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشادِ ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ! اور اللہ کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین سے اچھا سلوک کرو۔( سورۂ نسآء آیت نمبر 36 ) اس آیت میں اللہ تعالی نے سب سے پہلے اپنا حق ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرنا اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا،اسکے بعد والدین کا حق ذکر فرمایا کہ اُن سے اچھا برتاؤ کرنا، پھر اسکے بعد رشتہ داروں، یتیموں،مسکینوں،مسافروں اور پڑوسیوں وغیرہ کا حق ذکر فرمایا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کے حق کے بعد سب سے پہلا حق والدین کا ہے،یعنی حقوق العباد میں سب سے مقدم حقِ والدین ہے۔۔۔

سورۂ انعام میں فرمایا ترجمہ!آپ ﷺ! ان سے کہہ دیجیئے،کہ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا کچھ حرام کیا ہے، اور وہ یہ ہےکہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور یہ کہ والدین کیساتھ اچھا سلوک کرو۔ (سورۂ انعام آیت نمبر 152) اس آیۂ مبارکہ میں اللہ تعالی نے ایک تو شرک تو حرام ٹھرایا اور دوسرا والدین کیساتھ حسن سلوک کا حکم دے کر انکی نافرمانی کرنے اور انہیں اذیت دینے کو حرام قرار دیا ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالی کے نزدیک والدین سے بدسلوکی کرنا ایک سنگین جرم ہے۔۔۔ 

اسی طرح سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا ترجمہ!اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو،اور والدین کیساتھ حُسن سلوک سے پیش آؤ،اگر اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور نہ ہی اُنہیں جھڑکو اور اُن سے احترام کیساتھ بات کرو۔ اور اُن پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے سامنے جھک کر رہو۔اور ان کے حق میں دعا کیا کرو کہ اے میرے رب!ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے رحمت و شفقت کیساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔(سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر 22-23)

 اس آیۂ مبارکہ میں بھی اللہ تعالی نے اپنے حق کے فورا بعد حقِ والدین کو بیان فرمایا۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح سب کا معبودِ حقیقی ایک ہی ہے اسی طرح ہر شخص کا باپ اور ماں بھی ایک ہی ہے،یہ ایک بڑی مناسبت ہے والدین کو خالقِ حقیقی کیساتھ ، اس آیۂ مبارکہ میں اللہ تعالی نے ہر شخص کو والدین کیساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے پانچ باتوں کو لازم قرار دیا ہے۔

پہلی بات یہ کہ تم نے اُنہیں اُف تک نہیں کہنا، اُف سے مراد ہر تکلیف دہ اور ناگوار قول وفعل ہے جس والدین کو ذہنی یا روحانی اذیت پہنچے۔لہذا اولاد پر لازم ہیکہ والدین سے نرمی اور اچھے انداز میں بات کرے،یعنی والدین کی کوئی بات ناگوار بھی گزرے تو اولاد ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اُف تک نہ کہے۔ ۔۔دوسری بات یہ ہے کہ تم نے انہیں جھڑکنا بھی نہیں۔۔۔ یہ اس لئے کہ والدین کا مزاج بڑھاپے کی وجہ سے عام طور پر چڑچڑا سا ہو جاتا ہے۔۔۔اگر اولاد کو والدین کی کسی بات پر غصہ بھی آئے تو برداشت کرے،انہیں نہ جھڑکے اور نہ ڈانٹ ڈپٹ کرے۔۔۔ تیسری بات یہ کہ والدین سے بات کرو تو ادب واحترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بات کرو۔۔۔چوتھی بات۔والدین پر رحم و ترس کرتے ہوئے اُن کے سامنے عاجزی و انکساری کیساتھ جھک کر رہو۔بعض حضرات کا کہنا ہےکہ جس طرح ایک چڑیا اپنے چوزوں کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتی ہے اور ہر طرح سے انکی حفاظت کرتی ہے،اسی طرح جب اولاد جوان ہو جائے اور والدین بوڑھے ہو جائیں تو اولاد ہر دم انکی حفاظت کرے،انکے سامنے نہایت عاجزی و انکساری کیساتھ رہے۔ ۔۔۔پانچویں بات یہ کہ ان سے اچھے برتاؤ کیساتھ ساتھ ان کیلئے دعا بھی کرتے رہو کہ اے میرے رب!ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے (محبت وشفقت کیساتھ) بچپن میں میری پرورش کی۔۔۔۔

والدین اگرچہ غیر مسلم بھی ہوں تو انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ ارشادِ ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ! ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق (اچھے سلوک کی) نصیحت کی ہے۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر۔(تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ہاں دنیا میں ان کے ساتھ (حُسن سلوک سے پیش آنا) اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو۔تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا۔(سورۂ لقمان آیت نمبر 13-14)

 احادیث مبارکہ کی روشنی میں والدین سے حُسن سلوک سے پیش آنے کا حکم 

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے حضور نبی کریمﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں میرے حُسن سلوک کا مستحق کون ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں ۔۔۔ اس نے کہا پھر کون۔۔۔؟آپﷺ نے فرمایا تمہاری ماں۔۔۔اس نے پھر کون ؟ آپﷺ نے فرمایا تمہاری ماں ۔۔اس نے کہا پھر کون؟ (چوتھی بار) آپﷺ نے فرمایا تمہارا باپ.(بخاری شریف 5971-مسلم شریف 2548)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہیکہ میں نے حضور نبی کریمﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالی کو کون سا عمل محبوب ہے؟تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا بروقت نماز ادا کرنا۔میں نے عرض کیا پھر کونسا ؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا والدین سے نیکی کرنا۔میں نے عرض کیا پھر کونسا ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنا۔(بخاری شریف 5970 , مسلم شریف 85)

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے جہاد کیلئے اجازت طلب کی تو آپﷺ نے فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟ اس شخص نے عرض کیا جی ہاں۔ تو آپﷺ نے فرمایا پھر انہی کی خدمت کر کے جہاد کر۔ (بخاری شریف 5972)۔ 

دوسری روایت میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا میں ہجرت اور جہاد پر آپﷺ کی بیعت کرتا ہوں اور میں اس پر صرف اللہ تعالی سے اجر کا طلبگار ہوں،آپﷺ نے فرمایا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی موجود ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں دونوں زندہ ہیں۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم اللہ تعالی سے اجر کے طالب ہو ؟اس نے عرض کیا جی ہاں، آپﷺ نے فرمایا اپنے ماں باپ کے پاس واپس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔(مسلم شریف 2549)

فرمان نبویﷺ!والدین کے قدموں تلے جنت ہے

حضرت معاویہ بن جاھمہ رضی اللہ عنھما کا بیان ہےکہ حضرت جاھمہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہﷺ!میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپﷺ سے مشورہ لینے آیا ہوں آپﷺ نے فرمایا کیا تمہاری ماں(زندہ) ہے ؟انہوں نے کہا جی ہاں تو آپﷺ نے فرمایا ماں کی خدمت میں لگے رہو کیونکہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔(نسائی جلد 2 ۔ 3104, ابن ماجہ 2781) اور دوسری روایت میں ہےکہ آپﷺ نے حضرت جاھمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں تو آپﷺ نے فرمایا جاؤ انہی کی خدمت میں لگے رہو کیونکہ جنت ان کے قدموں کے نیچے ہے۔(طبرانی جلد 2-ص 289،الترغیب والترہیب 2485) 

والدین سے بدسلوکی کرنے والے کیلئے ہلاکت و تباہی

حضور نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو بدنصیب قرار دیا جو والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پا کر بھی جنت میں داخل نہ ہو سکے،حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا !اس شخص کی ناک خاک میں ملے،اس شخص کی ناک خاک میں ملے،اس شخص کی ناک خاک میں ملے۔۔۔!! ( تین مرتبہ فرمایا ) پوچھا گیا؛اے اللہ کے رسولﷺ!کس کی (ناک خاک میں ملے )؟ تو آپﷺ نے فرمایا جس نے ماں باپ دونوں کو یا اُن میں سے کسی ایک کو بحالتِ بڑھاپا پایا اور پھر جنت میں داخل نہ ہو سکا۔(یعنی انکی خدمت کر کے یا اُنہیں راضی رکھ کر جنت کا حقدار نہ بن سکا)۔ (مسلم شریف 2551) 

والدین کی خدمت پر خدائی انعام

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ! میں جنت میں گیا تو وہاں میں نے قرآت سنی ، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟تو جواب ملا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ،پھر آپﷺ نے فرمایا(ماں باپ سے)نیکی اسی طرح ہوتی ہے۔(ماں باپ سے)نیکی کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔(یعنی وہ اپنی والدین کیساتھ حُسن سلوک سے پیش آتے تھے)۔ (البخاری فی خلق افعال العباد جلد 1 صفحہ 109,مصنف عبدالرزاق,احمد فی المسند جلد 6, صفحہ 151-166,الحاکم جلد 4, 4982,شرح السنتہ جلد 13, 3419)

والدین سے حُسن سلوک کرنا گناہوں کا کفارہ ہے

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا" میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا توبہ کی کوئی صورت ہے۔؟آپ ﷺ نے پوچھا!کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟اس شخص نے عرض کیا نہیں"آپ ﷺ نے فرمایا!کیا تمہاری خالہ ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں!آپﷺ نے ارشاد فرمایا جاؤ اس سے جا کر حُسن سلوک کرو۔( اللہ تعالی تجھے معاف فرما دینگے)(سُننِ ترمذی،صحیح الترغیب والترھیب للالبانی 2504)

والدین کی رضا میں اللہ تعالی کی رضا ہے۔۔۔۔

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا رب تبارک وتعالی کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے اور رب تبارک وتعالی کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔ (صحیح الترغیب والترھیب للالبانی 2503)

والدین سے حُسن سلوک کرنے سے عمر میں برکت اور رزق میں فراوانی آتی ہے۔۔۔!!!

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جس کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ اسکی عمر لمبی( برکت والی )کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ والدین سے اچھا برتاؤ کرے اور اپنے رشتہ داروں کیساتھ صلہ رحمی کرے۔ (صحیح الترغیب والترھیب للالبانی 2488)

والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہے

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤ۔۔؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسولﷺ!پھر آپ ﷺ نے یہی سوال تین بار کیا اس کے بعد فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی(نافرمانی سے مراد ان سے بدسلوکی اور انہیں اذیت دینا مراد ہے)کرنا اور انہیں اذیت پہنچانااور آپﷺ لیٹے ہوئے تھے،پھر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خبردار!جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی(سے بچنا)،خبردار!جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی(سے بچنا)، آپﷺ اسی طرح بار بار فرماتے رہے،حتّٰی کہ ہم(دل) میں کہنے لگے کاش! آپﷺ خاموش ہو جاتے۔(بخاری شریف 5976,مسلم شریف الایمان 86) 

والدین سے بدسلوکی کرنے والا نظرِ رحمت اور جنت سے محروم

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہےکہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالی روزِ قیامت تین قسم کے لوگوں کیطرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرے گا،والدین کا نافرمان(ان سے بدسلوکی کرنے والا)ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا اور احسان جتانے والا۔اور تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہونگے؛والدین کا نافرمان اور اُنہیں اذیت پہنچانے والا،دیوث(جس گھر میں بدکاری ہو رہی ہو اور وہ اُسے خاموشی سے دیکھتا رہتا ہو۔) اور وہ عورت جو مردوں جیسی وضع قطع بناتی اور ان سے مشابہت اختیار کرتی ہو۔(صحیح الترغیب والترھیب 2511،و نسائی والحاکم)

والدین کے نافرمان کیلئے سخت وعید

حضرت عمرو بن مرہ الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک شخص حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسولﷺ!میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور میں پانچ نمازیں پڑھوں گا،اپنے مال سے زکوتہ ادا کرونگا اور رمضان کے روزے رکھوں گا تو آپﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر فرمایا جس شخص کی موت اسی پر آئے گی وہ روزِ قیامت نبیوں(علیھم السلام)صدیقوں اور شھیدوں کیساتھ ہو گا بشرطیکہ اس نے والدین کے نافرمانی اور ان سے بدسلوکی نہ کی ہو۔(ابن حبان جلد 8. 3438 ,صحیح الترغیب والترھیب 2515)

والدین کے نافرمان کیلئے رسول اللہﷺ کی بددعا

حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہےکہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ منبر پر جلوۂ افروز ہوئے اور آپﷺ نے تین مرتبہ (آمین )فرمایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبریل(امین علیہ السلام) آئے اور انہوں نے آ کر کہا اے محمد ﷺ! جو آدمی اپنے والدین (دونوں یا ان )میں سے کسی ایک کو پائے ( پھر ان سے نیکی نہ کرے ) پھر وہ مر جائے اور جھنم میں چلا جائے تو اللہ تعالی اُسے (اپنی رحمت سے ) دور کر دے۔آپ ﷺکہیں آمین تو میں نے کہا آمین، پھر انہوں نے کہا اے محمدﷺ ! جس شخص نے ماہ رمضان پایا پھر وہ اس حالت میں مر گیا کہ اسکی مغفرت نہیں کی گئی اور وہ جھنم میں داخل ہو گیا تو اللہ اُسے بھی (اپنی رحمت سے) دور کر دے۔آپ ﷺ کہیں آمین، میں نے کہا آمین ، انہوں نے کہا کہ جس شخص کے پاس آپ ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اُس نے آپ ﷺ پر درود نہیں پڑھا پھر اُسکی موت آگئی اور وہ جھنم میں چلا گیا تو اللہ تعالی اُسے بھی (اپنی رحمت سے ) دور کر دے۔آپﷺ کہیں آمین تو میں نے کہا آمین ۔ (ابن حبان ج 3,صفحہ 188, 907 -صحیح الترغیب والترھیب 2491)

والدین کی خدمت کرنے والی کی دعا قبول ہوتی ہے

حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہےکہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا!تین آدمی پیدل جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہو گئی،جسکی وجہ سے انہیں پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لینا پڑی۔جب وہ غار کے اندر چلے گئے تو پہاڑ سے ایک پتھر غار کے منہ پر آ گرا جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔اب وہ آپس میں کہنے لگے،دیکھو! وہ نیک(صالح) اعمال جو تم نے خالصتاً اللہ تعالی کی رضا کیلئے کئے ہوں،آج انہی اعمال کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کر کے دعا کرو،شاید وہ ہمیں اس مشکل سے نجات دے۔۔۔۔!!! چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے دعا کرتے ہوئے کہا۔۔۔

اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں بکریاں چراتا اور انکے لئے دودھ لیکر آتا۔اور شام کو جب میں واپس گھر لوٹتا اور سب سے پہلے اپنے (بوڑھے) والدین کو دودھ پیش کرتا،پھر اپنے بچوں کو دیتا۔ ایک دن میں چراہگاہ دور ہونے کی وجہ سے گھر تاخیر سے پہنچا۔تو میں نے دیکھا کہ میرے والدین سو چکے ہیں، میں نے دودھ لیا تو ان کے سر کے قریب کھڑا ہو کر انکے جاگنے کا انتظار کرنے لگا اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ خود انہیں جگاؤں،اور میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں حالانکہ بچے بھوک کی وجہ سے میرے پیروں کے قریب بلبلا رہے تھے،لہذا میں اسی طرح اُن کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا،وہ سوئے رہے اور بچے بلبلاتے رہے حتّٰی کہ طرح فجر ہو گئی۔(اے اللہ!) تجھے معلوم ہے کہ میں نے وہ عمل صرف تیری رضا کیلئے کیا تھا۔لہذا تو اس پتھر کو اتنا ہٹا دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں۔۔۔۔۔چنانچہ اللہ تعالی نے اسکی دعا قبول کی اور اس پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ وہ آسمان کو دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔

باقی دو آدمیوں میں ایک نے اپنے مزدور کیلئے حُسن سلوک کی نیکی پیش کرتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا کی تو وہ پتھر تھوڑا سا اور کھسک گیا لیکن اب بھی وہ باہر نہ نکل سکتے تھے۔اب تیسرے آدمی نے دعا کی،تو اس نے اپنی ایک چچا زاد سے محبت کا ذکر کیا جس میں نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ وہ اس سے بدکاری کرنے کے عین قریب پہنچ گیا۔لڑکی نے اسے اللہ تعالی سے ڈرنے کا کہا تو اس نے بدکاری کا ارادہ ترک کر دیا۔چنانچہ اللہ تعالی نے اس پتھر کو غار کے منہ سے مکمل طور پر ہٹا دیا۔(بخاری شریف 5974، مسلم شریف 3743 )

لہذا ! ہمیں چاہیئے کہ ہم اللہ تعالی اور رسول اللہﷺ کا حکم سمجھتے ہوئے اپنے والدین کی خدمت کرنے کو اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھیں۔ان سے ادب واحترام سے پیش آئیں ان پر اپنا مال خرچ کریں اور انکی رضا و خوشنودی میں اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی تلاش کریں۔۔۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -