جدید ٹیکنالوجی کا شرمناک مقاصد کیلئے استعمال،نئی صنعت نے جنم لے لیا

جدید ٹیکنالوجی کا شرمناک مقاصد کیلئے استعمال،نئی صنعت نے جنم لے لیا
جدید ٹیکنالوجی کا شرمناک مقاصد کیلئے استعمال،نئی صنعت نے جنم لے لیا

  


لاس اینجلس (نیوز ڈیسک) انٹرنیٹ کے ذریعے فحش فلموں کی بہتات اور حقیقی دنیا کی بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے تعلقات کے مضر اثرات پر بحث پہلے ہی جاری تھی کہ اب ایک نیا اور بڑا مسئلہ کھڑا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ صحافی جوفورٹرز نائٹ نے حال ہی میں امریکی شہر لاس اینجلس میں سیکچوئل ریکوری انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا اور یہ معلوم کیا کہ کس طرح اب سماجی اور جنسی تعلقات کو ڈیجیٹل شکل دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دو ر میں انسان حقیقی دنیا میں باہم تعلقات کی بجائے کمپیوٹر پر نظر آنے والے 3D انسانوں کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہوں گے۔

اداکارعامر خان نے برہنہ فوٹو شوٹ کے پیچھے چھپی منطق بتادی

اس مقصد کیلئے ورچوئل رئیلٹی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور گوگل گلاس اور Oculus Rift ورچوئل رئیلٹی کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ایسا نظام تیار کیا جا رہا ہے جو سینکڑوں ہزاروں میل کی دوری پر واقع افراد کو ایک دوسرے کے سامنے ایسے دکھائے گا گویا کہ وہ واقعی ایک ہی جگہ موجود ہوں۔ ورچوئل جنسی مواد تیار کرنے والی کمپنیاں ماڈلز کی سکیننگ کر رہی ہیں تاکہ ان کے 3D ماڈل بنائے جا سکیں۔ یہ 3D ماڈل گوگل گلاس نامی ڈیجیٹل چشمے اور آکولس ہیڈ سیٹ جیسی ٹیکنالوجی کو آنکھوں کے سامنے لگا کر ایسے ہی دیکھے جا سکتے ہیں جیسے کوئی حقیقی طور پر آپ کے ساتھ موجود ہو۔

جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی نوجوان لڑکی آخری سانسیں بھرتی اپنا انتقام لے گئی

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہمیں حقیقی انسانوں کی بجائے مصنوعی انسانوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی لت میں مبتلا کر دے گی اور اس کی وجہ سے نفسیاتی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو گا۔

نوٹ: خبر کے اندر موجود رنگین لائنیں دوسری خبروں کی متعلقہ سرخیاں ہیں ، خبر پڑھنے کیلئے رنگین لائن پر کلک کریں تو اسی صفحے پر یہ خبر بند ہوکر متعلقہ خبر کھل جائے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...