بھارت کی نئی شرارت، پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب ایک اور ملک میں فوجی اڈے بنانے کی کوشش شروع

بھارت کی نئی شرارت، پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب ایک اور ملک میں فوجی اڈے ...
بھارت کی نئی شرارت، پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب ایک اور ملک میں فوجی اڈے بنانے کی کوشش شروع

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی خطے کا تھانیدار بننے کی خواہش پہلے بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی لیکن اب برطانیہ کے اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ نے بھی بھارت کی ناپاک خواہش کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے جو شاید خطے میں کسی بڑی جنگ پر منتج ہو۔ ڈیلی میل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی مشرق وسطیٰ تک اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے بے چین ہیں اور اپنی اس خواہش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تاجکستان میں موجود روس کی خالی کردہ ایئربیس حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نریندر مودی جو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے 8روزہ دورے پر ہیں آج تاجکستان پہنچ چکے ہیں جہاں 2روزہ قیام کے دوران تاجک صدر ایمومالی راہمون سے یہ ایئربیس لیز پر حاصل کرنے کے لیے بھی بات چیت کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کے قریب واقع یہ ایئربیس مشرق وسطیٰ میں بھارت کے قدم جمانے میں بنیادی کردارادا کر سکتی ہے۔ بھارت نے 2007ء میں اس ایئربیس کی تعمیرِ نو کی تھی لیکن روسی دباؤ کے باعث وہ اپنی فضائیہ کو یہاں بھیجنے میں ناکام رہا تھا۔ سابق بھارتی ایئرمارشل پی وی نائیک نے ڈیلی میل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی غیر ملکی، خصوصاًمشرق وسطیٰ میں ایئربیس حاصل کرنا بھارت کے لیے بہت بڑی کامیابی ہو گی لیکن اس معاملے میں 2ممالک تاجکستان اور روس کا رضامند ہونا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں نوجوان لڑکے اور لڑکی کیساتھ انسانیت سوز سلوک،سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی جار ی کر دی

اس ایئربیس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں سے تاجک اور چین کا بارڈر محض 30منٹ کے فضائی سفر کے فاصلے پر ہے۔ اگر بھارت یہ ایئربیس حاصل کر لیتا ہے تو یہ چین کے لئے بھی باعث پریشانی ہوگا۔ ڈیلی میل نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھی تاجکستان پر دباؤ ہے کہ وہ بھارت کو ایئربیس لیز پر نہ دے۔ 2012ء میں پاکستان نے تاجکستان کو 2غیرفعال ایئربیسز فعال بنانے اور تاجک ایئرفورس کو مفت ٹریننگ دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔

مزید : بین الاقوامی