" لاحاصل باتیں " !!!

" لاحاصل باتیں " !!!

  

15 مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ میں انتہا پسند آسٹریلوی شخص " برینٹن ٹارنٹ " نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد " النور " اور " لنووڈ " پر اندھادھند فائرنگ کرکے 51 نمازیوں کو شہید اور 40 کو زخمی کردیا تھا اور اس قتل وغارت کے براہِ راست مناظر فیسبک پر بھی دکھائے تھے۔ 3 جولائی کو قاتل کو سزائے موت سنائی گئی , جس پرعملدرآمد 24 اگست 2020 کو ہوناہے ۔ یہ تھا ایک غیرمسلم ملک کا فوری انصاف اورمستحکم نظام عدل ۔ اگر اس کا تقابلی جائزہ لیاجائےتو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے انصاف اور نظام عدل کا تو صورتحال کافی مایوس کن ہے۔ اس ملک میں آئے روز کئی بے گناہ اور معصوم لوگ قتل ہوتےہیں مگر کہیں شنوائی نہیں ۔ 11مثال کےطورپرستمبر 2012 کا سانحہ بلدیہ فیکٹری کراچی ہوا , 17 جون 2014 کو سانحہ ماڈل ٹاون پیش آیا ۔ ان ہائی پروفائل مقدمات کی تحقیقات کےلیے جے آئی ٹیز بنیں مگر برسوں بیت جانے کے باوجود ہم کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام ہیں ۔ 8 برس بیت گئے مگر سانحہ بلدیہ فیکٹری کے ذمہ داران کیفرِکردار کو نہ پہنچ سکے اورنہ ہی 6 برس بیت جانے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاون کا مقدمہ منطقی انجام کو پہنچ پایا ۔ یہاں ایف آئی آرز کٹنے پر تکراریں ہوتی ہیں , جے آئی ٹیز بنتی اور کمیٹیاں بٹھائی جاتی ہیں , پھر برسوں رپورٹس بنانے میں بیت جاتے ہیں , جب رپورٹس بن جاتی ہیں تو انہیں پبلک کرنے یا نہ کرنے کےسیاسی فوائد و نقصانات دیکھےجاتے ہیں ۔ تحقیقاتی رپورٹس پبلک کروانے کےلیے عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔ پھر کہیں جاکر رپورٹس پبلک ہوتی ہیں تو ان کے درست یا غلط , سچ یا جھوٹ ہونے پر نئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ جے آئی ٹیز اور ان کی رپورٹس کو مستند یا غیر مستند ثابت کرنے کےلیے نئے سرے سے عدالتی پیشیاں بھگتنی پڑتی ہیں ۔ تمام تر ثبوتوں , اقبالِ جرم کے بیانات اور گواہان کے ہوتے ہوئے بھی توں توں میں میں کا یہ کھیل برسوں چلتا ہے۔ حتیٰ کہ متاثرہ فریق ان تفتيشوں , کمیٹیوں , جے آئی ٹیز اور عدالتی پیشیاں بھگتتے انصاف کے حصول کی امید کھو بیٹھتا ہے , گواہان خود بھی مقتول ہوچکے ہوتےہیں ۔ کبھی کبھار نمائشی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے , فردِ جرم عائد ہوتی اور سزائیں سنائی جاتی ہیں ۔ پھر ضمانتوں اور رحم کی اپیلوں کا نیا کھاتہ کھل جاتا ہے۔ اور پھر ایک دن اچانک ملزمان قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر باعزت بری ہوجاتے ہیں اور متاثرین منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ یہ کیسا نظام ہے؟ کہ جس میں لیاری گینگ وارکاسرغنہ 198 افراد کا قاتل , بھتہ خور اور ایرانی انٹیلیجنس کو حساس معلومات دینےوالا غدار " سردار عزیرجان بلوچ "پیپلز پارٹی کے اہم راہنماؤں سے ملاقاتوں , دعوتوں , فوٹو سیشنز, اور سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہا مگر پیپلزپارٹی پھر بھی اسے جانتی تک نہیں , کیا یہ محض اتفاق ہےکہ حکومت سندھ کی جانب سے " امن ایوارڈ 2012 " ایک شخص انجانےمیں لےاڑتاہے ؟؟؟ حتیٰ کہ ایک انجان شخص کےخلاف جے آئی ٹی رپورٹ دبادی گئی ۔ پھرعلی زیدی رپورٹ پبلک کروانے عدالت گئےتواس مبینہ طورپر ردوبدل کردیاگیاجبکہ ایسا ردوبدل قانوناً جرم ہے۔ میڈیا پر یہ بحث چھیڑ دی گئی کہ کون سچاہے اور کون جھوٹا ؟؟؟ اب معلوم نہیں کہ اس بےکاراوربےمقصد تکرار کا اختتام کہاں ہوگا؟؟؟ مگر صاف ظاہرہے کہ یہ بحث برائے پولیٹکل پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ کچھ نہیں , کسی کو پرواہ نہیں کہ سینکڑوں لوگوں کے قتل کے اس ہائی پروفائل مقدمے میں کسی کو سزا ہوگی بھی یا نہیں ؟؟؟

گویا پاکستان کا نظام , مغربی جمہوری ممالک کے مقابلے میں قطعی طورپر ناکام ہے۔ مغربی جمہوریت کےعلمبردار بتائیں کہ کیا مغربی جمہوریت میں ایسا ہوتاہے ؟؟؟ بالکل بھی نہیں بلکہ ایسا صرف " جنگل کے قانون "میں ہی ممکن ہے۔ ہم صرف خوابوں اور خیالوں کی دنیا کے باسی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک " نظام " قائم کیا ہوا ہے ۔ درحقیقت ہم کوئی " نظام " قائم کر ہی نہیں سکے اور نہ ہی ہم " قوم " بن سکے ہیں ۔ یہ تو لوگوں کا ایک ہجوم ہے , جو جس طرف چاہے ریوڑ کی طرح ہانک کر لے جائے ۔ جنہیں ہم اپنا قائد سمجھتے ہیں , وہ ہم سے " گڈریے" سا سلوک کرتےہیں ۔ کبھی قیادت کے نام پر کبھی سیاسی جماعت کےنام پر ہمیں ذہنی غلام بنایا جاتاہے ۔ ہماری حثیت کسی ریوڑ میں شامل بھیڑ جیسی ہے !!! ہم نسل در نسل ان غلام گردشوں میں بھٹک رہےہیں۔ ہماری جان و مال , عزت و آبرو کوئی معنی نہیں رکھتی نہ ہماری کوئی مرضی یا فیصلے کا اختیارہے ۔ ہمیں گاجر مولی کی طرح تفریحاً کاٹاجاتاہے ۔ سیاسی داداگیر ہم پر نیتاگیری کرتےہیں۔ ہمارےووٹ سے ایوانِ اقتدار تک پہنچتےہیں , ہمارے محصولات پر پلتے ہیں ۔ ہمارا خون چوسنے والی یہ جونکیں , جنہیں ہم خودپر آپ مسلط کرتےہیں , ہمارے خون کو مفت کا مال سمجھتے ہیں۔ غریب کا خون بہت سستا ہےبھئی , بہت بےوقعت , بہت بے قدر , بے حثیت , بے مول ۔ ارباب اختیار کےایوانوں سے آئےروز طنزیہ آتی تو ہیں کہ "جاو بھئی تمہارے خون کی رتی بھر بھی قیمت نہیں , بہتا ہے تو بہے , ہمیں کوئی غرض نہیں , ہمیں سیاست کی دوکان چمکانے دو , انصاف دینے کےلیے فالتو وقت نہیں ہمارے پاس " ہمیں کب سنائی دےگا ؟؟؟

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -