جنات کا غلام۔۔۔ساتویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔ساتویں قسط
جنات کا غلام۔۔۔ساتویں قسط

  

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

چھٹی قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ خاموش ہو گیا اور میں سوچنے لگا کہ صرف پچھلے چار دنوں میں میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا۔ بابا جی سرکار اور غازی کے معاملے میں کس قدر جذباتی ہو گیا تھا۔ اگرچہ ان سے ملاقات ایک اتفاق ہی تھا مگر یہ اتفاق تو میرے جیون کا سب سے قیمتی حصہ بنتا جا رہا تھا۔ بابا جی سرکار سے میری ملاقات چار دن پہلے ہوئی تھی۔ پہلے بھی میں بیان کر چکا ہوں کہ ان دنوں میں بی اے کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا۔ اپنے گھر میں رہ کر میرے لئے پڑھنا دوبھر ہو رہا تھا۔ دوست احباب کسی نہ کسی بہانے سے ملاقات کرنے آ جاتے تھے جس سے میری توجہ پڑھائی سے ہٹ جاتی تھی۔ گھر والوں کو یہی خدشہ تھا کہ یہی حال رہا تو بی اے میں بری طرح فیل ہو جاﺅں گا لہٰذا اس کا یہی حل سامنے آیا کہ میں ملکوال چلا جاﺅں۔ نہر کے کنارے بیلے کے اس پار یہ علاقہ دھان کی بھرپور فصلوں کے حوالے سے بھی معروف تھا کھلی فضائیں اور نہر سے آنے والی ٹھنڈی ہواﺅں سے اس گاﺅں کی فضا بہت ہی صحت افزا تھی۔ میرے لئے یہ گاﺅں کسی آئیڈیل مقام سے کم نہیں تھا۔ اس پر یہ کہ میرے دوست کی پرانی حویلی۔ اونچے اونچے کمرے ، ہوادان‘ بالکونیاں‘ کھلا باغیچہ‘ بڑا پرسکون اور اساطیری ماحول تھا اس حویلی کا۔ پھر اس حویلی کے مکیں .... ملک نصیر کی والدہ اور والد پرانے زمانے کی اقدار کا پیکر عظیم تھے۔ وہ علاقے کے بڑے زمیندار تھے مگر ان میں زمینداروں جیسی خو بو نہ تھی، نہایت خلیق ملنسار‘ مخلص اور انسانی اقدار کو سمجھنے والے .... ایک اور ہستی بھی اس حویلی میں رہتی تھی جس کی خاموش اور اداس سیاہ آنکھوں میں اس وقت زندگی روشن ہوتی تھی جب کبھی میں اس حویلی میں جاتا تھا۔ زلیخا .... کومل سی لڑکی۔ ملک نصیر کی بہن تھی۔ میرے اور اس کے درمیان ایک خوشگوار تعلق قائم ہو رہا تھا۔ زلیخا کی آنکھیں اور گھنے بال دیکھ کر کوئی گمان نہیں کر سکتا تھا کہ اس قدر مکمل حسن کی مالکہ ایک گاﺅں میں رہتی ہے۔ وہ مصری دوشیزہ دکھائی دیتی تھی۔ ملک نصیر کی والدہ کو زلیخا کی خاموشی اور اداسی بہت شاک گزرتی تھی اور وہ مجھے بھی اکثر کہہ دیا کرتی تھیں کہ بیٹے مجھے شک ہے میری زلیخا پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے۔ یہ بہت کم بولتی ہے۔ نہ سہیلیوں کے ساتھ کھیلتی ہے۔ سکول جاتی ہے تو آ کر بھی کتابوں میں غرق رہتی ہے۔ نہ جانے اسے کون سا روگ ہے۔

زلیخا کا روگ کوئی نہیں جان سکا تھا،میں بھی۔۔۔لیکن میں اتنا سمجھ سکتا تھا کہ یہ اداس آنکھیں کبھی کبھی روشن ہوتی ہیں،خاموش زباں کو الفاظ ملتے ہیں۔۔۔۔۔مگر ہم روائتوں میں بندھے اپنی اداسیوں اور خاموشیوں کو برقرار رکھنے سے گھبراتے ہیں۔۔

میں جب اس شام ملکوال گیا تو ایک آئیڈیل ماحول کا خیال میرے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ میرے اندر یہ احساس بھی تھا کہ حویلی کے سحرزدہ اور پرسکون ماحول میں زلیخا کا وجود اور اس کی سانسیں میرے لئے سکون کا باعث بن سکتی ہیں۔لیکن اس بار میں جب ملک نصیر کی حویلی پہنچا تو اس بار حالات مختلف تھے۔ نصیر مجھے دیکھ کر باقاعدہ پریشان ہو گیا تھا۔ اس کے ملنے میں نہ والہانہ پن تھا نہ پذیرائی۔ میں حیران ہوا تو اس نے میری حیرانی دور کر دی اور بتایا کہ ان کے جاننے والوں کے حوالے سے لاہور سے ایک پیر صاحب ان کے گھر آئے ہیں۔ والدہ زلیخا کے روگ کو دور کرانے کے لئے ان سے دم درود کرانا چاہتی ہیں۔ پیر صاحب کے پاس جنات بھی ہیں۔ میں نے نصیر کا مذاق اڑایا مگر وہ سنجیدہ رہا بولا

”میں بھی تمہاری طرح سوچتا تھا کہ جنات کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ابا جی تو ان پیروں کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یار اب پہلے والی بات نہیں رہی۔ ہمارے پورے گھر میں اب انسانوں سے زیادہ جنات بسیرا کئے ہوئے ہیں۔ کوئی آ رہا ہے‘ کوئی جا رہا ہے“

میں نے ملک نصیر کی بات پر یقین نہ کیا اور ذرا ناراض ہو کر کہا ”تم تو پاگل ہو گئے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں کہ یہ پیری فقیری بھی کاروبار بن گیا ہے۔ چلو اندر اور مجھے اپنے پیر صاحب سے ملواﺅ۔ پھر میں اس کی اصلیت بتاﺅں گا۔“

”یار .... میں تمہیں اندر نہیں بلا سکتا۔ پیر صاحب نے کہا ہے کہ ان دنوں کوئی اجنبی اندر نہ آئے اور کسی کو جنات کے بارے میں بتانا بھی نہیں ہے۔ مگر میں تمہیں بتا بیٹھا ہوں۔“ ملک نصیر گھبرا کر اندر کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہو گیا۔

”دیکھا .... یہی تو بات ہے۔ اگر تمہارے پیر صاحب سچے ہوتے تو یہ نہ کہتے۔ وہ ضرور کوئی فراڈ ہو گا۔ مجھے اندر جانے دو میں اماں جی سے خود بات کرتا ہوں اور پھر زلیخا۔۔۔۔“ میرے منہ سے کچھ نکلتے نکلتے رہ گیا۔ میرے دل میں کوئی شے اٹک گئی۔ ہزاروں کہانیاں اندیشے میرے ذہن میں گھوم گئے‘ اخبارات کی شہ سرخیاں آنکھوں میں تیرنے لگیں کون سا ایسا دن ہو گا جب کسی جعلی پیر فقیر کے بارے ایسی خبریں شائع نہیں ہوتی ہوں گی کہ وہ معصوم لڑکیوں کو تباہ کرکے فرار ہو گیا۔ اس خیال کے ساتھ ہی میں اندر جانے کے لئے بے تاب ہوا تو ملک نصیر میرے سامنے آ کھڑا ہوا ”شاہد .... خدا کے لئے ٹھہرو۔ اگر میں نے خلاف ورزی کی تو بابا جی سرکار اور پیر صاحب ناراض ہوں گے اور ....“ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا اندر سے ایک بارعب آواز سنائی دی۔

”نصیر اسے اندر آنے دو“

”جی شاہ صاحب“ ملک نصیر آواز سنتے ہی مودب سا ہو گیا۔

”یہ پیر صاحب کی آواز ہے۔ شکر ہے انہوں نے خود ہی تمہیں بلا لیا ہے۔ میرے یار ناراض نہ ہونا“ میں ملک نصیر کے ساتھ حویلی کی ڈیوڑھی میں پہنچا تو ایک درمیانے قد کا نوجوان جس نے سفید لٹھے کی شلوار قمیض زیب تن کی تھی‘ سر پر عربی رومال رکھا ہوا تھا ہماری طرف آ رہا تھا۔ ”یہ پیر صاحب ہیں“ ملک نصیر نے جھٹ سے میرا تعارف کرایا۔ ”یہ میرا دوست ہے شاہد .... صحافی ہے اور ....“

”میں جانتا ہوں۔ بابا جی نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی ہے“پیر ریاض شاہ مسکراتے ہوئے بولے۔ وہ شکل و صورت سے کسی طور پر پیر نہیں لگتے تھے۔”آﺅ بابا جی سرکار آئے ہوئے ہیں“ وہ ہمیں اندر زنان خانے میں لے گئے۔

٭٭٭

پرانی اور بھاری اینٹوں سے بنی طویل راہداری سے گزرتے ہوئے ہم زنان خانے میں داخل ہوئے تو ایک خوشگوار مہک میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔ درباروں پر جانے والے بخوبی ایسی وجد افروز خوشبو سے آگاہ ہیں۔ میں اتنے برسوں سے حویلی میں آ رہا تھا کبھی پہلے ایسی مہلک نہیں آئی تھی۔ البتہ حویلی کے مکینوں کی اپنی خوشبو نے حویلی کے درودیوار کو خوشگوار بنایا ہوا تھا۔ حویلی کا اپنا تاثر بھی اتنا بھرپور تھا کہ یہاں آنے والا پہروں اس کے کھلے اور مانوس ماحول میں اجنبیت محسوس نہیں کرتا تھا لیکن اس روز میر ے لئے حویلی بھی اجنبی تھی اور اس کا ماحول بھی۔

زنان خانہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ، اندر سے کسی کی انتہائی گھمبیر اور بھرائی بھرائی سی آواز آ رہی تھی۔ دروازہ کھلا تھا اور اندر کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ پیر صاحب اندھیرے کمرے میں ایسے داخل ہو گئے جیسے یہ اندھیرا ہی ان کے لئے روشنیہو۔ ان کے پیچھے ملک نصیر تھا۔ وہ بڑی احتیاط سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔ میں دہلیز پر کھڑا ہو گیا۔ بھرائی ہوئی آواز خاموش ہو گئی البتہ کسی کے بھاری بھاری سانسیں لینے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ میں اندر جاتے ہوئے پہلی بار گھبرا رہا تھا۔ ایک تو ماحول کا اثر اوپر سے اندھیرا اور پھر یہ آواز جس کسی کی بھی تھی اس میں پراسراریت کا عنصر تھا۔ میں قدرے تامل کے ساتھ دہلیز پر کھڑا تھا کہ اندر سے وہی گھمبیر آواز سنائی دی۔

”اب آ گئے ہو تو اندر بھی آ جاﺅ“

”جج .... جی“ میرے لئے یہ آواز اجنبی تھی۔ ”مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا“

”تمہیں تو روشنیوں میں بھی کچھ نظر نہیں آتا میاں“ وہی آواز گونجی ”اندھیروں میں اترنے کے عادی ہو جاﺅ گے تو روشنی کے پردوں میں چھپی اندھی اور سیاہ چیزوں کو بھی دیکھنے لگو گے۔ آ جاﺅ .... ناک کی سیدھ میں سیدھے چلے آﺅ“

میں آگے بڑھا تو میرے سینے سے ایک روئی جیسی کوئی نرم شے ٹکرائی اور میں پیچھے گرتا گرتا بچ گیا۔ یہ ہوا کا جھونکا تھا یا میرا واہمہ۔ مجھ سے کوئی نرم ریشمی شے ٹکرائی تھی جس کے زور سے میں پیچھے کو لڑکھڑایا تھا۔ کسی نرم اور ریشمی شے میں اتنی طاقت .... ہوا جیسے خالی وجود میں ٹھوس بدن کو دھکیلنے کی صلاحیت.... میں حیران ہی تھا کہ آواز گونجی

”غازی .... پیچھے ہٹو“

”جی بابا جی‘ مجھے اپنے بہت ہی قریب سے آواز آئی جس میں شوخی بھی تھی اور معصومیت بھی۔

”یہاں آ جاﺅ“ گھمبیر آواز میں بولنے والے بابا جی نے کہا

اتنی دیر میں میری آنکھیں اندھیروں سے مانوس ہو گئی تھیں۔ مجھے احساس ہوا کہ میرے پہلو میں کوئی پرچھائی کھڑی ہے۔ اس کے خدوخال پوری طرح واضح نہیں تھے مگر اس کے ہیولے کا تاثر عام انسانوں سے مختلف تھا۔ بڑا سا سر‘ چھوٹی چھوٹی سفید بٹن نما آنکھیں‘ پانچ فٹ قامت اور بدن پھیلا ہوا، پرچھائی کسی لہراتے کپڑے کی طرح مچل رہی تھی۔

میں آگے بڑھا تو پرچھائی نے ہاتھ بڑھایا اور میری پسلی میں گدگدی کرنے لگی۔ ”کک کون ہو تم .... یہ کیا کر رہے ہو“

اس کے ساتھ ہی کھی کھی کھی کی آوازیں آنے لگیں۔ باباجی ڈانٹنے کے انداز میں بولے ”غازی مستی نہ کر .... مہمان کو کیوں پریشان کرتا ہے“

”بابا جی .... میں تو اسے گدگدی کر رہا تھا“ یہ کہہ کر وہ غازی نما پرچھائی دوبارہ کھی کھی کرنے لگی۔ اس کا یہ انداز دیکھ کر زنان خانے میں زلیخا اور اس کی والدہ کی بھی ہنسی نکل گئی۔

”ماں جی .... نصیر“ میں پکارا۔

”شاہد پتر .... یہ غازی بڑا شرارتی بچہ ہے۔ تجھ سے ٹھٹھولے کر رہا ہے۔ آ جا بیٹھ جا۔ یہ تجھے کچھ نہیں کہے گا“ ماں جی کی آواز سن کر مجھے حوصلہ ہوا اور میں دوچار قدم آگے چلا تو مجھے دیوار نظر آ گئی۔ میں اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اندھیرے میں ڈوبے کمرے کی اجنبت میں مانوسیت تلاش کرنے لگا۔

”بیٹھ جاﺅ .... اور درود ابراہیمی پڑھو“ بابا جی میرے بہت قریب سے بولے۔ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر آواز کی سمت میں دیکھنے لگا تو ایک بھاری بھرکم چوغا نما پرچھائی نظر آنے لگی۔ اسی لمحہ زنان خانے کے روشن دان سے ہلکی سی روشنی اندر آنے لگی جس سے کمرے میں ملگجا اجالا ہوا اور پرچھائی کا سراپا میری نظروں کے سامنے نمایاں ہو گیا۔ یہ ایک آدھ لمحہ کی ہی بات تھی۔ بابا جی روشنی کو محسوس کرتے ہی بولے ”شاہد میاں آنکھیں بند کر لو“ میں نے جھٹ سے آنکھیں تو بند کر لیں مگر ایک نادیدہ وجود میرے ذہن میں اپنا عکس بناتا چلا گیا۔ اس کے چہرے کے خدوخال تو واضح نہ ہو سکے تھے مگر میں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ وہ سراپا پیروں سے بے نیاز تھا۔ سر سے پنڈلیوں تک اس کا وجود نظر آتا تھا اس کے نیچے پاﺅں جیسی کوئی شے نہ تھی اور وہ گویا ہوا میں معلق کسی وجود کی طرح چہل قدمی کرتا ہوا میرے پاس آ گیا تھا۔ میری سانسیں تیز ہو گئیں اور اس سراپے کی سانسیں کسی گرم اور تیز لو کی مانند میرے چہرے پر پڑنے لگیں۔ اس کی سانسوں میں اتنی تپش تھی کہ اگر میں اپنے چہرے پر ہاتھ نہ رکھ لیتا تو میرا چہرہ اس کی تپش سے ہی جھلس جاتا۔

”درود پاک پڑھو۔ درود پاک پڑھو“

بابا جی نے اپنے ریشمی ہاتھوں سے میرے چہرے سے میرے ہاتھ ہٹائے اور نرم انداز میں سمجھاتے ہوئے بولے ”بیٹا .... یہ درود پاک ہی ہماری قوت ہے۔ ہماری غذا ہے یہ، اسے پڑھتے رہو تاکہ جب تک ہم یہاں ہیں‘ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پاک کے صدقے ہماری قوتوں کو قائم رکھے اور اس محفل پر اپنی رحمت عطا کرے“ بابا جی کی باتوں میں مٹھاس تھی۔ ان کا لمس مجھے عجیب سی کیفیت سے دوچار کر گیا ۔ مگر میرے ذہن میں ہزاروں وسوسے‘ ہزاروں سوالات بھی پیدا کر گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود میرا ذہن میرے قابو میں تھا۔ ہزاروں واقعات ذہن میں تازہ ہو گئے۔ مجھے یہ سب فراڈ لگ رہا تھا۔ پیر ریاض شاہ کے کسی شعبدہ کی وجہ سے زنان خانے میں بیٹھے لوگوں کی نظربندی کر دی گئی تھی اور مجھے وہی کچھ دکھایا جا رہا تھا جو وہ چاہتے تھے۔ میں نے ایسے بہت سے واقعات پڑھے تھے کہ بعض لوگ معصوم لوگوں کو سحرزدہ کرنے اور اپنی کرامات دکھانے کی خاطر ایسے شعبدے کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ ماحول نے مجھ پر سحر طاری کیا تھا مگر میرے اندر کا صحافی بیدار رہا۔ اس وقت تو میرے اندر جستجو بھی بڑھ گئی تھی اور ان سارے واقعات کو ایک اہم ترین ”سٹوری“ بنا کر دھوم مچانے کا بھی سوچ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ بابا جی واقعی ایک جن ہیں تو ان کا انٹرویو کرکے اخبار میں چھاپ دوں گا۔ میں ذہنی طور پر تو فیصلہ کر چکا تھا لیکن کچھ بولنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی مجھ میں .... میں بے چینی اور بے قراری کے باوجود بابا جی کی ہدایت پر درود ابراہیمی پڑھنے لگا تھا۔ زنان خانے میں جتنے لوگ موجود تھے وہ بھی درود پاک پڑھ رہے تھے۔ اسی لمحہ ایک آواز جو سب سے مختلف اور جدا تھی‘ نہایت پرسوز اور عقیدت مندانہ انداز میں بلند ہوئی ”بابا جی سرکار .... حاجی صاحب نے یاد فرمایا ہے“

”غلام محمد .... خیریت تو ہے“ بابا جی قدرے تشویش میں مبتلا ہو گئے” سرکار کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔“

”خیریت سے ہیں سرکار .... آپ سے کوئی مشورہ کرنا ہے“ غلام محمد نے جواب دیا

”شاہ صاحب اب ہم چلتے ہیں۔ غازی چلو اور ہاں میاں تم اب ادھر ہی رہنا۔ تمہارے ساتھ ہمیں بہت سی باتیں کرنی ہیں۔“

بابا جی نے اپنا نرم روئی جیسا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور سب کو خدا حافظ کہہ کر چلے گئے۔

اسی لمحہ پیر ریاض شاہ نے لائٹ آن کر دی تو کمرہ روشن ہو گیا۔ وہ سوئچ بورڈ کے پاس کھڑے تھے کئی لمحے تک وہ یونہی کھڑے ہو کر زیر لب کچھ پڑھتے رہے۔

ہم سب نے آنکھیں کھول دی تھیں۔ زلیخا اپنی والدہ اور والد کے ساتھ کمرے کی طاقوں کے پاس چٹائی پر بیٹھے تھے۔ دوسری جانب ڈبل بیڈ بچھا ہوا تھا۔ پیر ریاض شاہ سوئچ بورڈ سے ہٹ کر بیڈ پر جا بیٹھے ، ان کے چہرے پر تردد اور تھکن نمایاں تھی اور یوں لگتا تھا جیسے وہ منوں بوجھ اٹھا کر چلتے ہوئے آئے ہیں اور اب بے خود ہو کر آرام کرنے کے لئے بیٹھ گئے ہیں۔ انہوں نے سر سے رومال اتارا اور ہاتھوں کو کن پٹیوں پر ہتھوڑوں کی ماند مارے لگے۔

”نصیر پتر .... شاہ صاحب کا سر دبا دے۔“ نصیر والد کا حکم ملتے ہی شاہ صاحب کے پاس گیا اور بیڈ پر چڑھ کر ان کی پشت کی جانب بیٹھ گیا اور پھر ان کا سر پکڑ کر مساج کرنے لگا۔ شاہ صاحب سر جھکائے بیٹھے تھے نصیر ان کا پہلے سر دباتا رہا پھر کاندھے دبانے لگا

”تیل کی مالش کر دو یار“ شاہ صاحب نے نصیر سے کہا

اس بار انہوں نے کن اکھیوں سے میری جانب دیکھا۔ میں اٹھ کر نصیر کی والدہ کے پاس گیا اور انہیں سلام کرکے ان سے پیار لیا۔ زلیخا سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کے لبوں پر پیپڑیاں جمیں ہوئی تھیں۔ نہ جانے وہ کس بات پر اداس تھی۔ میرے آنے پر یا بابا جی سرکار کی آمد نے اس کو ناشاد کیا تھا۔

”اچھا بھئی تم لوگ تو اب بیٹھو۔ میں آرام کرنے جا رہا ہوں“ نصیر کے والد اٹھنے لگے تو میں ان کا ہاتھ تھام کر اٹھنے میں سہارا دیا۔ وہ اٹھے تو میرا ہاتھ تھامے رکھا اور جب زنان خانے سے باہر جانے لگے تو ان کی آنکھوں میں الجھن اور اندیشے نمایاں تھے۔ جو بات میرے دل میں تھی وہ ان کی آنکھوں میں نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھامے رکھا اور مجھے یوں لگا جیسے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں۔

”اچھا ہوا تم آ گئے۔“ وہ آہستہ سے بولے۔ ان کا یہی کہنا میرے اور ان کے وسوسوں کی تصدیق کے لئے کافی تھا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لئے زنان خانے سے باہر نکلے اور خاموش مضمحل قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں لے گئے۔ راستے میں ہی میں نے انہیں بتا دیا کہ میں حویلی میں کچھ دنوں کے لئے رہنے آیا ہوں۔

”پتر جی .... تم اپنا امتحان تو دے لو گے مگر ان کا کیا کرو گے تمہاری چاچی اور وہ بھائی .... نصیر .... سب مجھے امتحان میں ڈال رہے ہیں“

”کیوں کیا ہوا چاچا جی“ میں نے ان کے کمرے میں پہنچ کر سوال کیا۔

”تم نے دیکھا نہیں۔ ان سب کی مت ماری گئی ہے۔ عقل نام کی شے نہیں ہے ان میں۔ تمہیں پتہ ہے میں تیری چاچی کی بات نہیں ٹالتا۔ ہے تو وہ بہت اچھی مگر کبھی کبھی ضد پکڑ لیتی ہے تو میں اس کے سامنے ہار جاتا ہوں۔ یہ شاہ صاحب اور ان جنات کا یہاں ڈیرہ لگانا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ اس نصیر کو دیکھا ہے۔ کمیوں کی طرح اس پیر کی چانپی کر رہا ہے شکل سے لگتا ہے پیر،کیا ایسے بے نمازے پیر ہوتے ہیں۔ تف ہے ایسی عقیدت پر“ نصیر کے والد کو آج پہلی بار میں نے لاچارگی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں دیکھا تھا۔

”آپ کا کیا خیال ہے یہ سب ڈرامہ ہے“ میں نے پوچھا۔

”تمہیں کیا لگتا ہے۔ یہ جنات اس طرح آتے ہیں۔ ٹھیک ہے میں بزرگ لوگوں کی عزت کرتا ہوں۔ مگر یہ ریاض شاہ وہ نہیں ہے جو نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے کل رات کو جو منظر دیکھا ہے میں اسے تاقیامت نہیں بھلا سکتا پتر جی“

”بات کیا ہے چاچا جی“ میں نے پریشان ہو کر پوچھا

”کل رات ....“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ شرم و حجاب جیسی کوئی مانع بات تھی جو ان کی زبان کو الفاظ نہیں دے رہی تھی۔ چارپائی پر ڈھیر سے ہو کر گر پڑے۔

”چاچا جی .... آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔ میں نصیر کو بلاتا ہوں“ میں گھبراہٹ میں کمرے سے جانے لگا تو وہ بولے۔

”رہنے دو اس کم عقلے کو ،اس کی بھی عقل ماری گئی ہے۔ تم میری بات سنو پتر۔ میں تو ایک رات ہی میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ میں تو مر کھپ گیا ہوں پتر۔ کس کو یہ سمجھاﺅں کہ ان شیطانوں سے دور رہو۔ یہ نیکی کے پردے میں گناہ کا کھیل کھیلنے والے لوگ ہیں۔ تم جس کام سے آئے ہو وہ کرتے رہو۔ اگر تم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو یہ تمہیں بھی میری طرح تنہا کر دیں گے۔“ میں خاموش ہو کر چاچا جی کا منہ تکنے لگا۔

”کل رات کی بات ہے پتر .... میں رات کو اسی طرح کی مجلس سے اٹھ کر کمرے میں آ گیا تھا۔ میں دن بھر کا تھکا ہوا تھا اس لئے آتے ہی سو گیا۔ آدھی رات کو مجھے گھبراہٹ سی ہوئی اور مجھے لگا جیسے کوئی شے میرے سینے پر سوار ہے اور میرا گریبان پکڑ کر پھاڑنا چاہتی ہے۔ میں آیت الکرسی پڑھتے ہوئے اٹھا۔ کمرے میں میرا دم گھٹنے لگا تھا ، میں تازہ ہوا کے لئے کمرے سے باہر نکلا اور باغیچے میں جاتے ہوئے جب مہمان خانے کے پاس سے گزرا تو اندر سے مجھے عجیب کھسر پھسر کی آوازیں سنائی دیں۔ مہمان خانے میں شاہ صاحب کو ٹھہرایا گیا ہے۔ میں چونکا اور پریشان بھی ہوا کہ اس وقت یہاں کون ہے اور کیا کر رہا ہے۔ کیا شاہ صاحب جاگ رہے ہیں اور جنات سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وہ کھسر پھسر کسی عورت کی تھی۔ میں نے مہمان خانے کی کھڑکی کی درز سے اندر دیکھا تو سامنے کا منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔ سامنے چٹائی پر زلیخا لیٹی تھی اور اس کے دائیں جانب تمہاری چاچی اور بائیں جانب شاہ صاحب بیٹھے تھے۔ تمہاری چاچی نے سر جھکایا ہوا تھا اور پیر صاحب سے آہستہ آہستہ کچھ کہہ رہی تھی۔ زلیخا کا بدن ساکت تھا۔ میں نے گھڑی پر وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگا کہ سب کی نظروں سے چھپ کر یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر نصیر کہاں ہے؟ مجھے اپنی بیٹی کی عصمت کا خیال آیا کہ بدبخت تمہاری چاچی اندھی عقیدت میں یا زلیخا کی کسی پریشانی کی وجہ سے کوئی نقصان نہ کرا بیٹھے ۔ لہٰذا میں جلدی سے کمرے میں داخل ہو گیا اور غصے سے بولا ”یہ کیا ہو رہا ہے رضیہ۔ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو“ میں نے جب زلیخا کی ماں کو مخاطب کیا تو وہ غصے سے بھنا گئی۔ شاہ صاحب کا چہرہ بھی غصے سے بھر گیا۔ اس وقت میں نے صاف صاف محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں میں شیطنیت اور ہوس بھری تھی پتر۔ مرد مرد کی نظروں کی زبان سمجھ لیتا ہے۔ میری کم عقل بیوی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہی تھی۔ شاہ صاحب نے جب دیکھا کہ تمہاری چاچی بھی غصے میں ہے تو انہوں نے کہا ”بی بی.... تمہارے خاوند نے سارا عمل غارت کر دیا ہے۔ بابا جی ناراض ہو کر چلے گئے ہیں“ یہ کہہ کر وہ بستر پر جا بیٹھا اور تمہاری چاچی غصے کے مارے کہنے لگی۔

”آپ اس وقت یہاں کیوں آئے ہیں“

”تم یہاں کیا کر رہی ہو .... اور یہ زلیخا یہاں کیوں سوئی ہوئی ہے“ میں نے سخت لہجے میں کہا تو تمہاری چاچی کو جیسے میری کیفیت کا اندازہ ہو گیا فوراً نرم اور خوشامدی لہجہ اختیار کرتے بولی۔ ” اصل میں زلیخا کو آج دورہ پڑ گیا ہے۔ کب سے بے ہوش پڑی ہے۔ میں نے شاہ صاحب کو بتایا تو وہ کہنے لگے کہ اسے یہاں لے آئیں“

”جب یہ بے ہوش تھی تو اسے کون لایا یہاں“ میں نے پوچھا۔ وہ کن اکھیوں سے پیر صاحب کی طرف دیکھنے لگی۔ ”بابا جی اٹھا کر لائے ہیں اسے“

”نصیر کہاں ہے“

”وہ سویا پڑا ہے“ رضیہ بولی

”رضیہ بی بی لگتا ہے تمہارے نصیب بھی سونے والے ہیں۔ اس بے غیرت کو اٹھا لیا ہوتا۔ مجھے اٹھا لیتی۔ لیکن اس طرح گھر کے مردوں سے چھپ چھپ کر میری بیٹی کو یہاں کیوں لے کر آئی“ میں غصے سے چلایا ”اٹھاﺅ اسے ....“ میں نے کہا

”یہ بے ہوش ہے“ رضیہ گھبرانے لگی تھی یا اسے میری باتوں کی سمجھ آنے لگی تھی۔

میں زلیخا کے پاس جا بیٹھا اور اسے اٹھانے لگا۔ میری دوسری آواز پر وہ اٹھ پڑی۔ اس کے سر پر دوپٹہ بھی نہیں تھا۔ بال اس کے کھلے پڑے تھے اور چہرے پر ویرانی اور زردی تھی۔ میں نے اس سے پہلے اپنی بیٹی کی یہ حالت نہیں دیکھی تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا کسی نے لہو چوس لیا ہے۔ مردہ سی آنکھیں ہو گئی تھیں اس کی۔ مجھے دیکھتے ہی حواس باختہ ہو گئی اور اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی۔ میں نے اپنا کپڑا اس کے سر پر ڈالا اور کہا ”اٹھ میرے بچے۔ تو یہاں کیسے آ گئی“

”مم مجھے کیا ہوا ہے۔ میں یہاں کہاں ہوں“ وہ کمرے کا جائزہ لینے لگی تو اس کی نظریں شاہ صاحب پر پڑیں۔ وہ یکدم گھبرا گئی اور میرے سینے سے لگ گئی۔

”ابا جی“ وہ خوف سے سہمی ہوئی چڑیا کی طرح لرزنے اور رونے لگی۔ اس کا یہ خوف انجانی کہانیاں سنا رہا تھا میرے پتر۔ اس بات کا احساس کرکے ایک بار تو میں لرزا اٹھا تھا۔ پیر ریاض شاہ کو دیکھ کر وہ پہلے تو اس قدر نہیں گھبراتی تھی۔

”رضیہ .... رضیہ .... سچ سچ بتا میری بچی کو کیا ہوا ہے“ رضیہ میرے لہجے کی گرمی دیکھ کر پیچھے ہٹ گئی اور دزدیدہ نظروں سے پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگی۔

آٹھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزید : کتابیں /جنات کا غلام