جمعیت علماء اسلام جدہ کے زیر اہتمام قائداعظم کی برسی کی تقریب

جمعیت علماء اسلام جدہ کے زیر اہتمام قائداعظم کی برسی کی تقریب
جمعیت علماء اسلام جدہ کے زیر اہتمام قائداعظم کی برسی کی تقریب

  

مکہ مکرمہ (محمد عامل عثمانی) بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے یوم وفات پر جمعیت علماء اسلام کے رہنماوں نے مشترکہ بیان  میں قائد کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ انجنیئر محمد عبدالصبور ، جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام جدہ نے کہا کہاکہ مولانا ظفر علی خان اور عبدا الرب نشتر کے ساتھ قائد اعظم کا بیان جو کہ ماہنامہ منارہ کراچی میں شائع ہوا اس میں  قائداعظم محمدعلی نے تفصیلا پاکستان کے لیے ان کی کاوش کا خلاصہ کچھ ایسے بیان کیا تھا میں لندن میں امیر زندگی کو ٹھکرا کر برضغیر اس لیے آیا کہ یہاں لا الہ الا اللہ کی مملکت یعنی پاکستان کے لیے کوشش کروں گا۔

علامہ اقبال کی دعوت پر میں نے دولت اور منصب دونوں کو ٹھکرا کر محدود آمدنی کی دشوار زندگی بسر کرنے کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ پاکستان کا وجود عمل میں آئے اور اس میں اسلامی قوانین کا بول بالا ہو کیونکہ دنیا کی نجات اسلامی نظام  میں ہی ہے۔ صرف اسلام ہی ملی، عملی اور قانونی دائروں میں آپ کو عدل، مساوات،  اخوت، مخبت، سکوں اور امن دستیاب کر سکتا ہے  لیکن المیا یہ ہے کہ قائد کی روح پوری قوم کو چیخ چیخ کر اس نظریے کی تکمیل کے لیے دعوت فکر دے رہی ہے۔

حاجی سجاد خان سیکرٹری مالیات کاکہناتھا کہ آج کے دن ہم بھرپور عہد کرتے ہیں کہ  ملک کہ  نظریہ پاکستان کی تکمیل کے لیے جہدوجہد جاری رکھیں گے۔ قاری حفیظ اللہ نےکھا  کہ قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین و آسمان  کافرق ہے قائد اعظم  پاکستان کو  اسلام کی عملی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے لیکن پاکستان سات عشرے گزرنے کہ باوجود ریاست کے ذمہ داران کی طرف اپنے نظریے کی تکمیل کہ لیے منہ تک رہاہے ۔

قائد اعظم کے زریں اقوال پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ وہ لوگ جو آج قائد کو اپنے لبرل ازم کیلئے استعمال کرتے ہیں انہیں قائد کی زندگی کے بارے میں پڑھنا چاہئے۔ جنہوں نے اپنی زندگی میں اسلام کو سربلند رکھا اور برضغیر میں اسلام کی سربلندی کیلئے پاکستان کے قیام کو عملی شکل دی۔ قائد نے کہا تھا کہ اسلام کے خادم بن کر سامنے آئیے، سیاسی ، تعلیمی اور اقتصادی طور پر اپنے آپ کو منظم کیجئے۔

مزید :

عرب دنیا -