قائد اعظمؒ معاشی خوشحالی کا وژن رکھتے تھے

قائد اعظمؒ معاشی خوشحالی کا وژن رکھتے تھے
 قائد اعظمؒ معاشی خوشحالی کا وژن رکھتے تھے

  


’’پاکستان دنیا کی سب سے بڑی نظریاتی مملکت ہے اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کا شمار دنیا بھر کے لیڈر ان کرام میں سرفہرست اس لئے ہوتا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ پاکستان کا مقدمہ لڑا اور بالآخر فیصلہ اپنے حق میں لے کر پاکستان قائم کر دیا جو رہتی دنیا تک ایک حیرت انگیز کارنامے کے طور پر جانا جائے گا‘‘۔۔۔

ان خیالات کا اظہار یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے جانے پہچانے اور ہر دلعزیز لیڈر افتخار علی ملک نے کیا اور بتایا: ’’قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ پاکستان اسی روز قائم ہو گیا تھا جب برصغیر پاک و ہند میں پہلا مسلمان آیا تھا، کیونکہ پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی اور ثقافتی تفاوت بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں قائداعظمؒ نے ایک غیر ملکی اخبار نویس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں اور ان دونوں کے رسم و رواج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہندو گائے کو ’’گاؤ ماتا‘‘ کا درجہ دے کر اس کی پوجا کرتے ہیں،جبکہ مسلمان گائے کے گوشت کو حلال سمجھتے ہوئے اسے کھا جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل کو پوری طرح سے علم نہیں ہے کہ پاکستان کتنی بڑی قربانیوں کے بعدسے وجود میں آیا، خصوصاً انڈین فلموں کی وجہ سے بھی انہیں احساس نہیں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مذہبی اور ثقافتی فرق کتنا وسیع ہے۔ اگر آج انڈیا میں صرف گائے کا گوشت کھانے کے شبہ ہیں انسانی جانوں کا قتلِ عام نہ کیا جاتا تو آج کی دانشور، پڑھی لکھی اور سوچ رکھنے والی نوجوان نسل کو قائد اعظمؒ کی مذکورہ بالا بات کی حکمت سمجھ میں نہ آتی۔

قیام پاکستان نے ثابت کر دیا کہ قائداعظم محمد علیجناحؒ اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانانِ ہند کے ساتھ مل کر جس طرح پاکستان حاصل کیا،اس سے پاکستان میں رہنے والوں کی تقدیر بدل چکی ہے۔ میرے والد محترم ملک محمد شفیع (ستارۂ امتیاز) کی خوش قسمتی تھی کہ وہ تحریک پاکستان میں دامے، درمے، سخنے شریک ہوئے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو قریب سے دیکھا اور ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور سب سے زیادہ وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے معاشی وژن سے متاثر تھے، کیونکہ قائد اعظم کے معاشی نظریات کا نچوڑ صرف یہی تھا کہ پاکستان میں مکمل معاشی آزادی ہو اور پاکستان کے عوام معاشی طور پر مستحکم اور خوشحال ہوں، ایک خوشحال اسلامی فلاحی ریاست کا وژن علامہ اقبالؒ کا بھی تھا، لیکن یہ جدوجہد قائداعظمؒ کے حصے میں آئی کہ وہ ایک معاشی طور پر مستحکم مملکت قائم کرنے کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کسی مسلمان کو غلام نہیں دیکھنا چاہتا اور نہ ہی چاہتا ہے کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے، یہ صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب مسلمانوں کے پاس اسلام کے زریں اصولوں پر عملدرآمد کے لئے اپنی ایک ریاست موجود ہو۔

پاکستان کی شکل میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ موقع فراہم کر دیا کہ ہم ایک خوشحال ریاست کی بنیاد رکھیں۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ہمیشہ خوشحالی کا تذکرہ کیا اور اگر ان کی تمام تقاریر کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ قائداعظمؒ کا معاشی وژن کتنا زبردست تھا اور وہ پاکستان کو معاشی طور پر ایک خوشحال اور خود مختار ریاست دیکھنے کے شدت سے آرزو مند تھے۔ جس وقت پاکستان وجود میں آیا تو قائداعظمؒ نے امریکہ سے آئے ہوئے خیر سگالی کے پیغام کا تذکرہ کیا، کیونکہ اس وقت امریکہ دنیا میں ایک طاقتور مملکت کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا اصل پیغام یہی ہے کہ اب پاکستان معرض وجود میں آ چکا ہے،اس لئے ہر کسی کو معاشی شعبے میں اپنی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور یہ واقعی قائد اعظم کے معاشی وژن کا کمال ہے کہ جس اسلامی ریاست کے پاس روزمرہ حکومتی اخراجات کے لئے بھی پیسے نہیں تھے، بیورو کریسی گھاس پر ٹیبل لگا کر بیٹھی تھی اور کاغذ لف کرنے کے لئے ببول کے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے،اس نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ اس وقت دنیا بھر کے ماہرین معاشیات کہتے تھے کہ اگر پاکستان میں سیاسی استحکام رہا اور کوئی بڑے مسائل پیدا نہ ہوئے تو پاکستان آئندہ تیس برسوں کے اندر بیس ترقی یافتہ معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔

علامہ اقبالؒ ،قائداعظمؒ اور’’تحریک پاکستان کے نامور اور گمنام ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ قائداعظم ؒ کے معاشی وژن کے مطابق پاکستان کو ایک خوشحالی فلاحی مملکت بنانے کے لئے سب مل کر اتحاد تنظیم اور یقین محکم پر عمل پیرا ہو جائیں۔

مزید : کالم


loading...