’’گُہر ہائے آبدار‘‘ اور غلطی ہائے ناہنجار (2)

’’گُہر ہائے آبدار‘‘ اور غلطی ہائے ناہنجار (2)
 ’’گُہر ہائے آبدار‘‘ اور غلطی ہائے ناہنجار (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کل کی پہلی قسط میں بات دراصل یہ ہو رہی تھی کہ:’’ظ‘‘ کی پٹی میں صفحہ116 پر ایک شعر یوں چَھپا ہُوا ملتا ہے:
ظاہر نہ ہوں جہاں پہ کہیں داغِ معصّیت
ڈھانپے ہوئے ہوں اِس لئے منہ کو کفن سے مَیں
شاعر کا نام سعد قیس درج ہے جبکہ یہ شاعر دراصل ’’سعید قیس‘‘ ہیں جو کبھی لاہور میں ہوتے تھے سالہا سال سے دَیارِ غیر میں ہیں۔ صفحہ86پر ’’د‘‘ کی پٹی میں ایک مشہور شعر بغیر شاعر کے نام سے اس طرح ملتا ہے:
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن سے رستے بنا لئے
دوسرے مصرعے میں ’’صحن سے‘‘ نہیں شاعر نے ’’صحن میں‘‘ کہہ رکھا ہے یعنی:
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے
اور شاعر ہیں واہ کینٹ کے جواں مرگ مزدور شاعر سبط علی صبا۔۔۔ ان کا اکلوتا مجموعہِ کلام ’’طشتِ مُراد‘‘ جو اُن کی وفات کے بعد قاضی عارف حسین کی مساعی سے شائع ہو سکا ،میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے ۔ صحیح شعر اس طرح ہے:
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے
صفحہ 36پر ’’ب‘‘ کی پٹی ہی میں ایک اور بہت مشہور شعر محترمہ زَہرا نگاہ کو بخش دیا گیا ہے:
بُجھ رہے ہیں چراغِ دیر و حرم
دِل جلاؤ کہ روشنی کم ہے
جبکہ یہ مشہور شعر محترمہ سحاب قزلباش کا ہے۔۔۔!
صفحہ 82پر ’’د‘‘ کی پٹی ہی میں ایک شعر عندلیب شادابی کے نام سے اِس طرح درج ہے:
دوستو!تم پہ بھی گزرا ہے کبھی یہ عالم
نیند آتی نہیں اور خواب نظر آتے ہیں
یہ شاعر ’’شادابی‘‘ نہیں ’’شادانی‘‘ ہیں، یعنی حضرت شاداں بلگرامی کے شاگردِ رشید ڈاکٹر عندلیب شادانی ۔۔۔!بہت سے مشہو ر و معروف اور مقبولِ عام اشعار ’’نامعلوم شاعروں‘‘ کو بخش دیئے گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک مشہور شعر بغیر شاعر کے نام کے ’’خ‘‘ کی پٹی میں صفحہ 75پر یوں ملتا ہے:
خواہش پہ مجھے ٹوٹ کے گرنا نہیں آتا
پیاسا ہوں مگر ساحلِ دریا پہ کھڑا ہوں
جبکہ اس شعر کے خالق پروفیسر سجاد باقر رضوی (مرحوم) ہیں ۔۔۔ فاضل مرتب کی مجھ پر بھی خصوصی نظرِ التفات رہی ہے، چنانچہ ’’ت‘‘ کی ’’پٹی‘‘ میں صفحہ 54 کے آخر میں میرا ایک شعر میرے ہی نام سے دیا گیا ہے:
تھا انتظار مجھے جس کا ایک مُدت سے
گزر گیا وہ اچانک نظر چُرائے ہوئے
آگے چل کر حروفِ تہجی کی مختلف پٹیوں میں میرے تین اشعار مرتب کے انتخاب کی زینت تو بنے ہیں مگر بغیر میرے نام کے، یعنی ’’ شاعر نامعلوم‘‘ والے یہ تین اشعار جو میرے یعنی ناصِر زیدی کے ہیں بالترتیب یوں ہیں:
صفحہ 115’’ط‘‘ کی پٹی میں:
طُلوع ہو گیا سورج نظر نہیں آتا
اندھیرا آنکھ کے اندر دکھائی دیتا ہے
صفحہ 177پر ’’ہ‘‘ کی پٹی میں:
ہر موڑ پر ہیں ظلم کے پہرے لگے ہوئے
چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر
اور صفحہ 187 پر ’’ے‘‘ کی پٹی میں مشہور زمانہ، بلکہ شمس الحق مُرتبِ کتاب ’’ضرب المثل اشعار‘‘ کی نظر میں میرا یہ ضرب المثل شعر بھی بغیر شاعر کے نام کے درج ہے:
یہ کس مقام پہ تنہائی سونپتے ہو مجھے
کہ اب تو ترکِ تمنا کا حوصلہ بھی نہیں
اِس قسم کی غلطی ہائے اشعار و غلطی ہائے مضامیں پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ لفظ ’’ص‘‘ سے شروع ہونے اشعار جو ایک صفحے پر محیط ہیں وہ ’’ض‘‘ کی پٹی میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ کچھ اشعار میں لفظی کمی بیشی نے بھی غضب ڈھایا اور اچھے بھلے شعر کو ’’بے وزنی کا شکار کر دیا ہے۔ مثلاً صفحہ 176 پر ممتاز شاعرہ محترمہ فاطمہ حسن کا ایک بہت ہی مشہور شعر اس طرح چھایا گیا ہے:
ہَوا چلے گی تو خوشبو میری بھی پھیلے گی
مَیں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ ہاتھ کے رنگ
جبکہ پہلے مصرعے میں دو نقطوں کے ساتھ ’’میری‘‘ نہیں نقطوں کے بغیر ’’مری‘‘ ہونا چاہئے تھا اور دوسرے مصرعے میں ’’پیڑوں پہ‘‘ کے بعد ’’اپنے‘‘ رہ جانے سے مصرع ہی پٹڑی سے اُتر گیا، صحیح شعر نک سک سے درست اس طرح ہے:
ہَوا چلے گی تو خوشبو مری بھی پھیلے گی
مَیں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ اپنے ہاتھ کے رنگ
ایک حد سے زیادہ مشہورشعر صفحہ 177پر ’’ہ‘‘ کی پٹی میں بغیر شاعر کے نام کے درج ہے، جبکہ یہ مشہور زمانہ شعر ظہیر کاشمیری کا ہے :
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
صفحہ 189پر ’’ے‘‘ کی پٹی میں ایک بہت ہی مشہور شعر امید فاضلی کے نام سے اس طرح درج ہے:
یہ اک اشارا ہے آفاتِ ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا
یہ حامد کی پگڑی محمود کے سرباندھنے کی واضح مثال ہے کہ یہ شعر امید فاضلی کا ہرگز نہیں، عالمتاب تشنہ کا مشہور شعر ہے ۔ اسی طرح صفحہ 166پر ’’و‘‘ کی پٹی میں ایک بہت مشہور شعر میر تقی میر کو بخش دیا گیا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
جبکہ یہ شعر میر کا ہرگز نہیں میر کے کلیات، باقیات، انتخاب میں کہیں بھی دستیاب نہیں، یہ شعر مہاراج بہادر برق دہلوی کا مقطع ہے اور برق تخلص اس شعر پر سجتا بھی ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
صفحہ101پر’’س‘‘ کی پٹی میں ایک بہت مشہور شعر کسی شاعرہ شہناز پروین کو بخش دیا گیا ہے:
سبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے رونے کا
الٰہی ساری دُنیا کو مَیں کیسے راز داں کر لوں
جبکہ یہ شعر کسی شاعرہ کا نہیں، اُستادوں کے اُستاد شاعر حضرت تاجورَ نجیب آبادی کا ہے۔ اُستادوں کے اُستاد اِس لئے کہ میرے اُستاد احسان دانش اور احسان دانش کے اُستاد تاجورَ نجیب آبادی۔۔۔!
صفحہ44پر ’’پ‘‘ کی پٹی میں ایک شعر’’ت‘‘ کی پٹی کا ٹھونس رکھا ہے:
تھک جائیں تو ٹھہریں بھی کہاں راہِ طلب میں
دیوار تو ہے سایۂ دیوار نہیں ہے
صفحہ49 پر ایک بہت مشہور شعر’’ت‘‘ کی پٹی میں اس طرح بغیر شاعر کے نام کے چھاپا گیا ہے:
تعمیر کی ہر اینٹ پہ لکھا ہے مرا نام
دیوار مگر آپ سے منسوب ہو گئی
جبکہ ’’د‘‘ کی پٹی میں ڈاکٹر خیال امرھوی کا یہ شعر دوسرے مصرعے کی درستگی کے ساتھ اس طرح ہونا چاہئے تھا:
دیوار کی ہر اینٹ پر لکھا ہے مرا نام
تعمیر مگر آپ سے منسوب ہوئی ہے
’’گ‘‘ کی پٹی میں صفحہ139پر ایک شعر اس طرح صفی ملال کے نام سے چھپا ہُوا ملتا ہے:
گھر کے بارے میں یہی جان چکا ہوں اب تک
جب بھی لوٹوں کوئی دروازہ کھلا ہوتا ہے
یہ شعر دراصل صغیر ملال کا ہو گا کہ صفی لکھنوی تو ہوئے، صفی ملال نام کا کوئی شاعر ہنوز پیدا نہیں ہُوا۔ اِسی طرح صفی ملال ہی کے نام سے ایک اور جگہ بھی ایک شعر دیا گیا ہے۔دونوں جگہوں پر شاعر کا صحیح نام صغیر ملال ہونا چاہئے؟۔۔۔ یہ وہی صغیر ملال(مرحوم) ہیں جن سے یہ لطیفہ بلکہ ’’حقیقہ‘‘ منسوب ہے۔ کہ جب وہ مشہور شاعر منیر نیازی سے پہلی بار ملے تو گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا: ’’صغیر ملال!‘‘۔۔۔ منیر نیازی نے چھوٹتے ہی کہا ’’تم صغیر ملال ہو تو مَیں کبیر ملال‘‘۔۔۔! اس کتاب کے صفحہ160 پر مجزوح سلطانپوری کے مشہور شعر پر شاعر کا نام تو بجا طور پر دوست درج ہے مگر دوسرا مصرع ’’ہمسفر ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘‘ کر کے شعر غلط کر دیا گیا ہے۔ مجروح سلطانپوری کا بہت مشہور شعر درست یوں ہے:
مَیں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
بے شمار لفظی اغلاط کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ بہت سے بہت ہی مشہور بلکہ ضرب المثل کی حد تک مشہور اشعار کو ’’شاعر نامعلوم‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے نمونے کے طورو پر چند مشہور شعر اُن کے خالق کے نام کے ساتھ قارئین کی دلچسپی کے لئے درج کئے دیتا ہوں:
تجھ کو چاہا تری دہلیز پہ سجدہ نہ کیا
وہ مرا عشق تھا اور یہ مری مجبوری ہے
یہ شعر مرحوم مظہر گیلانی(پشاور ) کا ہے۔ ایک مشہور شعر شوق کے نام سے درج ہے:
ہم رُوحِ سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ
اب صرف شوق تخلص سے کیا مُراد ہے؟۔۔۔شوق قدوائی۔۔۔؟ یا کوئی اَور پورا نام لکھنا چاہئے تھا یعنی رضی اختر شوق۔۔۔! دو تین جگہ ’’جانثار اختر‘‘ کے اشعار درج ہیں ہر جگہ ’’جانثار‘‘ہی لکھا گیا ہے جبکہ ’’جا‘‘ معنی جگہ کے ہوتے ہیں شاعر ، ’’جگہ‘‘ نثار کرنے والے نہیں جان نثار کرنے والے جاں نثار اختر۔۔۔ہیں’’ناطے‘‘ کا املا ’’ناتے‘‘۔ ’’وطیرہ‘‘ کا ’’وتیرہ‘‘ ہونا چاہئے تھا۔ کہاں تک غلطیاں گنوائی جائیں، ساری کتاب ہی نظرِثانی کی شدید متقاضی ہے یہ تو ایک کتاب کی بات ہوئی ابھی کل پرسوں ایک بہت مشہور شعر مولانا الطاف حسین حالیؒ کو بخش دیا گیا ہے یہ دراصل آتش لکھنوی کا ضرب المثل شعر ہے:
سفر ہے شرط مسافر نواز بُتہیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے
(ختم شد)

مزید :

کالم -