سندھ میں ”لوہا منوانے“ کی تیاریاں

سندھ میں ”لوہا منوانے“ کی تیاریاں

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے صوبائیت کی بُو آتی ہے،وزیراعظم نے ہر گز نہیں کہا کہ لاک ڈاؤن اشرافیہ نے کرایا اُن کی بات کی مَیں وضاحت کر دیتا ہوں، وزیراعظم نے کہا مُلک میں ایک مزدور طبقہ ہے ایک اشرافیہ ہے اور اس کے پاس لاک ڈاؤن میں زندہ رہنے کے وسائل ہیں،لیکن غریب میں صلاحیت نہیں، ہم نے بھوک اور غربت سے جان بچانی ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مُلک میں کورونا کے متعلق یونیفارم پالیسی ہے، کورونا کی قومی پالیسی میں سندھ کی اِن پٹ موجود ہے، مسلم لیگ(ن) کی رائے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں سے ہمیں مل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا مراد علی شاہ کی محنت سے ہر گز انکار نہیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر نے اچھی محنت کی ہے اُنہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،لیکن آج وفاق کی علامت والی جماعت سے سندھ کی بُو آ رہی ہے۔ سندھ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے نہ کریں گے جیسے پنجاب میں لوہا منوایا اب سندھ میں بھی ہم اپنا لوہا منوائیں گے، تیاری کر لو۔ ایک زمانے میں پیپلزپارٹی میں حوصلہ تھا اب عجلت ہے جب اپوزیشن سیاست کرے گی تو سیاسی جواب دیں گے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن سے پہلے خود اجلاس بُلاتی، اس کے بالکل برعکس پالیسی چلائی جا رہی ہے، حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنا گوارہ نہیں کرتی، حکومت کی سوچ منفی ہے جس کے نتائج قوم کو بھگتنے پڑ سکتے ہیں،حکومت نے سندھ کے خلاف کوئی کسر نہیں چھوڑی جو اپوزیشن کے خلاف بات کرے اُسے شاباش ملتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں جو خطاب کیا تھا اسی کی صدائے باز گشت سینیٹ میں بھی سنائی دی وہ چونکہ خود اور اُن کے مرحوم والد ِ محترم پیپلزپارٹی میں رہ چکے ہیں، اِس لئے وہ اپنے زمانے کی پارٹی کو تو وفاق کی علامت قرار دیتے ہیں، جبکہ موجودہ پیپلزپارٹی سے اُنہیں صوبائیت کی بو آتی ہے،حالانکہ اِس وقت حکومت میں جو لوگ شامل ہیں اُن میں بہت سے ایسے ہیں جن کا رومانس پیپلزپارٹی کے ساتھ بڑا گہرا تھا،لیکن سیاسی مصلحتوں کے تحت جب انہوں نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا تو پھر اس کے لئے کوئی نہ کوئی جواز تو تلاش کرنا تھا۔ شاہ محمود قریشی پیپلزپارٹی کے دور میں بھی وزیر خارجہ تھے،جب کابینہ کی تشکیل ِ نو میں اُن کا محکمہ تبدیل کیا گیا تو وہ پارٹی سے الگ ہو گئے،اب پارٹی چیئرمین کا کہنا ہے کہ اُنہیں وزیراعظم بنانے کا جھانسہ دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے پارٹی چھوڑی، وجہ کچھ بھی ہو جب سیاست دانوں نے یہ طے ہی کر لیا ہے کہ اقتدار کی سیاست کرنی ہے اور جہاں سے اقتدار ملے اسی طرف لڑھک جانا ہے تو پھر ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کی گھن گرج سے تو لگتا تھا کہ شاید سندھ میں کوئی تبدیلی ہونے جا رہی ہے، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ سندھ کے گورنر کو تبدیل کیا جا رہا ہے شاید ان سے توقعات پوری نہیں ہوئیں، کیونکہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے وہ سندھ کی حکومت تبدیل کرنے کے لئے کسی نہ کسی انداز میں کوشاں ہے، اب شاہ محمود قریشی اگر کہہ رہے ہیں کہ وہ سندھ میں بھی پنجاب کی طرح لوہا منوانے کے لئے آ رہے ہیں تو کیا اِس سے یہ مطلب لیا جائے کہ سندھ میں حکومت کی تبدیلی کی کوئی نئی مہم جوئی شروع کی جا رہی ہے۔اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو ہمارا مشورہ یہی ہو گا کہ سندھ میں تبدیلی کی کوئی نئی کوشش کرنے سے پہلے سابقہ کوششوں کے نتائج پر غور کر لیا جائے،دو سال کے عرصے میں کتنی ہی مرتبہ کئی وفاقی وزراء نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت گئی کہ گئی،لیکن چار دن کی چاند ماری کے بعد پسپائی اختیار کر لی، اب اگر وفاقی حکومت پھر میدان میں اُترنا چاہتی ہے تو پرانے تجربات دہرانے کی بجائے کوئی نئی ٹیکنیک استعمال کرے۔

شاہ محمود قریشی نے پنجاب میں لوہا منوانے کی جو بات کی ہے وہ بھی خوب ہے،2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) صوبے کی سب سے بڑی جماعت تھی،لیکن یہ طے تھا کہ اُسے حکومت نہیں بنانے دینی،اِس لئے سارے آزاد ارکان گھیر گھار کر تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دیئے گئے، پھر بھی حکومت نہیں بن رہی تھی تو پندار کا صنم کدہ ویران کر کے مسلم لیگ(ق) کے درِ دولت پر حاضری دی گئی،حالانکہ اس کی سینئر قیادت کے بارے میں وزیراعظم کے جو خیالات تھے وہ کبھی کبھار اس وقت بھی سنائی دے جاتے ہیں جب کوئی ٹی وی چینل پرانے کلپ چلا دیتا ہے،اب بھی پنجاب کی حکومت مسلم لیگ(ق) کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے،لیکن اتنا واضح ہے کہ تحریک انصاف اس سیاسی رشتے کو باامرِ مجبوری ہی نبھا رہی ہے،اِس لئے شاہ محمود قریشی اگر اسے ”پنجاب میں لوہا منوانا“ کہتے ہیں تو اُن کی دریا دِلی ہے مانگے تانگے کے اس بندوبست پر خوشی کے شادیانے نہیں بجائے جا سکتے۔جدید لُغت میں اسے ”سیاسی انجینئرنگ“ کہتے ہیں اگر وزیر خارجہ کے ذہن میں سندھ میں لوہا منوانے کا کوئی ایسا ہی نسخہ ہے تو بہتر ہے اسے استعمال میں لانے سے گریز کریں۔یہ درست ہے کہ سندھ کے ایک مخصوص علاقے میں شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی بڑی تعداد موجود ہے،لیکن ان مریدین کی سیاسی حمایت سے کوئی قلعہ فتح نہیں کیا جا سکتا،اب تو سندھ میں وفاقی حکومت کی حلیف جماعتیں بھی عملاً اس کھیل سے الگ ہو چکی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کے دارالحکومت میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی اکثریت ہے، بالکل بجا فرمایا،لیکن ایک شہر میں اکثریت کا مطلب صوبے کی اکثریت نہیں ہوتا۔

پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس اگر بُلائے گئے تھے تو یہ ضروری تھا کہ ارکان کی جانب سے کورونا کے خلاف حکمت ِ عملی کے بارے میں تجاویز پیش کی جاتیں،لیکن کورونا پالیسی کا ذکر تو برائے وزنِ بیت ہی ہوا۔ البتہ سیاسی تقریروں نے دونوں روز خوب رنگ جمائے رکھا۔وزیر خارجہ نے اپنی تقریر کا سارا فوکس پیپلزپارٹی پر رکھا وہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت مخالف تقریروں کا جواب دینا ضروری تھا،لیکن جوشِ جذبات میں کہیں کہیں ایسے چوکے اور چھکے موجود تھے جن پر پیپلزپارٹی کا ردعمل بھی بہت جذباتی تھا اور بلاول بھٹو زرداری نے تو یہ مطالبہ بھی داغ دیا کہ وہ سینیٹ میں اپنا بیان واپس لیں یا مستعفی ہو جائیں۔بلاول کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ شاہ محمود قریشی کو کون تحریک انصاف میں لے کر گیا تھا۔یہ بھی معلوم ہے کہ انہیں وزیراعظم بننے کا خواب کس نے دکھایا۔ہم قومی یکجہتی کی بات کر رہے ہیں،لیکن شاہ محمود قریشی سندھ میں لوہا منوانا چاہتے ہیں۔کورونا کی موجودہ فضا میں قومی اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،لیکن وزیر خارجہ نے جوشیلے خطاب سے سیاسی خلیج وسیع تر کر دی ہے، نئی محاذ آرائی کے لئے شاید نئے کھلاڑی بھی میدان میں اُتارے جا رہے ہیں،گورنر کے لئے جو نئے نام گردش کر رہے ہیں اُنہیں بھی اِسی پس ِ منظر میں دیکھا جا رہا ہے، اسی ماحول میں قومی مالیاتی ایوارڈ کے لئے نیا فنانس کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے،جس میں مشیر خزانہ کے تقرر کو غیر آئینی قرار دیا جا رہا ہے اور بلوچستان سے رکن کی نامزدگی پر حکومت کی اتحادی جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے اعتراض کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس رکن کے تقرر کو عدالت میں چیلنج کریں گے، کمیشن کے لئے جو ٹی او آر رکھے گئے ہیں اُن پر بھی سندھ سے مخالفانہ آوازیں اُٹھیں گی اور ایک نئی سیاسی مخاصمت کا آغاز ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -