جنات کا غلام۔۔۔ ستائیسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔ ستائیسویں قسط
جنات کا غلام۔۔۔ ستائیسویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

چھبیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

ریاض شاہ اچھو خاں ڈکیت کے پاس پہنچا ۔ وہ الٹے منہ زمین سے چمٹ گیا تھا اس نے جوتی کی نوک اس کی ٹھوڑی پر رکھ کر اسے سیدھا کیا۔

”اٹھ دکھا مجھے اپنی طاقت“ ریاض شاہ کا لہجہ بھرا ہوا تھا ایسے لگتا تھا جیسے وہ خود نہیں کوئی اس کے اندر بول رہا ہے۔ ادھر برگد کے درخت پر جیسے قیامت مچی ہوئی تھی۔ اس کی شاخوں سے بہت سارے سانپ‘ تعویذ‘ ہڈیاں‘ رنگ برنگے کپڑے اور نہ جانے کیا کیا فضولیات نیچے گرنے لگی تھیں۔

اچھو خاں کی آنکھوں میں جوالہ انگڑائیاں لینے لگا تھا ۔ وہ جھٹ سے اٹھا اور سینہ ٹھونک کر ریاض شاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا وہ انتہائی سرعت کے ساتھ ریاض شاہ کو ٹکر مارنے لئے بڑھا۔ کسی بپھرے ہوئے سانڈ کی ٹکر پہاڑ کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہے ،مگر ریاض شاہ کے اندر چٹانوں سے زیادہ ثابت قدمی آ گئی تھی۔ اچھو خاں کی ٹکر کھانے کے باوجود اس کے بدن کو ہلکا سا بھی جھٹکا نہیں لگا تھا بلکہ اس ضرب شدید کے ردعمل میں اچھو خاں پیچھے الٹ گیا ۔جب اٹھا تو اپنے سر کو دونوں ہاتھ سے تھام رکھا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے اس کے سر کے اندر کی دنیا میں زلزلہ آ گیا ہے۔ وہ سر کو بار بار جھٹک کر اپنے ہوش واپس لانے لگا۔ ریاض شاہ کے چہرے پر عجیب سی سرشاری اور طاغوتیت تھی۔ اچھو خاں دوبارہ اپنے حواس میں آیا ایک بار پھر وہ دھاڑتا ہوا ریاض شاہ کی طرف بڑھا اور اپنی پوری قوت صرف کرکے اس کے پیٹ میں ٹکر ماری مگر اس بار بھی اس کے ساتھ وہی ہوا جو اس سے قبل ہوا تھا ۔ لیکن اس کی جرات دیکھ کر میں عش عش کر اٹھا۔ وہ تیسری بار اٹھا اور ریاض شاہ کو ٹکر مارنے ہی لگا تھا کہ ایک زوردار آواز نے اس کے دوڑتے قدموں میں بھاری زنجیر ڈال دی اور وہ کسی بت کی طرح اپنے قدموں پر منجمد ہو گیا۔

”رک جاﺅ اچھو“ مکھن سائیں قبر کا تختہ پیچھے دھکیل کر باہر آ گیا تھا۔ مر جائے گا تو اچھو لیکن اس پہاڑ کا ایک پتھر بھی نہ توڑ پائے گا“ مکھن سائیں کے چہرے پر مسکان تھی۔ اس نے اپنے دونوں بازو فضا میں بلند کئے اور حق یا علی .... حق اللہ .... یا پیر دستگیر .... حق اللہ“ کے نعرے بلند کرکے اس نے برگد کے درخت کی طرف نظر اٹھائیں تو برگد کی جھومتی شاخیں آہستہ آہستہ ساکت ہو گئیں اور طوفان یوں تھم گیا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ یہ مکھن سائیں کی کرامت تھی یا شعبدہ .... یا پھر .... برگد پر طوفان برپا کرنے والوں سے کوئی تعلق ۔۔۔۔۔۔کہ تلاطم یکدم کافور ہو گیا اور برگد کی شاخیں آہستہ آہستہ جھومنے لگیں اور ان سے ٹھنڈی ہوائیں آنے لگیں۔ مکھن سائیں نے لمبا سا کالے رنگ کا چولا پہنا ہوا تھا۔ ہاتھوں میں عقیق کے دانوں کی تسبیح تھی۔ ایک ایک دانا نیچے گراتا ہوا وہ اچھو خاں ملنگ کی طرف بڑھا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا

”اوئے اچھو ۔ میں نے کتنی بار کہا ہے کہ اپنے اندر کے ڈاکو کو مار ڈال۔ ہر ایک کے ساتھ الجھا نہ کر۔ آج تو نے میرے مہمان کو اپنی بدمعاشی دکھانی شروع کر دی تھی“

”سرکار .... اس نے۔۔۔۔۔۔“

”زبان بند کر اچھو۔ میں سب سن رہا تھا۔ تو نے اس معصوم لڑکی کو مار کر ہمارے شاہ صاحب کو ناراض کر دیا تھا“ مکھن سائیں اس کو سرزنش کرنے لگا تو نہ جانے مجھے کیوں لگا مکھن سائیں ڈرامہ کر رہا ہے۔ مکھن سائیں ریاض شاہ کی طرف بازو پھیلا کر بڑھا اور دونوں نے معانقہ کیا۔

”معاف کرنا شاہ جی .... ان کم عقلوں کو بندوں کی پہچان نہیں ہے“ مکھن سائیں نے کہا

”آپ انہیں لگام ڈال کر رکھیں ناں سائیں۔ ان کی حرکتوں سے آپ کو ہی نقصان پہنچے گا“ ریاض شاہ کے چہرے پر اب سکوت تھا۔

”آئیں اندر چلتے ہیں“ مکھن سائیں نے ریاض شاہ کا ہاتھ تھام کر اپنے حجرہ میں چلنے کے لئے کہا۔ یہ سن کر مکھن سائیں بولا ”شاہ جی یہ بچہ ہے۔ بڑوں کی باتوں میں اسے کیا مزہ آئے گا۔ میرے ملنگ اس کی ٹہل سیوا کریں گے۔ آپ اندر چلیں بہت سی باتیں کرنی ہیں آپ سے“

ریاض شاہ نے میری طرف دیکھا تو میں خود ہی بول پڑا ”ٹھیک ہے شاہ جی میں ادھر ہی بیٹھتا ہوں آپ ہو آئیں“

”سمجھدار بچہ ہے“ مکھن سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے ملنگوں کو میری خدمت کی ہدایت کرکے اندر جانے لگا تو وہ بوڑھی عورت بول پڑی ”سرکار .... میرے لئے کیا حکم ہے“

مکھن سائیں نے غصہ بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور کہا ”مائی اسے گھر لے جاﺅ اگلی جمعرات کو آنا“

”مگر سرکار .... یہ تو باﺅلی ہو گئی ہے۔ گھر کیسے لے جاﺅں“ عورت گھگھیائی ”کوئی تعویذ دے دیں سرکار“

”اچھا ۔ اچھا“ مکھن سائیں ناگواری سے بولا ”اوئے بھولے قلندر اس کو تعویذ بنا دے“ یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔ بھولا قلندر ایک مجہول سا بوڑھا تھا وہ برگد کے نیچے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ برگد کے تنے میں ایک بڑی سی کھوہ تھی اس کے اندر چراغ رکھے تھے۔ کھوہ کی دیواروں پر کالے رنگ کے چیتھڑہ نما کپڑے اور دھاگے لٹکے ہوئے تھے۔ اس نے ایک دھاگا کھینچ کر اتارا۔ کچھ پڑھتے ہوئے اس نے دھاگے میں سات گرہیں لگائیں اور دھاگا بوڑھی عورت کو دے کر کہا ”اس کے پاﺅں میں سائیں سرکار کی سنگلی ڈال دے اب یہ کہیں نہیں بھاگے گی“

عورت نے نہایت ادب اور تمیز کے ساتھ دھاگا لیا اور اپنی بیٹی کے پاﺅں سے باندھ دیا۔ اس کی بیٹی ابھی تک بے حس پڑی تھی۔ ”جا .... اب چلی جا“

”سرکار کے مہمان کے لئے شربت لے کر آﺅ“ بھولے قلندر نے ایک ملنگ سے کہا تو میں بول پڑا

”شکریہ جناب مجھے پیاس نہیں ہے“ میں جانتا تھا کہ ان کا شربت کس قسم کا ہو گا۔

”ناں جی .... یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ سرکار ناراض ہوں گے جی شربت تو آپ کو پینا ہی ہو گا“

”محترم میں روزے سے ہوں۔ میں نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے لہٰذا میں یہ شربت پینے سے معذور ہوں“ میں نے اس موقع پر جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑانی چاہی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان لوگوں کا مخصوص شربت بھنگ کے علاوہ دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر میں جلدی سے عورت کی طرف بڑھا وہ اپنی بچی کو ہوش میں لا رہی تھی۔

”ماں جی .... اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے ماریں“ میں نے کہا تو اس کا شوہر پانی لے آیا ۔ چھینٹے مارنے سے لڑکی کو ہوش آ گیا تو وہ خالی خالی نظروں سے اردگرد دیکھنے لگے۔ پھر مجھ پر نظر پڑی تو گھبرا گئی اور اپنی ماں کے ساتھ لپٹ گئی۔

”ماں مجھے گھر لے چلو“ لڑکی خوف زدہ نظروں سے اچھو خاں ملنگ کو دیکھنے لگی جو اس سے چند قدم اور کھڑا اسے گھور رہا تھا۔

”چل میری بچی گھر چلتے ہیں“ عورت نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور اس کے سر پر چادر دے کر اس کی خستہ حالی کو چھپا کر چلنے لگی

”ماں جی آپ نے کہاں جانا ہے“ میں نے دیکھا کہ ہمارے تانگے کے سوا کوئی اور سواری وہاں نہیں تھی۔ اسے نہر کی پٹری تک پیدل جانا تھا

اس نے اپنے گاﺅں کا نام بتایا۔”آپ کیسے جاﺅ گی“ میں نے دریافت کیا۔

”پتر اپنے پیروں پر چل کر ہی جانا ہے“

”ٹھہرئیے۔ میں آپ کو نہر تک چھوڑ آتا ہوں“ میں نے کوچوان کو آواز دے کر بلایا تو وہ عورت مسکینوں کی طرح بولی۔”رہنے دے پتر ہم چلے جائیں گے“

”ماں جی آپ کی بیٹی کی حالت ایسی نہیں ہے کہ یہ چل سکے اور پھر آپ دونوں اسے اٹھا کر بھی تو نہیں جا سکتے“

”چلے ہی جائیں گے سائیں کی دعا سے .... دیکھ لو .... میرے سائیں کے ایک تعوید نے اس کو گھر واپس جانے پر آمادہ کر دیا ہے ورنہ یہ باﺅلی تو گھر جانے کا نام نہیں لیتی تھی“ مجھے ماں بیٹی کی ذات میں دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔ میں ان کی کہانی سننا چاہتا تھا کہ وہ کون ہیں اور مکھن سائیں سے ان کی یہ عقیدت .... اور لڑکی کی یہ بیماری کیسے پیدا ہوئی۔ میں نے انہیں تانگے پر بٹھایا تو بھولا قلندر دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا

”آپ کہاں جا رہے ہیں“

”میں انہیں نہر تک چھوڑنے جا رہا ہوں“ میں نے کہا

”ناں جی آپ یہ نہیں کر سکتے۔ سرکار کے مہمان ہیں وہ ناراض ہوں گے“

”میں ابھی آ جاتا ہوں“ یہ کہہ کر میں نے کوچوان سے چلنے کے لئے کہا ۔بھولا قلندر مجھے روکتا ہی رہ گیا مگر میں نے اس کی ایک نہ سنی

”ماں جی .... آپ کی بیٹی کو کیا ہوا ہے۔ کیا یہ بچپن سے ہی ایسی ہے“ میں نے راستے میں ان سے پوچھا

“ناں میرے پتر .... یہ اچھی بھلی تھی۔ ایک سال پہلے جب میں سیالکوٹ شائیں بادشائیں کے مزار پر سلام کرنے گئی تھی تو واپسی پر اس کی حالت خراب ہو گئی تھی۔ میں سمجھی کہ بیمار ہے۔ دوا دارو بہت کیا ، مگر میری بچی کی حالت نہیں سنبھلی۔ چھ سات مہینے گزر گئے۔ اس کے سر کے سارے بال اتر گئے اور سارے بدن کا ماس پولا ہو گیا۔ میری تو ایک ہی اولاد ہے میری اس میں جان ہے۔ دسویں میں پڑھتی تھی۔ سرخ سپید رنگ تھا اس کا نہ جانے میری بچی کو کس کی نظر لگ گئی۔ دو مہینے پہلے۔ مکھن سائیں کا ایک ملنگ خیرات مانگنے آیا تو میں نے اسے روٹی دی اور کہا کہ سائیں بابا دعا کرو میری بچی ٹھیک ہو جائے۔ اس نے بچی کو دیکھا تو کہا کہ اس پر طاقتور قسم کا جن آیا ہوا ہے تم اسے مکھن سائیں کے پاس لے جاﺅ۔ میں دوسرے دن چارپائی پر ڈال کر اپنی بچی کو مکھن سائیں کے پاس لے آئی۔ اللہ سوہنے کا کرم ہوا۔ سائیں کی دعا سے میری بچی سنبھلنے لگی اور ایک مہینے میں اس کے سر کے بال اور بدن کا گوشت واپس آنے لگا۔ میری بچی نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا صرف مٹی کھاتی تھی لیکن اب یہ روٹی بھی کھا لیتی ہے اللہ بھلا کرے سائیں بہت اچھے ....“

یہ سن کر وہ لڑکی اچانک چیخ پڑی ”ماں .... سائیں اچھا انسان نہیں ہے وہ گندہ ہے گندہ“

”ناں .... ناں پتر .... ایسے نہیں کہتے“ اس کی ماں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا

”بی بی اللہ کے قہر کو آواز نہ دو سائیں بہت اچھے انسان ہیں“ کوچوان بولے بغیر نہ رہ سکا۔

”تمہارا سائیں ہے کیا۔ خدا غارت کرے تم اندھے لوگوں کو۔ تمہاری آنکھیں شیطان نے پھوڑ ڈالی ہیں اس لئے تمہیں نظر نہیں آتا“

”استغفراللہ“ میرے لبوں سے نکلا میں لڑکی کو دیکھنے لگا

”توبہ توبہ .... بی بی“ کوچوان ہڑبڑا گیا اور اس نے تانگہ روک لیا۔

”بی بی .... نیچے اترو میں مکھن سائیں کے نافرمانوں کو اپنے تانگے میں نہیں بٹھا سکتا“

”نافرمان .... ہونہہ۔ تم اللہ کے نافرمان اگر تمہاری کوئی بیٹی بہن ہے۔ جوان اور کنوری ہے تو اس کا جن اتروانے کے لئے تعویذ دھاگے کے لئے یہاں لے آتا .... اور پھر مجھے بتانا کہ تمہارا مکھن سائیں کیسا ہے۔ اس کے بھوکے ملنگ کیسے ہیں۔ اللہ تم لوگوں کو غارت کرے۔ بے غیرت قسم کے لوگ ہو تم۔ پاگل کہہ کر میری باتوں کو رد کر دیتے ہو۔ لیکن تم خود پاگل ہو۔ تمہیں کچھ سمجھ نہیں آتی۔ تم عقیدتوں کے سراب میں بھٹکتے پھرتے ہو۔ تم شیطان اور جنات کے غلام ہو۔ ایسے بدعقلوں کو تو مکھن سائیں فرشتہ ہی نظر آئیں گے۔ اللہ کی مار ہو تم لوگوں پر“ یہ کہہ کر وہ لڑکی تانگے سے نیچے اتر گئی۔ اس نے ماں اور باپ کو نیچے اتار لیا۔ میں نے تانگے والے کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ ایسا خفا اور شرمندہ ہوا کہ تانگہ لے کر نہر کی طرف چلا گیا۔

”تم ٹھیک کہتی ہو“ میں نے لڑکی سے کہا ”کیا نام ہے تمہارا“

”بلقیس“ وہ بولی ”ماں مکھن سائیں کا کلمہ پڑھتی ہے۔ میں کہتی ہوں ماں تم شیطان کے بہکاوے میں آ گئی ہو اس کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں“

”مکھن سائیں نے کیا کہا ہے تمہیں“ میں نے کہا ”اس کے تعویذ اور دعاﺅں سے تمہارے جن اتر گئے ہیں اور تم صحت یاب ہو گئی ہو“

”گند کو گند نے ہی صاف کیا ہے لیکن اب وہ میری پاکیزگی کو اپنی غلاظت کے جوہڑ میں ڈبو دینا چاہتا ہے“ بلقیس کے اندر جیسے لاوا ابل رہا تھا۔ اس کی ماں نے اسے خاموش کرانے کی بڑی کوشش کی مگر اس نے ایک نہ سنی اور بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔....

اس نے ماں کو سختی سے ڈانٹ دیا اور چیخ چیخ کر کہنے لگی۔

”ماں .... مکھن سائیں کہتا ہے بلقیس تو میری ملنگنی بن جا اور اب میرے پاس ہی رہا کر۔ تو بھی یہی چاہتی ہے۔۔۔۔ بابو“ وہ میری طرف رخ موڑ کر کہنے لگی ”یہ میری ماں ہے اس نے مجھے جنم دیا ہے۔ اپنے دودھ کا واسطہ دے کر کہتی ہے مکھن سائیں کو ناراض نہیں کرنا۔ اس کی بددعا ........ برباد کر دیتی ہے۔ آپ خود انصاف کریں کیا مجھے ماں کی بات مان لینی چاہئے“ بلقیس ماں اور باپ کے سامنے مجھے مکھن سائیں کی ہوس بھری اصلیت کی کہانی سناتی چلی گئی .... اور میں عقیدتوں کا مارا شرم سے زمین میں گڑھ گیا۔ اس کے باپ کا سر جھک گیا۔ مگر ماں کا چہرہ شرمندگی سے خالی تھا۔ الٹا اسے کہنے لگی ”بلقیس تو نہیں ترے اندر جن بول رہا ہے۔ لگتا ہے ابھی نکلا نہیں ہے۔ وہ تجھے گمراہ کر رہا ہے۔ مکھن سائیں پر الزام لگا رہی ہے تو۔ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے“

”ماں .... میری بھولی ماں“ بلقیس اس کے دونوں شانے پکڑ کر اس کی نظروں میں دیکھتے ہوئے سسک سسک کر کہنے لگی ”تجھے میں کیسے سمجھاﺅں۔ تو نہیں جانتی تو اپنی بیٹی کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے“ پھر وہ انپے باپ کی طرف دیکھنے لگی اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی۔ ”ابا میں مر جاﺅں گی لیکن اس آستانے پر نہیں آﺅں گی۔ اس ظالم نے مجھے چیلوں کی طرح نوچ ڈالا ہے۔ میں شور کرتی رہی۔ مگر ماں کہتی ہے وہ میرے جن اتار رہا تھا۔ ابا خدا کے لئے مجھے یہاں سے دور لے جاﺅ“

بلقیس کے دکھ سے میرا کلیجہ چھلنی ہو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ ہماری بعض عورتیں کتنی معصوم اور بے وقوف ہوتی ہیں جو عقیدتوں کی مٹی اپنے تن من پر لیپ کر یہ سمجھنے لگتی ہیں وہ گناہ کی آلائشوں سے پاک ہو گئی ہیں۔ یہ نہیں سمجھتیں کہ یہ مٹی غلاظت کے ڈھیر سے اٹھائی گئی ہے۔ توہمات کی ماری ہوئی ان عورتوں نے پورے سماج کو اپنے اللہ اور اس کے رسول سے دور کر دیا ہے۔ اے کاش یہ سمجھ لیں کہ ایسی جگہوں پر خدا کی تعلیمات نہیں پائی جاتیں جہاں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق زندگی نہیں ملتی .... اللہ نے کالے پیلے دھاگوں اور کپڑوں کی دھجیوں میں گرہیں لگا کر جنتر منتر کرکے مسائل حل کرنے کی سختی سے ممانعت کی ہوئی ہے۔ دھاگوں کی گرہوں میں خدا کا کلام نہیں باندھا جاتا۔ میرے اللہ کا کلام تو وہ ہے جو زباں سے ادا ہو اور کسی محتاجی اور وسیلے کے بغیر بندے کے دل میں اتر جائے۔ آسمانوں پر پہنچ جائے۔ میرے اللہ کے کلام میں تو وہ طاقت اور اثر ہے جو بدی کی مخلوق کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ بھنگ چرس اور ہوس بھرے لبوں سے یہ مقدس الفاظ نہیں نکلتے۔ وہ تو ان کالے پیلے دھاگوں میں معصوم اور احمق لوگوں کے ایمان کو پروتے ہیں۔ میں انہیں کیا سمجھاﺅں کہ میرے اللہ اور میرے رسول اور اس کے حقیقی صالحین و اولیا کی تعلیمات کیا ہیں۔

بلقیس ایک سمجھدار لڑکی تھی۔ میں نے اس کی ماں کو سمجھایا اور اسے نصیر کے گاﺅں کا پتہ دے کر سمجھایا کہ وہ آج شام کو اسے لے کر وہاں آ جائے۔ میں نے طے کیا تھا کہ اپنی موجودگی میں ریاض شاہ سے کہہ کر اس کا علاج کرا دوں گا۔ میں بلقیس اور اس کے ماں باپ کو نہر کی پٹڑی پر چھوڑ کر واپس آستانے پر آ گیا۔ بھولے قلندر نے کینہ توز نظروں سے دیکھا اور منہ پھیر لیا۔ اگر میں مکھن سائیں کا مہمان نہ ہوتا تو یقیناً وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتا۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ میں نے ایک معصوم ہرنی کو ان درندوں کے ہاتھوں سے نکل جانے کا موقع دے دیا تھا۔

دس پندرہ منٹ بعد ریاض شاہ اور مکھن سائیں حجرے سے باہر نکلے تو دونوں کے چہرے خوشی کی تمازت سے روشن تھے لیکن جونہی مکھن سائیں نے مجھے دیکھا اس کے ہونٹ کھچ گئے۔

”اچھا سائیں .... اب ہم چلتے ہیں۔ کل میں آپ کا انتظار کروں گا“

”اللہ سائیں خیر کرے .... میں آﺅں گا“ مکھن سائیں نے بھاری بھرکم ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا۔ ”بالکے میں اچھو کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ اب تو جس دنیا کا بندہ بن چکا ہے اس میں پورے کا پورا داخل ہو جا لیکن یہ پاگل سمجھتا ہی نہیں۔ اس کے اندر کا انسان اسے ابھارتا رہتا ہے۔ بچے میری بات سمجھ رہا ہے ناں .... جب مرید مرشد کے دائرے میں آ جاتا ہے اور اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیتا ہے تو اپنے مرشد کی آنکھ‘ کان اور زبان بن جاتا ہے۔ اس کا دل اپنا نہیں رہتا۔ مرشد کے دل کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ یہ فقیری لائن تو کیا سمجھے۔ تجھے تو نئی نئی کہانیوں کی تلاش رہتی ہے۔ لیکن یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ تو ابھی ان نزاکتوں کو نہیں سمجھتا“

”سائیں .... شاہد میاں بڑا سمجھدار لڑکا ہے“ ریاض شاہ نے صورتحال سمجھتے ہوئے کہا ”آپ جب اس کے ساتھ بیٹھیں گے تو غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ اچھا اب ہم چلتے ہیں“ یہ کہہ کر ریاض شاہ نے کوچوان کو تلاش کرنا شروع کیا تو میں نے کہا ”وہ چلا گیا ہے“

”کیوں چلا گیا“ ریاض شاہ نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا تو میں سمجھ گیا کہ انہیں سارے معاملے کی خبر نہیں ہے۔

مکھن سائیں کے لبوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی ”یہی بات تو میں اسے سمجھا رہا تھا شاہ صاحب اس بیچارے کو تو پھر جانا ہی تھا“

”چلو پھر پیدل چلتے ہیں“ ریاض شاہ نے قدرے ناگواری سے کہا۔

”شاہ صاحب یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ کو بڑی عزت کے ساتھ ہم روانہ کریں گے“

مکھن سائیں نے اچھو خاں ملنگ کو آواز دی۔ ”ذرا تانگہ گھوڑا جوت لے بھئی۔ شاہ صاحب کو ان کے گاﺅں تک چھوڑ کے آنا ہے“

میں حیران ہو کر دیکھنے لگا کہ اس پورے آستانے میں تانگہ گھوڑا تو کہیں بھی نظر نہیں آ رہا تھا پھر مکھن سائیں ہم سے مذاق کیوں کر رہا تھا۔ لیکن ہماری حیرت اس وقت دور ہو گئی جب اچھو خاں حجرے کے عقب میں گیا تو گھوڑے کے ہنہنانے کی آوازیں آنے لگیں۔ پانچ منٹ بعد وہ تانگہ لے آیا۔ گھوڑا اعلیٰ نسل کا تھا۔ اس کا قدر کاٹھ بھی غیر معمولی تھا۔ رنگ سفید تھا لیکن اس کی رانوں پر کالے رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ آنکھیں صاف اور گہری کالی۔ اسے دیکھ کر احساس ہوتا تھا یہ گھوڑا کسی نواب یا مہاراجے کا ہو گا اس کی ٹہل سیوا اور ستھرائی صرف کسی بڑے اصطبل میں ہی ہو سکتی تھی۔

”اچھا شاہ صاحب آپ بیٹھیں۔ یہ تانگہ آپ لے جائیں اللہ کا نام لے کر واپسی کے لئے اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیجئے گا۔ یہ خود واپس آ جائے گا“

میں نے مکھن سائیں کو دیکھا اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ وہ بول اٹھا ”جو شے مکھن سائیں کی ہو جاتی ہے وہ اپنا راستہ نہیں بھولتی۔ وہ واپس آستانے پر آ جاتی ہے“

”آﺅ بھئی .... آج مکھن سائیں کی سواری کا مزہ لیتے ہیں“ ریاض شاہ خاصا پرجوش نظر آ رہا تھا۔ وہ آگے اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا تو مکھن سائیں گھوڑے کے پاس آیا اور اس کے ماتھے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا

”میرے بچے میرے مہمانوں کو ان کے گاﺅں تک چھوڑ آ اور اچھے بچوں کی طرح واپس آ جانا۔ جا میرے بچے“ یہ کہہ کر اس نے گھوڑے کے چہرے پر پھونک ماری تو گھوڑے نے نتھنے پھیلائے اور تانگے کو لے کر چل دیا۔ شاہ صاحب نے اس کی راسیں پکڑی ہوئی تھیں

”شاہ صاحب یہ تو عجوبہ ہے“ میں نے کہا

”مکھن سائیں خود بھی تو عجوبہ ہے“ شاہ صاحب نے قہقہہ لگایا ”لیکن یہ تو بتاﺅ تانگے والا کیوں چلا گیا تھا“

میں نے ساری بات سنا دی اور یہ بھی کہا کہ آج رات وہ لڑکی ماں باپ کے ساتھ ہمارے پاس حویلی میں آئے گی۔

”تو نے مجھ سے تو پوچھ لیا ہوتا“

”شاہ صاحب آپ نے جس طرح اس کو اچھو ملنگ کی زیادتی سے بچایا ہے میں نے اس مان کے ساتھ اس کو حویلی بلایا ہے۔ وہ لڑکی بڑی اچھی ہے اور اچھے برے میں تمیز کرنا جانتی ہے“

”شاہد میاں .... تم ٹھیک کہتے ہو۔ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اچھے برے کی تمیز کرنے کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ لیکن یار تم فی الحال ہر ایک سے الجھنے کی کوشش نہ کیا کرو ۔تمہارا ادراک اور فہم درست ہے۔ مکھن سائیں کے بارے میں اچھی طرح جان چکا ہوں۔ یہ شخص سفلی علوم میں اس قدر ماہر ہے کہ خدا پناہ۔ بڑا خود غرض بندہ ہے۔ اس نے تو بابا جی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جنات کا ایک پورا قبیلہ اس کا مطیع ہے۔ چلے کاٹ کاٹ کر اس نے خود کو کندن بنا لیا ہے۔ یہ بندہ چالیس گھنٹے تک اپنا سانس روک اور چالیس روز تک بغیر کچھ کھائے پئے زندہ رہ سکتا ہے“

”آپ اسے کیسے جانتے ہیں“ میں نے پوچھا

”میں نے بڑے بھائی سے اس کا نام سن رکھا تھا“ ریاض شاہ کہنے لگا

”ہم لاہور کے اصل مکین نہیں ہیں۔ ہم پہلے ادھر ڈسکہ میں رہتے تھے۔ باباجی میری والدہ کے پاس تھے۔ برسوں پہلے ہم لاہور منتقل ہو گئے لیکن ڈسکہ اور سیالکوٹ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ بڑے بھائی ڈسکہ نہر کے پاس سے گزرنے والی نہر کے کنارے چلے کاٹتے تھے۔ مکھن سائیں کے ساتھ وہاں ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ پھر جب میں ادھر ملکوال آیا تو بابا جی کی حاضریاں لگنے لگیں۔ ٹاہلی والی سرکار سے ملاقاتیں ہونے لگیں تو مکھن سائیں کو علم ہو گیا“ ریاض شاہ کی بات سن کر معاً مجھے مکھن سائیں سے اپنی پہلی ملاقات کا منظر یاد آ گیا ۔ جس روز میں دو رتی افیون لینے کے لئے لالو قصائی کے ساتھ نہر کی پٹری سے گزر رہا تھا تو مکھن سائیں سے ملاقات ہو گئی تھی۔ اس نے بڑے خفیف اور معنی خیز انداز میں لالو سے کہا تھا کہ یہ ہمارے مہمانوں کا خدمت گار ہے۔ اس لئے ہم اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ آج مجھے یاد آ رہا تھا کہ مکھن سائیں کو علوم کی طاقت کے ذریعے یہ بات معلوم تھی کہ میں کس کے لئے افیون لے کر جا رہا تھا۔ میں نے ریاض شاہ کو اس سے پہلی ملاقات کا ماجرہ سنایا تو وہ ہنسنے لگا ”یہ تو بہت معمولی بات تھی“

”کیسے“

”وہ ایسے کہ اس روز غازی تمہارے ساتھ ساتھ تھا۔ مکھن سائیں نے اسے دیکھ لیا تھا اور ان کی آپس میں گفتگو بھی ہوئی تھی۔ یہ غازی ہی تھا جو تمہیں پولیس کی دستبرد سے محفوظ رکھتا رہا۔ مکھن سائیں نے غازی کے ذریعے باباجی کو سلام پہنچایا اور ملاقات کا پیغام بھی دیا تھا“

”مکھن سائیں نے بابا جی کو قابو کرنے کے لئے کیا حرکت کی تھی“ مجھے اشتیاق ہوا تو میں نے یہ بات پوچھ لی۔

”ہاں“ ریاض شاہ اس وقت جوشیلے انداز میں بول رہا تھا۔ ”مکھن سائیں خود کو بہت زیادہ طاقتور انسان بنانا چاہتا ہے۔ تم نے دیکھ لیا ایک گھوڑا اس کے اشارے پر اس کے مہمانوں کو ان کے گاﺅں چھوڑ کر واپس اس کے پاس پہنچ جاتا ہے تو یہ ملنگ ٹائپ لوگ کیا شئے ہیں۔ اس نے اچھو خاں ڈکیت کو بے بس کر دیا ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا غازی نے جب بابا جی اور مجھ کو اس کا پیغام دیا تو بابا جی نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ اس سے نہیں ملنا چاہتے۔ لیکن جن دنوں ہمیں حویلی کی چڑیلوں کو رخصت کرنے اور کالی داس کے خلاف جنگ کا سامنا تھا تو بابا جی نے مصلحت کے تحت مکھن سائیں سے ملاقات کی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس پورے علاقے کی جناتی مخلوق اپنے علاقے میں ان کی دخل اندازی پر سیخ پا ہو۔ لہٰذا وہ جب اس سے ملنے گئے تو مکھن سائیں قبر میں چلہ کاٹ رہا تھا۔ اس کے جنات نے بابا جی کی خدمت کی۔ بابا جی قبر میں محو چلہ مکھن سائیں کے پاس گئے تو اس نے بابا جی کی آﺅ بھگت کی اور انہیں کہنے لگا کہ وہ اس پاس کیوں نہیں آ جاتے۔ مکھن سائیں کو بابا جی سرکار کی طاقت اور بزرگی کا صحیح طریقے سے ادراک نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ اگر وہ اس کا ساتھ دیں تو وہ پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گا۔ اس نے بابا جی کو اپنے موکل جنات کے پورے قبیلہ سے ملوایا تھا۔ بابا جی سرکار نے جب مکھن سائیں کو اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کس درجہ اور حیثیت کے مالک ہیں تو مکھن سائیں کی باچھیں کھل گئیں۔ ہوس اور غرض سے رال ٹپکنے لگی اور آنکھیں انتقام کے شعلوں سے بھر گئیں۔ وہ بابا جی کے ذریعے خود کو ایک بہت بڑا روحانی بزرگ بنانا چاہتا تھا۔ میں نے کہا ناں کہ وہ خود غرض اور سفلی علوم کا ایسا بندہ ہے۔ بابا جی نے اسے کہا کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گندے گھناﺅنے اور غیر شرعی کام چھوڑ دے۔ لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوا۔ بابا جی جب واپس آنے لگے تو وہ کہنے لگا۔

”زرقان شاہ .... میں تمہیں وہ کچھ دے سکتا ہوں جس کی تم طلب کرو گے۔ میرے ایک اشارے پر یہاں سب کچھ حاضر ہو گا۔ میں تمہیں اپنی آفر ٹھکرا کر واپس نہیں جانے دوں گا“

”شاہد میاں“ ریاض شاہ کہنے لگا ”یہی وہ آگ ہے جو کسی عامل اور اللہ کے حقیقی ولی اور باشرع پیر کامل میں فرق پیدا کرتی ہے۔ سفلی عملیات کرنے والے کی طبیعت میں نفرت‘ حسد‘ تکبر کی آگ بھڑکتی رہتی ہے لیکن اللہ کے بندوں کے دلوں پر محبت اور انکساری کی بارش برستی ہے۔ مکھن سائیں کی بات سن کر بابا جی نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔ اس پر وہ کھول اٹھا اور بدتمیزی سے پیش آیا۔ کہنے لگا۔ ”ذرقان شاہ میں تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا تم بھی میرے برگد پر مقیم جنات کی طرح میرے مرید اور قیدی بن کر رہو گے“

بابا جی طیش میں آ گئے اور اٹھ پڑے۔ مکھن سائیں نے آناً فاناً عملیات کی آگ بھڑکا کر انہیں قبر میں ہی روکنے کی کوشش کی تو بابا جی سرکار نے اسے اس کی آگ سمیت قبر سے باہر پھینک دیا مکھن سائیں حیرت پاش نظروں سے باباجی سرکار کو دیکھنے لگا۔ اسی وقت اس کے موکل جنات میں سے ایک بزرگ جن نے مکھن سائیں کو بابا جی سرکار کے درجات سے آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ ان کے ساتھ ایسے پیش نہ آئے۔ مکھن سائیں صرف خودغرض ہی نہیں گھاگ بھی ہے۔ وہ جان گیا کہ اس نے غلط وقت میں غلط حرکت کی ہے۔ اس نے باباجی سے معافی مانگ لی۔ جانتے ہو آج جب مکھن سائیں مجھے حجرے میں لے کر گیا تھا تو اس نے کیا فرمائش کی تھی“

”جی .... کیا کہا تھا اس نے“ میں نے پوچھا

”کہنے لگا کہ اگر میں اس کے ساتھ مل جاﺅں تو وہ یہاں ایک بڑی روحانی سلطنت قائم کرے گا۔ میں نے اسے کہا کہ میں تو خود شہنشاہ ہوں تمہارے زیر سایہ کیسے آ سکتا ہوں۔ باباجی بھی اس لمحے ہمارے پاس تھے۔ اس نے بڑی آفرز دی ہیں ہمیں لیکن بابا جی نے اسے سختی سے منع کر دیا ہے کہ وہ تماشا نہ لگائے۔ روحانیت جیسے مقدس لفظ کی حرمت خراب نہ کرے ورنہ لوگوں کا اللہ کے نیک بندوں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ مکھن سائیں شیطان کا آلہ کار ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ شیطان اس کا مطیع ہے۔ اللہ معاف کرے شاہد میاں۔ ہم بہت گناہ گار لوگ ہیں۔ خود میری اپنی یہ حالت ہے لیکن میں خود یہ جرات نہیں کر سکتا۔ مکھن سائیں گمراہ ہے اور گمراہی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ تم میرے بارے بہت بدگماں رہتے ہو لیکن میرے اور مکھن سائیں میں زمیں آسماں کا فرق ہے۔ میں تو صرف ایک زلیخا کی طلب تک محدود ہوں۔ مکھن یہ مکھن سائیں ہزاروں معصوم لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہے۔ جن زادیوں سے خدمت کراتا ہے۔ اس کی خادماﺅں میں ایسی ایسی خوبصورت جن زادیاں ہیں جنہیں دیکھ کر غازی کا ایمان بھی خراب ہو گیا تھا۔ بابا جی نے غازی کو بڑے جوتے مارے۔ اس نے تمہیں ہ کہانی نہیں سنائی تھی اب ملے تو پوچھنا مکھن سائیں کی ایک خادمہ مہ وش نے اسے کیا کہا تھا اور وہ اسے پیچھے کیوں پڑی تھی“ یہ کہہ کر ریاض شاہ ہنسنے لگا۔ اس وقت ہم پٹری سے اتر کر ملکوال کی طرف جا رہے تھے۔ ریاض شاہ نے گھوڑے کی راس کھینچ کر اسے صحیح سمت میں ڈال دیا تھا۔ نہر کی پٹری سے اتر کر ہم ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ ریاض شاہ اور میں انہماک سے باتیں کرتے کرتے ملکوال پہنچ گئے۔ گھوڑے کا رخ واپس پٹری کی طرف موڑ دیا۔ گاﺅں کے کچھ لوگ ہمیں دیکھ رہے تھے۔ گھوڑے کو کوچوان کے بغیر تانگہ لے کر جاتے دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔ لیکن ہم نے ان کی حیرانی دور نہیں کی۔ حویلی پہنچ کر ہم نے کھانا کھایا اور آرام کرنے کے لئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ میرے ذہن پر گذشتہ رات اور آج کی فلم چلنے لگی۔ مجھے اب اپنے اگلے پرچے کی فکر ہو رہی تھی۔ میں نے ڈیٹ شیٹ دیکھی تو سر پکڑ کر رہ گیا۔ کل میرا پرچہ تھا اور میں نے کتابوں پر نظر بھی نہ ڈالی تھی۔ میں نے پریشان ہونے کی بجائے خود کو حوصلہ دیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جاگا تو ذہن خاصا فریش ہو چکا تھا۔ میں نے کتاب کھولی اور پڑھنے لگا۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک مانوس سی مہک میرے چاروں طرف پھیلنے لگی۔ کتاب کا ورق ورق اس مہک سے بھیگ گیا اور اس میں ایک سوگوار سے چہرے کا عکس نمایاں ہونے لگا۔ خوشبو کے پیرہن میں وہ چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ اس کے ہاتھوں میں دودھ کا گلاس تھا۔

اٹھائیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزید : کتابیں /جنات کا غلام