جناتی...17 ویں قسط...جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے....

جناتی...17 ویں قسط...جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے....
جناتی...17 ویں قسط...جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے....

  

بابر حسین سیدھا ہوکر بیٹھ گیا ،لمبی سی سانس لی ،ایک نظر مجھے دیکھااور پھر نظریں جھکا کر اپنی انگلیاں مسلنے لگا ۔پھر انگشت شہادت کی پوروں پر خارش کرنے لگا” ہاں میں ہی ببر کالیا ہوں ۔ایک بہت بڑا اشتہاری عامل تھا میں ....لیکن آج میں بابر حسین ہوں “اس نے نگاہ اٹھائی اور اپنی مٹھیاں بھینچ کر بولا تو اسکا لہجہ دبا ہوا تھا” اللہ ہر انسان کو سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے ۔میری آنکھوں سے جب فرعونیت کا خمار اترا اور دل سے سیاہی دھلنے لگی تو میں نے توبہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اللہ سوہنے نے مجھے سنبھلنے میں مدد فرمائی ۔میں نے بہت گناہ کئے ہیں لیکن کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے صدق دل سے توبہ کرلی تو کوئی اس کی توبہ پر شک کرسکتا ہے۔اب یہ میرا اور میرے اللہ کا معاملہ ہے۔اور یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ میں نے آگ اور گندگی سے پلے بڑھے ببرکالیا کو کیسے دفن کیا ہے۔اس دوران مجھ پر قیامتیں ٹوٹیں ،بڑی کڑی آزمائشوں سے گزرا ہوں اور بھی تک یہ امتحان چل رہا ہے لیکن خدا گواہ ہے میں اس پر کبھی نہیں پچھتایا اور کبھی اس خیال کو دل میں نہیں لایا کہ یہ جن بھوت پریت جادو ٹونے وغیرہ کا علاج تو میں خود چٹکی بجاتے کرسکتا تھا تو پھر کیوں اتنی ذلت اٹھا رہا ہوں۔اللہ معاف کرے میں تو اس بات کا اب تصور بھی نہیں کرسکتا ۔اگر آپ جان چکے ہیں میں ببر کالیا ہوں تو آپ کو اسکی شیطانی قوتوں کا بھی علم ہوگا ۔کہ میں جھوٹ نہیں کہہ رہا ۔

جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے۔۔۔سولہویں قسط  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اب آپ میری مجبوری سمجھ رہے ہوں گے کہ میں نے خود کو آپ سے کیوں چھپایا ۔ظاہر سی بات ہے کہ انسان بہرحال کمزور ہے ۔وہ کسی بیماری میں پڑ جائے تو علاج بھی کرانا چاہتا ہے۔سو میں نے اسی غرض سے آپ سے رابطہ کیا ۔ورنہ یہ دنیا میرے جیسوں سے بھری پڑی ہے ۔آپ میں شرافت اور دیانت دیکھی تو آپ سے رہنمائی اور مدد کا طلبگار ہوگیا تاکہ دوسروں کے ہاتھوں خوارہوکر کہیں میں دلبرداشتہ نہ ہوجاو¿ں ۔پھر سے مغلوب ہوکر واپس نہ پلٹ جاو¿ں ۔شاہد بھائی میں فاسق اور مشرک ہوکر نہیں مرنا چاہتا ۔میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں ۔وہ بہت اچھی اور کمال کی عورت ہے لیکن اس کو خبیث جنات نے ادھ موا کردیا ہے۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں “

میں نے اسے تسلی دی اور ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا ” دیکھو بابر حسین میں بھی کوئی عامل نہیں ہوں۔لیکن میں خود جن حالات سے گزرا ہوں وہ تجربات اور مشاہدات میری زندگی کا اثاثہ ہیں ۔تاہم میرے مخفی دوست اگر میری بات مان کر تمہاری مدد پر راضی ہوجاتے ہیں تو میں انشاءاللہ تمہاری مدد کروں گا ۔حالانکہ میں اب خود ایک آگ میں جلنے لگ پڑا ہوں ۔ مجھے عملیات کی بھٹی میں سلگنا پڑرہا ہے اور میں خوداپنے لئے سوالیہ نشان بن رہا ہوں لیکن میں تمہاری مدد کروں گا۔اور ہاں .... میرے دوستوں کا کہنا ہے کہ جب تک بابر حسین کے سارے کیس کا علم نہیں ہوجاتا اسکی بیوی کے مرض کا علاج کرنا مشکل ہوگا“۔

” میں حاضر ہوں.... میں اپنے ماضی کی کتاب کا ایک ایک ورق کھول کر آپ کے سامنے رکھ دوں گا ....“یہ کہتے ہوئے اس نے میز پر رکھے جگ میں سے پانی گلاس میں ڈالا اور ایک گھونٹ پی کر گلاس اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر خیال انگیز انداز میں میری جانب دیکھنے لگا” کہانی بہت لمبی ہے۔آپ یہ جان چکے ہیں کہ میں ببر کالیا ہوں تو آپ کو یہ بھی بتایا جاچکا ہوگا کہ میں ایک پاپی عامل کا بیٹا تھا ۔میری ماں میرے باپ کی ضد تھی۔بہت بھولی،بہت اچھی ،پرہیز گار اور نمازی خاتون تھی لیکن اس بے چاری نے ساری زندگی میرے باپ جیسے شیطان کے ساتھ زندگی بسر کرڈالی ۔ میری ماں سکول ٹیچر تھی اور اپنی تنخواہ سے اپنا کھانا پینا کیا کرتی تھی۔میرے باپ کی کمائی کا ایک روپیہ اس نے خود پر خرچ نہیں کیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری ماں کی التجائیں سن کر اللہ نے مجھے سنبھلنے کا موقع دیا اور میں سیاہ راہوں سے نکل کر سویرے میں آگیاہوں۔میرے والد کا نام شمس الدین تھا لیکن اس کم بخت نے اپنے نام کی لاج نہیں رکھی اور ہمیشہ الٹ کام ہی کرتا رہا۔شاید ہی کوئی جانتا ہوگا کہ اس کااصل نام کیا ہوگا ۔ لوگ اسے گُرو کالیا کے نام سے جانتے تھے ۔گلی محلے اور شہر میں وہ اسی نام سے پکارا جاتا تھا ۔حتٰی کہ اس نے مجھے بھی بچپن میں اپنا نام لیکر بلانے کا کہہ رکھا تھا ”ببر تو مجھے گرو بولا کر ۔دیکھ میں تجھے ببر کہتا ہوںاور تو مجھے گرو کہہ کر پکارا کر۔ایک دن تو نے میرا وارث بننا ہے اور ابھی سے چیلا بنے گا تو تیرایہ گرو تجھے اپنی امان میں رکھے گا“

میں اسے گرو کہنا شروع ہواتو وہ مجھے ٹافیاں کھلاتا۔میرا جی خوش ہوجاتا اور پھر میں ٹافیوں کے لالچ میں اسکے آگے پیچھے گرو گرو گرو پکارتا پھرتا ۔ وہ قہقہے لگاتا اور کن اکھیوں سے میری ماں کی طرف دیکھا کرتا۔لیکن اس وقت مجھے اسکی نیت اور خبث باطن کا علم نہیں تھا کہ وہ میرے ہاتھوں سے ماں جی کے سینے پر سنپولئے چھوڑتا ہے۔

گرو ساری ساری رات گھر سے باہر رہتا تھا ۔اسکی صرف میں ہی اکلوتی اولاد تھا ۔اسکی بڑی تمنا تھی کی اسکا بیٹا بابر حسین اسکے فن کا وارث بن جائے ۔وہ جس روزگھر میں واپس آتاتو اسکے چہرے سے وحشت ٹپک رہی ہوتی تھی۔آنکھیں سرخ اور پورے بدن سے بدبو آرہی ہوتی ۔دانتوں پر سیاہ میل جم چکی ہوتی ،آنکھیں اسکی موٹی تھیں جنہیں سرمہ ڈال کر انتہائی گہرا کرلیتا۔کوئی اسکی آنکھوں میں نظریں نہیں ڈال سکتا تھا ۔یہ بات تھی بہرحال اسکی کہ وہ مجھے پیار بہت کرتا تھا ۔دنیا جہاں سے زیادہ ۔اور میری ماں سے بھی اسکو بہت محبت تھی ۔وہ ماں کو برا بھلا نہیں کہتا تھا نہ مارتا تھا لیکن ماں انجانا سا خوف اس سے کھاتی اور ہمیشہ دبی دبی رہتی۔

وہ گھر آتے ہی اونچی اونچی آواز میں مجھے پکارتا” او میرا ببر کدھر ہے“

ماں دھیمے سے کہتی” بابرسورہا ہے “

مجھے یاد ہے ماں جب دیکھتی کہ میرا باپ میرا منہ چومتا ہے اور گود میں بیٹھا کر ٹافیاں اور بسکٹ کھلاتا ہے تو بے چارگی سے اسکے آنسو نکل آتے۔ میرا باپ اس دوران ہلکی آواز میں اپنا منہ میرے کانوں کے ساتھ لگا کر منتر لوریاں سناتا رہتا ۔اس وقت تومجھے معلوم نہیں تھاکہ ان کا کیا مطلب ہوتاتھا لیکن یہ بہت اچھا لگتا اور میں بھی ساتھ ساتھ دہراتا۔وہ اکثر مجھے پچھپا دیوی اور ہنومان کی لوری سناتا تھا ۔دراصل یہ ایک عمل کا حصہ تھا ۔گرو نے بڑی چالاکی سے مجھے وہ یاد کرادی تھی ۔اس نے مجھے کہا ہوا تھا کہ ماںکو کبھی یہ لوری نہ سنانا ورنہ تمہیں ٹافیاں نہیں دوں گا.... میں بچہ تھا ۔ٹافیوں کے لالچ میں ماں کے سامنے کبھی یہ لوری نہیں دہراتا تھا ۔اب ہوتا یوں .... گرو جب اپنے کمرے میں چلاجاتا تو ماں فوراً میرا ہاتھ پکڑتی اور غسل خانے میں لے جاکر نہلا دیتی۔وہ ساتھ ساتھ کلمہ پاک بھی پڑھتی ۔میرے پورے جسم خاص طور پرگالوں کو بار بار پانی سے دھوتی اور مجھے پاک کرتی۔پھر کلمہ پڑھ کر صاف پانی میں دم کرتی اور مجھے وہ پانی پلاتی۔میں تب تک سات سال کا ہوگیا تھا اور مجھے اب ماں کی یہ حرکتیں اچھی نہیں لگتی تھیں ”امی میں اس وقت رات کو نہیں نہاؤں گا۔مجھے ٹھنڈ لگ جائے گی“ لیکن وہ میری ایک نہ سنتی اور نہلا دھلا کر مجھے اپنے ساتھ سلاتی اور چاروں قل پڑھ کر مجھ پر پھونک دیتی ۔عجیب بات ہے کہ ماں نے کبھی مجھے اس مشقت اور اپنے درد کی وجہ سے گرو سے متنفر نہیں کیاتھا ۔البتہ وہ مجھے ٹافیاں نہیں کھانے دیتی تھی۔میں سوچتا ہوں کہ اگر ماں خود میرے لئے ٹافیاں لیکر آیا کرتی اور مجھے لوریاں بھی سنایا کرتی تو شاید مجھے اپنے باپ میں موجود واحداس کوالٹی میں کشش محسوس نہ ہوتی اور میں صرف ماں کا ہی ہوکر رہتا۔بچوں کے لئے ٹافیوں مین بڑی کشش ہوتی ہے۔

ایک روز بڑا عجیب کام ہوا۔سردیوں کے دن تھے۔گرو گھر آیا اور مجھے اپنے ساتھ لپٹا لپٹا کرپیار کرکے اپنے کمرے میں چلا گیا تو ماں نے حسب عادت مجھے نہلا دیا ۔حالانکہ اس نے کمبل میں اچھی طرح مجھے لپیٹ دیا تھا لیکن مجھے سردی لگ گئی اور یکایک مجھے تیز بخار ہوگیا ۔اس سے پہلے اتنا تیز بخار مجھے پہلے کبھی نہیں چڑھا ہوگا۔میرا ماتھا سلگ رہاتھا ۔ماں ،ماں ہوتی ہے۔وہ مجھے سینے سے لپٹا کر سویا کرتی تھی۔اسے اندازہ ہوگیا کہ مجھے تیز بخار ہے تو ہڑابڑا کر اٹھ بیٹھی اور مجھے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی۔گھر میں بخار کی کوئی دوا بھی نہیں تھی۔اسکو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس وقت وہ میرے بخار کا کیا علاج کرے۔ادھر میری حالت مزید خراب ہونے لگی اور مجھ پر جیسے ہذیان ساطاری ہوگیا۔یہ حالت ایسی ہوتی ہے کہ انسان الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتا ہے ۔وہ باتیں بھی جو کسی دباؤ کے تحت کبھی منہ سے نہیں نکالتا لیکن ہذیان بڑھتا ہے تو دماغ کی رگوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس رات میرے منہ سے پچھپا دیوی اور ہنوماں کی لوریاں نکلنے لگیں ۔پہلے تو ماں کو سمجھ نہ آئی کہ اسکا بابر حسین کیا پڑھ رہا ہے لیکن پھر اچانک وہ کانپنے لگی ۔اسکو اب بھی اصل بات کی سمجھ نہیں آئی تھی ،ماں بھولی جو تھی۔اس نے یہ جانا کہ بابر حسین کا دماغ الٹ گیا ہے اس لئے الٹا سیدھا پڑرہا ہے.... وہ مرنے والا ہوگیا ہے۔وہ بے ساختہ چیخی اور گرو کا کمرہ کھٹکھٹا کر بولی۔

” جلدی باہر نکلیں دیکھیں بابر حسین کو کیا ہوگیا ہے“

گرو اس وقت جاگ ہی رہا تھا اور اپنے کسی گاہک کا عمل تیار کررہا تھا ۔وہ باہر آیا اور ماں کی بات سن کر میرے کمرے میں آیا۔میں اس وقت بری طرح ہانپ رہا تھا اور شیطانی لوری بڑے زور زور سے پڑھ رہا تھا ۔میری حالت دیکھ کر اسکی آنکھوں میں غیر معمولی شیطانیت ابھری ،ایک فاتح کی طرح .... کندھا اچکا کر اس نے لمبا اطمینان بھرا سانس لیااور ماں سے کہا” ابھی سب ٹھیک ہوجائے گا تو فکر نہ .... میں اسکا علاج کرتا ہوں ....“

ماں نے حیرانی سے کہا” آپ اسکا علاج کیا کریں گے ۔گھر میں تو کوئی دوا نہیں ۔اسکو ہسپتال لیکر چلیں“

” تو فکر نہ کرنا فاطمہ۔“ گرو کے لب خوشی مرگ سے پھڑپھڑا رہے تھے” جب گھر میں ڈاکٹر ہوتو ہسپتال جانے کی کیا ضرورت ہے“

میں اسکو عجیب وحشت اور خوف بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔

جاری ہے، اس کے بعد کیا ہوا؟ اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید :

جناتی -