ویلتھ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے‘ ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن

ویلتھ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے‘ ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن

  

لاہور(این این آئی)پاکستان ٹیکس ایڈوائزر زایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس پر فوکس کرنے کی بجائے ویلتھ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے تاکہ عام آدمی زندہ رہ سکے،پوائنٹ آف سیلز سسٹم کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں اس کیلئے قانون اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور 5لاکھ سے 20لاکھ کی پنلٹی پر نظر ثانی کی جائے،غیر قانونی ہراساں،چھاپے،نوٹسز،بنک اٹیچمنٹ  اوربلاوجہ آڈٹ بند اور 40بی کانفاذاپنی تسکین کے لئے نہ کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید اقبال قاضی،صدر میاں عبدالغفار،جنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین،سینئر نائب صدور امانت بشیر،صدیق بھٹی،محمد علی عثمانی،میاں عزیز الرحمن اور دیگر نے ترمیمی فنانس بل اورپوائنٹ آف سیلز سسٹم کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں ایف بی آر رحیم یار خان کے کمشنر محمد شمیم،صدر چیمبر آف کامرس عابد باجوہ،صدر اوکاڑہ ٹیکس بار شیخ محمد احسان،رانا ظفراللہ اور دیگر بھی شریک ہوئے۔مقررین نے کہا کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کا مطلب اپنے ہاتھوں سے مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان لانا ہے۔

،دستاویزی معیشت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ٹیکسوں کا تمام بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے اور اشرافیہ مزید طاقتور ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ 176،15اے،122،214سی اور177و دیگر شقوں کے تحت نوٹسز کی بھر مار بند کی جائے اور اسیسمنٹ کے بنیاد کو درست کیاجائے۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت عام آدمی کو ریلیف اور ٹیکس نیٹ و بیس کو بڑھانا چاہتی ہے تو سیلز ٹیکس پر فوکس کرنے کی بجائے ویلتھ پر ٹیکس لگایا جائے۔

مزید :

کامرس -