خنجرکے وار سے زخمی ہونے والی متاثرہ طالبہ خدیجہ صدیقی نے اپنی بہن کے ہمراہ عدالت میں بیان قلمبند کروادیا

خنجرکے وار سے زخمی ہونے والی متاثرہ طالبہ خدیجہ صدیقی نے اپنی بہن کے ہمراہ ...
خنجرکے وار سے زخمی ہونے والی متاثرہ طالبہ خدیجہ صدیقی نے اپنی بہن کے ہمراہ عدالت میں بیان قلمبند کروادیا

  

لاہور(نامہ نگار)خنجرکے وار سے زخمی ہونے والی متاثرہ طالبہ خدیجہ صدیقی نے اپنی بہن کے ہمراہ ملزم شاہ حسین کے خلاف ٹرائل عدالت میں بیان قلمبند کرادیا،کمرہ عدالت میں وکلاءکے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن اعوان نے گزشتہ روزمتاثرہ لڑکی خدیجہ صدیقی اور اس کی 6سالہ بہن صوفیہ کا بیان قلمبند کیا۔

ہائی کورٹ کے فیصلوں کی نقول کا طریقہ کار آسان کردیا گیا ،چیف جسٹس نے نئی کاپی برانچ کا سنگ بنیاد رکھ دیا

عدالتی سماعت کے دوران متاثرہ لڑکی خدیجہ صدیقی نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بہن کو سکول سے لینے کے بعد گاڑی میں بیٹھ رہی تھی جب مجھ پر حملہ ہوا،موٹر سائیکل پربیٹھے شاہ حسین نے مجھے گاڑی میں دھکا دیا اور چھریوں کے وار کئے،اسی دوران شاہ حسین نے میری چھوٹی بہن صوفیہ کو بھی زخمی کیا۔ میری مداخلت پر ملزم شاہ حسین کا ہیلمٹ گرا تو میں نے شاہ حسین کو پہچان لیا۔ متاثرہ طالبہ نے کہا کہ شا ہ حسین مجھے پہلے بھی ہراساں کرتا رہا ہے۔پراسیکیوشن کے سوال کرنے پر ملزم کےوالد تنویر ہاشمی نے اعتراض کیا تووکلا کے درمیان سخت جملوں تبادلہ ہواہے۔متاثرہ طالبہ خدیجہ کی بہن سات سالہ صوفیہ کومجسٹریٹ نے اپنے پاس بلا کر بیان قلمبند کیا۔صوفیہ نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ جھوٹ بولنے سے خدا ناراض ہوتا ہے۔بچی نے کمرہ عدالت میں موجود ملزم شاہ حسین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے میری بہن کو گاڑی میں دھکا دے کرچھریاں ماریں جبکہ چھری کا ایک وارمجھے بھی لگا۔ٹرائل عدالت نے کیس کی مزید سماعت پرسوں تک ملتوی کردی۔ملزم شاہ حسین پر الزام ہے کہ اس نے طالبہ خدیجہ صدیقی پر اس وقت چھری کے دو درجن کے قریب وار کیے جب وہ اپنی بہن کو سکول سے لینے کے لئے سکول کے قریب پہنچی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے طالبہ پر حملے کیس پر انتظامی نوٹس لیتے ہوئے ٹرائل عدالت کو اس مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید :

لاہور -