انیسویں قسط۔ ۔ جناتی۔۔۔جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے

انیسویں قسط۔ ۔ جناتی۔۔۔جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے
انیسویں قسط۔ ۔ جناتی۔۔۔جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے

  

ماں دروازے میں گرگئی اور گرتے پڑتے بھی اس نے گرو کو روکنے کی ناتمام سعی کی اور گھر کی چوکھٹ پر رینگتی گرتی آکر ڈھیر ہوگئی۔ اس کی آنکھیں گلی کے اندھیرے میں گرو کو ڈوبتے دیکھ رہی تھیں۔ گرو غیض و غضب کے عالم میں بھاگ رہا تھا۔ مجھے ہاتھوں میں اٹھائے وہ دیوانگی سے کچھ پڑھ بھی رہا تھا۔ اس کی سانسیں تیز دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں۔ وہ مجھے اپنے مہان گرو کے آستانے پر لے آیا۔ یہ ایک پرانا قربستان تھا اور آبادی سے دو میل دور واقع تھا۔ رات تاریک تھی۔ آسمان پر تارے بھی سیاہ بادلوں کی آڑ لئے سو رہے تھے۔ قبرستان کے راستے گرو کے لیے اجنبی نہیں تھے۔ اسے قبرستان کی ویرانی اور دہشت میں پہنچتے ہی سکون اور ڈھارس سی بندھ گئی۔ لگا جسیے اپنی سلطنت اور عافیت میں آگیا ہو۔ٹوٹی پھوٹی اور گہرے کھڈوں والی قبروں کو پھلانگا ہوا ایک بوڑھے برگد کے درخت تلے آکر رکا اور سانس لئے بغیر اس ادھ بنی جھونپڑی میں گھس گیا جس کا کوئی دروازہ نہیں تھا اور لکڑی کے ستونوں پر اس کی چھت کھڑی تھی۔

اٹھارہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جھونپڑے میں داخل ہوتے ہی گرو چلایا ’’پِتاگرو ، گرو جی میرے ببر کو بچا لو۔۔۔‘‘ اس کے چہرے پراب غیض و غضب کی ایک بھی پرچھائیں نہیں رہی تھی ۔ ایک لاچار باپ کی طرح وہ اپنے گرو مہان کو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ گرو کی آواز سن کر چٹائی پر لیٹا ہوا ایک مریل سا انسان کسمسایا’’گرو ،پتاگرو استھان گھاٹ میں ہے۔۔۔‘‘

یہ سنتے ہی گرو جھونپڑی کی دوسری جانب لپکا اور چند قبریں پھلانگنے کے بعد وہ ایک گھانس پھونس سے اٹی قبر کے سرہانے جاکھڑا ہوا اور بدبدانے ’’کھرم جو مایا وشنو پر بھاٹ، شنگل دھرم پودھ بنٹو پرمات۔۔۔ یدھ وشالے چھے گڑ گڑ ہنومان مے کارن۔۔۔‘‘ نہ جانے وہ اور کیااور کس کس بولی میں کیا کچھ پڑھنے لگا اور اسی اثناء میں گھانس پھونس میں ہلچل سی مچی اور جھاڑیاں دھیرے سے دو پاٹوں میں اس طرح تقسیم ہوگئیں کہ ایک چھوٹا سا زمین دوز راستہ سامنے آگیا۔

گرو نے جھک کر اس زمینی راستے میں دیکھا اور ہانپتے ہوئے بولا’’میرے پتا گرو۔۔۔ببر کی چھاپا مرنے والی ہوگئی ہے۔۔۔‘‘

’’نیچے آجا ‘‘ زمین دوز راستہ کے نیچے سے کڑک دار آواز سنائی دی۔

گرو جلدی سے اس کی گہرائی میں اُترا تو اس کے سامنے پتا گرو کنڈلی مارے زمین سے ایک فٹ اونچا ہوا میں معلّق دکھائی دیا۔

’’باپو میرا ببر۔۔۔‘‘ گرو نے مجھے اس کے سامنے زمین پر دھیرے سے رکھا اور خود اس کے چرنوں میں گر کر آنسو بہانے لگا۔میں حیران تھا کہ کالے منتروں اور سبدوں سے چڑیلوں اور جناتوں کو مارنے اور للکارنے والا ،انسانوں کو ابرو چڑھا کر پرے پھینکنے والا میرا باپ میری محبت میں اتنا گھائل بھی ہوسکتا ہے۔ہاں ۔۔۔ مجھے اب اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ ماں باپ بننے کے بعد ایک ظالم اور جابر انسان کے اندر بھی جوش خون ٹھاٹیں مارتا ہے۔

’’یہ میرا بھی ببر ہے گرو۔۔۔تو چنتا نہ کر، میں دیکھتا ہوں اسکو‘‘ مہان گرو نے دھیرج سے کہا اورآنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔ گرو نے جس چادر سے میرا تن ڈھانپ رکھا تھا اسے ہٹا دیا اور ایک بار پھر میں ننگ دھڑنگ قبر کے فرش پر بے سدھ لیٹا تھا۔

ہاں ۔۔۔ یہ قبر نما ایک تہہ خانہ ہی تھا۔ اس میں بمشکل ایک آدھ بندہ ہی بیٹھ پاتا تھا۔ لیکن اس وقت میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب مہمان گرو نے کنڈلی مارے مارے پھر آنکھیں موندھ لیں اور ہاتھوں میں ایک موٹے دانوں والی مالا جپتے ہوئے کچھ تنتر بولا تو قبر کا تاریک و تنگ تہہ خانے میں ایک دم سے کئی سیاہ وجود وارد ہوگئے اور ساتھ ہی عجیب سی سڑانڈ اُبل پڑی۔

’’گنگو۔۔۔‘‘ مہان گرو نے تحکمانہ انداز میں میری پرچھائیں کو پکارا لیکن گنگو کی کوئی آواز سنائی دی تو مہان گرو نے اچانک آنکھیں کھول دیں۔ سرخ انگارہ نظروں کے گرد سیاہی کے ڈورے۔۔۔ ’’گنگو‘‘ مہان گرو نے زور اور غضب سے اس کا نام پکارا لیکن اس بار بھی گنگو نے کوئی جواب نہ دیا۔

’’گرو تم نے یہ کیا گجب کر دیا۔ تجھے اتنے پران ودیا سکھائے ہیں اور توپھر بھی اناڑی کا اناڑی رہا۔ گنگو سے میل کرانے کا یہ کون سا سمے تھا ۔تجھ کو کتنی بار یہ وچار دے چکا ہوں کہ میل ملاپ کا سمے ہر سمے نہیں ہوتا ۔جس کارن تو نے یہ کردکھایا ہے وہ دیوتاؤں اور مہاشکتیوں کا سمے نہیں تھا۔تو اپنے پر قابو پانا سیکھ لے ۔۔۔‘‘ مہان گرو نے میرے باپ کی طرح قہر بھری نظروں سے دیکھا۔اور تشویش بھرے انداز میں گہری سانس لی۔’’ مورکھ بلاکر ہی اسکی پرچھائیں کا جیون واپس لانا ہوگا ۔۔۔‘‘

گرو نے ہاتھ جوڑ دیئے۔’’پتا گرو شما کر دو۔ معاف کر دو۔ سب ٹھیک ہو رہا تھا لیکن فاطمہ نے بیڑا غرق کر دیا ہے میرا۔۔۔‘‘

’’ تجھے کتنی بار کہا ہے فاطمہ کے سامنے یااسکی گھر میں موجودگی میں ببر پر تجربے نہ کیا کر۔۔۔ اسکو جلایا نہ کر مورکھ ۔۔۔ بھگوان اور شکتیوں کو اچھا نہیں لگتا کہ تو فاطمہ کے ہوتے ہوئے ببر پر تنتر منتر کیا کرے۔۔۔ کیا تو بھول گیا ہے کہ ہم نے ببر جیسا شکتی مان مہان پیدا کرنے کے واسطے کتنوں کا خون بہایا اور کشٹ جھیلے ہیں۔تو باؤلا نہ بن جایا کر ۔اب دیکھنا کتنا کشٹ جھیلنا پڑسکتا ہے‘‘ مہان گرو نے بدستور ناراضگی سے کہا’’ اس بستی میں ہم کوئی ایسا کارن نہیں کرسکتے کہ ملاّ مولوی ہمارے پیچھے پڑجاویں ۔۔۔دھیرج اور دھیان کا کام ہے گیان ۔ ‘‘مہان گرو نے میرے باپ کو ڈانٹنے کے بعد وچار کیا اور بولا’’ اب تو اپنی بلی چڑھا تاکہ اسکی پرچھائیں کو واپس لایا جاسکے ۔اگر تیری بلی گنگو کا دیا روشن ہوگیا تو جان لینا کہ بلی سوئیکار ہوگئی اور گنگو واپس آجائے گا ‘‘

میرا باپ یعنی گرو تو جیسے جانتا تھا کہ بلی کیسے چڑھائی جاتی ہے۔اس نے کرتے کی جیب سے وہی نوک دار ہڈی باہر نکالی اور اسکی نوک اپنی کلائی کی رگ پر رکھ کر اپنے گرو کو دیکھنے لگا۔مہان گرو نے اپنی ابرو تان کر اسے ہلکا سا اشارہ کیا ۔اس دوران مہان گرو نے اجنبی زبان میں سیاہ پرچھائیوں کو جو قبر کے تہہ خانے میں آن موجود تھیں انہیں اشارہ کیا اور انہوں نے مجھے اپنے ہاتھوں میں اس طرح اٹھا لیا کہ زمین سے ایک فٹ اوپر مجھے ٹانگوں اور کاندھوں سے پکڑ کر تختے کی طرح سیدھا معلق کر کے کنڈلی مارے مہان گرو کے سامنے ہموار کردیا۔

میرا باپ اٹھا اور اس نے تنتر منتر پڑھنا شروع کردئیے، اس نے اپنی کلائی میری ناف کے اوپر ذرا ٹیڑھی کردی ،مہان گرو بھی ابلیسی اشلوک پڑھنے لگا۔یکایک قبر کا سارا ماحول اور منظر تبدیل ہونے لگا۔جن سیاہ پرچھائیوں نے مجھے ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا وہ بھی مہان گرو کی تقلید میں وہی اشلوک دھرانے لگیں اور یوں مختلف آوازوں سے اشلوک سنگیت کی صورت میں ایک خاص ردھم سے گونجنے لگا۔ایک پرچھائیں نے اپنے زور سے ہاتھ جھٹکے تو اسکے ہاتھوں میں ایک روشن دیا نظر آنے لگا ۔دیا اس نے میرے سینے پر رکھ دیا۔اسکی ہلکی اور مدھم روشنی کے پس منظر میں گرو اور مہان گرو دونوں کے چہروں پر طاغوتی مسکان نظر آرہی تھی۔

گرو نے اب نوک سے کلائی کی رگ کو دبایا تو اس میں سے خون کی ہلکی سی ایک بوند میری ناف پر گری ،پھر دوسری اور اسکے بعد خون کی دھار بندھ گئی۔میرے باپ نے اپنی رگ میں ہڈی کی نوک اندر تک گھسیڑ کو خون کا دھانہ کھول دیا اور میری ناف کسی برتن کی طرح خون کو اپنے اندر یوں بھرنے لگی جیسی یہ بہت بڑا برتن ہو جو بھرنے میں ہی نہیں آرہا ۔ادھر دئیے کی روشنی جو پہلے ہی بہت ہلکی تھی ،اس کی لو پھڑپھڑانے لگی اسکے ساتھ ہی میرے باپ کی حالت بھی دگرگوں ہونے لگی ۔اب تک اسکا کافی خون بہہ کر میری ناف کے کٹورے میں جمع ہو چکا تھا اور اُس پرنقاہت اور کمزوری غلبہ پانے لگی تھی۔یہ دیکھ کر مہان گرو کے چہرے پر شدید قسم کی حیرت پیدا ہونے لگی ۔

جاری ہے, اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید :

جناتی -