سسری ، کھپرا اور دیگر کیڑے ذخیرہ کے دوران5 سے15 فیصد گندم تباہ کر دیتے ہیں، ماہرین ایوب ریسرچ

سسری ، کھپرا اور دیگر کیڑے ذخیرہ کے دوران5 سے15 فیصد گندم تباہ کر دیتے ہیں، ...

فیصل آباد (بیورو رپورٹ)ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے زرعی ماہرین نے کہاہے کہ سسری ، کھپرا اور دیگر دو درجن کے قریب کیڑے ہر سال ذخیرہ کے دوران گندم کی 5 سے15 فیصدپیداوار تباہ کر دیتے ہیں لہٰذاسرکاری و غیر سرکاری ، نجی اور انفرادی سطح پر گندم ذخیرہ کرنے کیلئے پختہ اور صاف ستھرے گوداموں کا انتخاب کیا جائے تاکہ گندم کی پیداوار کو ضرررساں کیڑے مکوڑوں سے بچانا ممکن ہو سکے۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہاکہ سسری اور کھپرا کاشمار گندم کیلئے انتہائی ضرررساں کیڑوں میں ہوتاہے ۔

انہوں نے بتایاکہ ملک میں گندم کی مجموعی ضرورت 20 ملین ٹن سالانہ کے قریب ہے جبکہ سال 2030 ء تک صرف صوبہ پنجاب میں آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب کے لحاظ سے غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے 24 ملین ٹن سے زائد گندم درکار ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سیزن کے دوران گندم کا پیداواری ہدف 19ملین ٹن کے قریب مقرر کیاگیاتھا ۔ انہوں نے بتایاکہ فصل کی برداشت کے بعد سب سے اہم کام اسے بہتر انداز میں ذخیرہ کرنے کا ہوتاہے کیونکہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے کیڑے مکوڑے پیداوار کو سخت نقصا ن پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ کیڑے جون کے مہینہ میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور مون سون کے دوران بارشوں کے باعث فضا میں نمی کی مقدار بڑھتے ہی ان کاحملہ شدت اختیار کر جاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ سٹاکسٹس گندم کو نقصان سے بچانے کیلئے فوری ماہرین زراعت سے مشاورت کریں اور اس ضمن میں محکمہ زراعت توسیع کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ تحقیق کے مطابق صوبہ پنجاب میں دو درجن سے زائد ایسے کیڑے ہیں جو ذخیرہ شدہ غلہ کو گوداموں، کوٹھیوں اور بھڑولوں میں نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس نقصان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم ملک میں پیدا شدہ غلہ کو ان موذی کیڑوں کے حملے سے بچا سکیں تو ہم اپنی خوراک کی ضرورت کے علاوہ دیگر ممالک کی ضروریات کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کاشتکار وں کو ہدایت کی کہ بیج کو خشک اور صاف کر کے سٹور میں محفوظ کر یں اور سٹور کو کیڑوں سے پاک کرنے کیلئے 7 کلوگرام لکڑی فی ہزار مکعب فٹ جلائیں اورسٹور کو 48 گھنٹے تک بند رکھیں یا پھر سٹور میں محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے مشورہ کر کے موزوں زہر سپرے کریں۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار پرانی بوریوں کو پانی میں اسی نسبت سے زہر ملا کر اس میں ڈبوئیں اور خشک کر لیں نیز مزید احتیاط کیلئے سٹور میں زہریلی گیس والی گولیاں بحساب 40سے 50 فی ہزار مکعب فٹ استعمال کریں کیونکہ غلہ کو نقصان پہنچانے والے کیڑے عموماً گوداموں میں پڑی ہوئی استعمال شدہ بوریوں میں موجود ہوتے ہیں اور جب غلہ بھرنے کیلئے ان بوریوں کو دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے تو یہ کیڑے غلہ میں مل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بعض اوقات جب نئی بوریاں گوداموں میں پرانی بوریوں کے ساتھ رکھ دی جاتی ہیں تو پرانی بوریوں سے کیڑے مکوڑے نئی بوریوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اپنی نسل کشی شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ غلہ کی چھان پھٹک اور گوداموں کی صفائی کے وقت ضائع شدہ غلہ اور گردو غبار گوداموں کے قریب نہ پھینکیں کیونکہ نقصان رساں کیڑے اڑ کر یا رینگ کر واپس گوداموں میں پہنچ جاتے ہیں اور دوبارہ حملے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ متاثرہ غلہ کو گوداموں کے پاس ہی کھلی دھوپ میں سکھانے کیلئے نہ ڈال لیں کیونکہ وہاں سے کچھ کیڑے زندہ بچ کر واپس گوداموں میں چلے جاتے ہیں اور ذخیرہ شدہ غلے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔

مزید : کامرس