بھارتی بالادستی قبول نہیں ، سرتاج عزیز

بھارتی بالادستی قبول نہیں ، سرتاج عزیز

  

اسلام آباد(صباح نیوز)مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی بالادستی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا ، ہمیں بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا اور تنازعات کے سیاسی حل ڈھونڈنا ہوں گے،بھارت موجودہ صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے ،چین کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں ہم ان کی پاکستان میں موجودگی کو برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی کریں گے، ان خیالات کا اظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے چائنہ ایسوسی ایشن فار فرینڈ شپ کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا وفد کو پاکستان کے تھنک ٹینک سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز نے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت موجودہ صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے گذشتہ چند سالوں میں دہشتگردی کی لعنت کے خلاف قابل قدر پیشرفت کی ہے مسلح افواج نے دہشتگردوں کا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت انٹلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر ملک بھر میں کلین اپ آپریشن جاری ہیں سرتاج عزیز نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن کے دوران ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کے انفراسٹرکچر کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے چین کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں ہم ان کی پاکستان میں موجودگی کو برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی کریں گے آگے بڑھنے کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان سہ جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جسکے تحت پہلے نمبر پر ہم سختی کے ساتھ کسی دوسرے ملک میں عدم مداخلت پر عمل پیرا ہیں دوسرا پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا جبکہ تیسرا یہ کہ پاکستان خطے میں مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے امن کے قیام کا خواہاں ہے خاص طور پر ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں انکا کہنا تھا کہ پاکستان مودی حکومت کی طرف سے بھارت کی بالادستی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا اگرچہ ہم فوری طور پر مسئلہ کشمیر حل نہیں کر سکتے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس پر بات نہیں کریں گے ہمیں بالآخر مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا اور تنازعات کے سیاسی حل ڈھونڈنا ہوں گے اگر ہم ایک مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ سکتے تو ہمیں دوسرے کی طرف جانا چاہیے ۔

مزید :

صفحہ اول -