پاناماکے شعلے

پاناماکے شعلے
 پاناماکے شعلے

  



بہت عرصہ پہلے ایک فلم بنی تھی جس کااُردو کا نام شاید ’’ہانگ کانگ کے شعلے‘‘ تھا۔ اس فلم میں اس دور کی فلمی صنعت کے نمایاں لوگوں نے اداکاری کی تھی۔

یہ فلم باکس آفس پر کوئی کارنامہ دکھاپائی تھی یا نہیں مجھے یاد نہیں چونکہ بطور طالب علم ہماری رسائی اس وقت صرف اخباری اشتہار تک ہی تھی، مگر آج پاکستانی سیاست کے باکس آفس پر فلم ’’پاناما کے شعلے‘‘ چھائی ہوئی ہے۔ اس فلم کی اینٹری یوں تو پوری دنیا میں ہی دھماکے دار تھی، مگر فلم کے پاکستانی کرداروں نے اس کی پروموشن پر جتنی توانائی اور سرمایہ خرچ کیا ہے،اس کا خاطر خواہ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج بھی جب پوری دنیا میں فلم اپنی مارکیٹ ویلیو کھو چکی ہے، پاکستان میں اس کی کھڑکی توڑ نمائش جاری ہے اور قرائن بناتے ہیں کہ یہ فلم ابھی مزید رش لے گی، کیونکہ اس فلم کا پاکستانی Version جس پر ماضی کی ایک اور بلاک بسٹر فلم ’’ مولا جٹ‘‘ کا اثر نمایاں ہے۔ لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکا ہے۔ ہاں ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ فلم کا اصل ہیرو’’ مولا جٹ‘‘ کون ہے اور نوری نت اس بار بھی اپنی ٹانگ سے محروم ہو کر بیساکھیوں کے سہارے آجائے گا یا وہ معجزہ رونما ہوسکتا ہے، جس کی اسے تلاش ہے اور جس کے آثارفی الحال دور دور تک نظر نہیں آتے، مگر یاد رہے یہ پاکستان ہے اور ہماری اکثر فلموں پر جنوں اور غیبی مخلوق کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔ اسی لئے ہماری فلموں کے کردار بھی غیر انسانی ماورائی اور کسی حد تک مافوق الفطرت خصوصیات و عادات کے مالک ہوتے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ باوجود ہزار خامیوں اور خرابیوں کے ہم نے ہمیشہ پسند بھی انہی کرداروں کو کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ محمد علی، وحید مراد اور ندیم جیسے خوبصورت انسانی کردار والے ہیروز کے مقابلے میں ہم نے ہمیشہ سلطان راہی اور مصطفی قریشی کو ترجیح دی، جنہوں نے سپر ہیروز کا خود تراشیدہ کردار دھوتی کرتے میں ملبوس ہوتے ہوئے بھی اس طرح ادا کیا کہ خود بھی امر ہوگئے اور معاشرے کو بھی ایسے متاثر کیا کہ لوگوں کی سوچ کا دھارا ہی تبدیل کردیا۔

کوئی مانے نہ مانے مگر مولا جٹ کا کردار آج بھی پنجاب کے ہر گبھرو کے دل کی آواز اور بہت سی مٹیاروں کے دل کی دھڑکن ہے۔ مولا جٹ تو خیر ہیرو تھا، اس کا کیا کہنا نوری نت بھی آج تک باوجود منفی کردار کے ولن کی بجائے ہیرو کی طرح ہی مقبول ہے، بلکہ فلم ’’ پاناما کے شعلے‘‘ کے کردار تو پنجابی فلموں کے خاص طور پر ولن اور بہت سی فلموں میں ہیرو کے بھی اسی رول کا چربہ ہیں، جس میں لوگوں کے گھر بار زمین جائیداد لوٹ کرلے جانے والا شخص ہیرو تصور ہوتا ہے اور ’’پاناما کے شعلے‘‘ میں اس قماش کے ہیروز یا کردار چار سوسے زیادہ ہیں، مگر اتنی شاندار نمائش کے باوجود اینٹری ابھی چند کرداروں کی ہی ہوتی ہے۔

مجھ ایسے بہت سے فلمی شوقین باقی کرداروں کی پرفارمنس سے بھی لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ ان کرداروں کا رول فلم میں کتنا ہے اور ان کی اینٹری کب ہوگی ہونی بھی ہے کہ نہیں، اس بات کا فیصلہ ظاہر ہے ڈائریکٹر کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ہم آپ ایسی بہت سی فلموں کے بارے میں جانتے ہیں جو بہت ساری ریلوں پر مشتمل ہوتی ہیں، مگر فیصلہ کرنے والے یا ڈائریکٹرز ہمیں صرف اتنا حصہ دکھاتے ہیں، جتنا ان کے مطابق دکھایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ اس فلم کے حوالے سے میں ڈائریکٹر سے دست بستہ گزارش کرونگا کہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے ایڈٹ نہ کیا جائے، بلکہ ساری فلم شائقین کے سامنے لانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ ہیرو کون ہے اور ولن کون ہے اور پاناما کے غاروں میں چھپایا جانے والا خزانہ کیا واقعی لوٹ کا مال ہے یا ان کرداروں نے اپنے سے بڑے ہیرو کی چھین جھپٹ سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے چھپایا ہوا ہے۔

روایتی فلموں کے شوقین خواتین و حضرات کے لئے اس فلم کا ایک پہلو خاصا ناخوشگوار ہے اور وہ ہے تھانیدار کی اینٹری جسے مرحوم سلطان راہی ’’کنون‘‘ (قانون)کہتا تھا۔ خلاف توقع اس فلم میں قانون کا کردار کافی مضبوط دکھائی دیتا ہے جو بظاہر خزانے اور مبینہ چوروں کی تلاش میں تندہی سے لگا ہوا ہے۔ اس ضمن میں واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ماضی کو بھلا کر ایک بار پھر قانون کو ہیرو کے روپ میں دیکھ رہی ہے۔ کیا قانون اس بار مولاجٹ اور نوری نت کے مقابلے میں ٹھہر پائے گا؟کیا قانون بالآخر اپنا ہیرو والا امیج بچاپائے گا، جسے بچانے میں اب تک وہ بار بار ناکام ہوتا چلا آیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جوبہت سے شائقین کے متجسس دماغوں میں کلبلا رہے ہیں۔ کیا خبر ہماری توقعات کے عین مطابق قانون اس بار وہ شاندار پرفارمنس دے کہ ہدایتکار اس کا رول کاٹنے کی جرأت ہی نہ کرسکے۔

مزید : کالم


loading...