کلام اقبالؒ (شرح بال جبریل) غزل نمبر: 8

کلام اقبالؒ (شرح بال جبریل) غزل نمبر: 8
 کلام اقبالؒ (شرح بال جبریل) غزل نمبر: 8

  

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی!

ہاتھ آجائے مجھے میرا مقام اے ساقی

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند

اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی!

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی

شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی!

شیر مردوں سے ہوا بیشہ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی!

عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے؟

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی!

سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات

ہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی!

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی!

بال جبریل کی یہ آٹھویں غزل ہے اس کے بھی سات اشعار ہیں۔ساتوں اشعار میں لفظ ساقی مرکزیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کو علامہ نے استعارے کے طور پر اللہ کی ذات کے لئے استعمال کیاہے۔پوری غزل میں علامہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہیں اور اسی سے اپنی دلی خواہش دلی آرزو کو دعائیہ انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ بادہ و جام بھی استعارے ہیں اگرچہ آلات مے کشی ہیں جن میں شراب نوش کی جاتی ہے لیکن یہاں اسلامی تعلیمات مراد ہیں جن کے ذریعے دنیا میں انقلاب عظیم برپا ہو گیا اور پوری انسانیت کی کایا پلٹ گئی۔ راہ زن خود رہبر بن گئے۔ عرب کے بدو دیہاتی لوگ تہذیب و تمدن کے امام بن کر ابھرے اور دنیا پر چھا گئے۔ قرآن مجید میں اس انقلابی عمل کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا گیا:

’’وَسَقٰھُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا‘‘(الدھر، 21/76)

’’اللہ تعالیٰ نے ان کو پاکیزہ مشروب سے سیراب کیا‘‘۔۔۔یہ آیت اگرچہ جنتیوں کے بارے میں ہے لیکن غزل کے مرکزی مضمون میں علامہ اسی سے متاثر محسوس ہوتے ہیں۔ان کے رب نے ان کو ایسی پاکیزہ شراب پلائی جس کے پیتے ہی ان لوگوں کی عادات و اطوار میں ان مٹ انقلاب برپا ہو گیا۔ بت پرستی، شرک ، توحید خالص میں بدل کر رہ گئی۔ تین سو ساٹھ بتوں کو پوجنے والے ایک اللہ کو ماننے والے ہو گئے۔ ان کی عملی زندگی میں جو تبدیلی آئی اس کی منظر کشی کرتے ہوئے قرآن نے کہا:

’’تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ‘‘ (السجدہ، 16/32)

ان کی کیفیت یہ ہو گئی کہ اللہ کی محبت ان کے دلوں میں ایسی رچی بسی ، ان کے پہلو اللہ کی یاد میں ایسے منہمک ہوئے کہ اب ان کے پہلو اپنے آرام دہ بستروں سے دور رہتے تھے اور ان کی پشتیں آرام کی بجائے اللہ کی یاد میں بے قرار رہتی تھیں اور وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہر وقت اللہ کی یاد میں مصروف رہنے لگے۔ اس کیفیت کے تناظر میں علامہ پہلے شعر میں فرماتے ہیں:

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی!

ہاتھ آجائے مجھے میرا مقام اے ساقی

اے میرے ساقی یعنی اے میرے رب مجھے ایک بار پھر وہی شراب طہور عطا کر جس نے ماضی میں میری یعنی مسلمانوں کی زندگی میں عظیم انقلاب برپا کر دیا تھا۔ مراد یہ کہ مسلمانوں کی زندگیوں میں جن تعلیمات نے عظیم انقلاب برپا کر دیا تھا وہی خصوصیت دوبارہ ان میں پیدا کر دے تاکہ مسلمان پھر ماضی جیسی روایات کے حامل بن جائیں اور مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام دنیا میں پھر حاصل ہو جائے۔ دوسرے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند

اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی!

تین صدیاں بیت چکی ہیں کہ ہندوستان کے مئے خانے یعنی جہاں شراب طہور ملتی تھی یعنی اصلاحی خانقاہیں اب نہیں رہیں۔ بعض اقبال شناسوں نے اس سے مجدد الف ثانی کی ذات مراد لی ہے کہ انہوں نے مغلیہ زمانۂ اقتدار میں شرک و بدعات کے خلاف علم جہاد بلند کیا تھا۔ اب تین صدیوں میں مسلمانوں کے اندر کوئی مجدد الف ثانی پیدا نہیں ہوا اور اس طرح وہ مراکز ہدایت خشک ہو چکے ہیں۔ ممکن ہے ایسے شارحین اقبال کی بات قرین انصاف ہو لیکن ہمیں ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کیونکہ اسلام کی چودہ صدیوں میں کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جب ہندوستان کا خطہ مصلحین سے خالی رہا ہو۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے بعد بھی بہت سی اصلاحی تحریکیں برصغیر میں برپا ہوتی رہیں اور بہت سے مصلحین بھی پیدا ہوئے جنہوں نے برصغیر میں اسلام اور شریعت اسلامیہ کو زندہ رکھنے میں قابل قدر کارنامے سرانجام دئیے۔ ان میں سب سے بڑی شخصیت شاہ ولی اللہ کی تھی جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر اسلامی شعائر کو بھی زندہ رکھا اور باطل کے خلاف علم جہاد کو بھی بلند کیا۔ ان میں سید احمد شہیدؒ کا نام بھی اہم ہے اور خانواد�ۂشاہ ولی اللہ کے عظیم فرزند شاہ اسمٰعیل شہید کانام نامی بھی ہے جنہوں نے سکھوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور جہاد جیسی عظیم سنت کو تازہ کیا اور سرزمین بالاکوٹ میں دفن ہوئے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ برصغیر کی تاریخ میں تصوف اور خانقاہی نظام بالکل دم توڑ گیا تھا۔ بہرحال علامہ کے ذہن میں کچھ بھی ہو وہ اسی تناظر میں اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں۔ صدیاں بیت چکی ہیں کہ سرزمین ہندوستان میں خانقاہی نظام جو اصلاح احوال کا ذریعہ تھا ختم ہو چکا ہے اب اس فیض کو کسی طرح دوبارہ زندہ کیا جائے تاکہ ان خانقاہوں کے ذریعے پھر سے ہندوستان مَیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی صورت پیدا ہو سکے۔(جاری ہے)

تیسرے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی

شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی!

علامہ اسی تناظر میں فرماتے ہیں کہ اے اللہ! میں نے اپنے اشعار کے ذریعے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کی ہے۔کوئی شک نہیں کہ یہ میری کوشش بہت کمزور اور حقیر سی ہے لیکن اس حقیر کوشش کو بھی بعض دینی حلقے ناجائز کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ تصوف اور خانقاہی نظام کو ہندوستان کے بعض دینی حلقوں نے باعث اختلاف بنا دیا ہے اورسلسلہ بیعت وغیرہ کو ناجائز کہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مَیں اس انداز کی اصلاحی تحریکوں اور کوششوں کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ضروری خیال کرتا ہوں۔ میری شاعری بھی سب اسی کی ایک حقیر کوشش ہے۔اس شعر میں علامہ کا اشارہ تصوف کے خلاف نظریات کی طرف ہے۔شاید اس خیال کا محرک قرآن کی یہ آیت بھی ہو:

’’وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ۔اَلَمْ تَرَ اَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْنَ‘‘(الشعراء:224,225/26)

چوتھے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

شیر مردوں سے ہوا بیشہ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و مُلّا کے غلام اے ساقی!

علم کی تحقیق اور جستجو کی طرح اسلام نے ڈالی تھی۔ قرآن مجید میں ہے:

’’اِنْ جَآءَکُمْ فَاسِق’‘ م بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا‘‘(الحجرات:6/49)

’’اگر تمہارے پاس کوئی کم علم بے عمل کوئی خبر لے کر آئے تو تم سب سے پہلے اس خبر کی تحقیق کر لیا کرو‘‘۔۔۔ یہی آیت تھی جس کی وجہ سے اسلام کے بڑے بڑے سپوتوں نے تحقیق کے علمی دروازوں کو وا کیا۔ دینی علوم فقہ و حدیث میں اہم ترین راہیں کشادہ ہوئیں۔ تحقیق کے حوالے سے ایک ایک لفظ پر بحث و تمحیص کے ذریعے بات کی تہہ تک پہنچے۔ علامہ فرماتے ہیں کہ تحقیق و تفتیش کا وہ اعلیٰ معیار اب مسلمانوں میں باقی نہیں رہا، آج کے علماء صرف لکیر کے فقیر ہیں اور کورانہ تقلید کے قائل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے جدید مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے اپنے گرد تقلید کے حصار قائم کر لئے ہیں اوراپنی شناخت مسلمان کی بجائے حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی قرار دے لی ہے اس تقسیم در تقسیم میں اس سے بھی نچلی سطح پر اتر آئے ہیں اور حنفی ہونے کے باوجود اپنی شناخت میں دیوبندی، بریلوی جیسے خود ساختہ حصار کی تقسیم پیدا کر لی ہے۔ اس تقسیم پر ہم اتنے مطمئن ہو چکے ہیں کہ علمی میدان میں مزید تحقیق و جستجو کے دروازے بند کر لئے ہیں اور کورانہ تقلید میں پستی کے آخری درجوں کو چھونے لگے ہیں۔ پانچویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

عشق کی تیغِ جگر دار اڑا لی کس نے؟

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی!

عشق کی تیغ جگر دار سے مراد تعلیمات جہاد ہیں جو اسلامی تعلیمات کا اہم ترین حصہ ہے اس سے مسلمان بالکل عاری ہیں۔ درس جہاد بالکل مفقود بلکہ متروک ہو چکا بلکہ بعض ایسے باطل فرقے بھی پیدا ہو چکے جن کے پیشواؤں نے یہ سبق دینے میں بھی باک محسوس نہیں کیا اور برملا اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ جہاد و قتال کا خیال چھوڑ دیں۔ علامہ اقبال نے اس کی طرف بلیغ اشارہ بھی فرما دیا کہ جو جہادی تلوار اسلام نے مسلمانوں کو عطا کی تھی وہ تلوار انسانی مکاری اور عیاری کے ساتھ کسی نے چوری کر لی ہے۔یہ مسلمانوں کے پاس خالی نیام باقی رہ گئی ہے۔ ظاہر ہے خالی نیام سے جس میں تلوار نہ ہودشمن سے کیسے لڑا جا سکتا ہے۔ چھٹے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عینِ حیات

ہو نہ روشن، تو سخن مرگِ دوام اے ساقی!

اس شعر میں علامہ نے ایک انتہائی اہم راز سے پردہ ہٹایا ہے۔ فرمایا:اصل بات یہ ہے کہ انسان کا سینہ اسلامی تعلیمات سے روشن ہونا چاہیے۔اگر انسان کا سینہ اسلامی تعلیمات کی روشنی حاصل کرتا رہے تو سوز سخن یعنی شاعری کا فن حیات بخش ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے ایک شاعر بھی تبلیغ و اشاعت دین کا فریضہ سرانجام دے سکتا ہے لیکن دل نور ایمان اور اسلامی تعلیمات سے منور نہ ہو تو شعر و شاعری ایک بے کارشغل ہے جس سے گمراہی تو پھیل سکتی ہے لیکن اس سے ہدایت اور ہدایت کا نور پھیل نہیں سکتا۔ ایسی صوت میں شعرو شاعری محض ایک مشغلہ رہ جاتا ہے جس سے معاشرے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ساتویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی!

پیش نظر شعر چھٹے شعر کا تکملہ سمجھئے۔ شاعر اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہے اے ساقی! یعنی اے اللہ! تو مجھے ہدایت کی روشنی سے محروم نہ رکھنا بلکہ مجھے ہدایت کا نور خوب خوب عطا کر دے۔ اگر میرے حالات، میری سوچ، میری فکر میں کہیں ظلمت و اندھیرا موجود ہے تو اے اللہ! تو میری فکر، میری سوچ میں نورانیت بھر دے کہ سارے علم اور ہدایت کے منابع تیرے ہی پاس ہیں۔ علامہ کی یہ آرزو یہ دعاسورۂ آل عمران کی آیت سے ماخوذ محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت کے خزانوں کا مالک ہے۔ لہٰذا اے اللہ! تو مجھے اپنے علم کے بحر بیکراں سے خوب خوب روشنی عطا فرما:

’’اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓءُھُمُ الطَّاغُوْتُ‘‘(البقرۃ:257/2)

ہدایت و گمراہی اے اللہ سب تیرے ہاتھ میں ہے۔لہٰذا تو مجھے ہدایت کے نور سے نواز دے اور گمراہی سے محفوظ فرما۔

مزید : کالم