ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 39

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 39
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 39

  

خطاب جمعہ

جمعے سے قبل عبدالشکور صاحب کے ہمراہ ہم ملبورن کے کمیونٹی سنٹر پہنچے ۔یہاں جمعے کی نماز سے قبل میرے خطاب کا پروگرام تھا۔ ایک ہال میں آگے مرد اور پیچھے پارٹیشن کے بعد خواتین موجود تھیں ۔میں نے ایک حدیث کی روشنی میں بات شروع کی جس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت جمعہ کے دن آئے گی۔جس کے بعد حاضرین کو یہ توجہ دلائی کہ اگر آج اس جمعہ کو وہ گھڑ ی آجائے اور ہم جس حال میں اس وقت ہیں ، اسی حال میں اللہ کے حضور پیش ہوجائیں تو کیا ہو گا۔چنانچہ ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے ۔ہمیں ایک نسلی یا متعصب مسلمان نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک حقیقی مسلمان ہونا چاہیے اسلام جس کی اپنی دریافت ہو۔جس کے بعد میں نے زندگی کے وہ عملی دائرے بیان کیے جن میں اللہ تعالیٰ ہمارا رویہ درست دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ اسلام سے ہمارا تعلق اپنے فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر نہیں تحقیق پر مبنی اس علم پر ہونا چاہیے جو قرآن و سنت میں موجود ہے ۔ یعنی خدا سے ہمارا ایک زندہ تعلق ہونا چاہیے جس میں ہم ہر لمحہ اس کی معیت کے احساس میں جئیں ۔دوسرا یہ کہ عام انسانوں کے ساتھ ہمیں عدل، احسان، انفاق جیسی اقدار کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے اور ظلم و حق تلفی سے بچنا چاہیے ۔تیسرے یہ کہ بدکاری اور فواحش سے ہمیں دور رہنا چاہیے ۔

پیچھے میں نے باربار انفارمیشن ایج کا ذکر کیا ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ میری یہ تقریر فیس بک پر اگلے دن ہی اپ لوڈ ہوگئی جس کے بعد یہ ہزاروں لوگوں نے سنی۔اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انفارمیشن ایج نے ابلاغ کے کیسے غیر معمولی ذرائع اب پیدا کر دیے ہیں ۔

جمعے کی نماز کے بعد خواتین کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست ہوئی۔ خواتین نے متنوع نوعیت کے سوالات کیے ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے علم وعمل میں برکت دے ۔ جس کے بعد کھانا کھاتے کھاتے سہ پہر ہوگئی۔شام میں میری سڈنی روانگی تھی۔ اسی لیے گھرسے سارا سامان ساتھ لے کر چلا تھا جو عبدالشکور صاحب کی گاڑ ی میں تھا۔ احباب سے مل کر ہم ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے ۔اس دفعہ عبدالشکور صاحب کے ساتھ ائیر پورٹ چھوڑ نے کے لیے بلال منیر صاحب، خالد بلوچ صاحب اور فیاض امیری صاحب بھی ساتھ تھے ۔ ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ ائیر پورٹ جانے سے قبل مجھے شہر کے مرکزی حصے جسے امریکہ وغیرہ میں ڈاؤن ٹاؤن اور یہاں سی بی ڈی یعنی سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کہا جاتا ہے ، اس کا چکر لگوادیا جائے ۔

چنانچہ ہم ائیرپورٹ جانے سے قبل مرکز شہر پہنچے ۔آج کسی مقامی میچ کی بنا پر عام تعطیل تھی۔ اس لیے یہ علاقہ بند تھا۔ ورنہ عام حالات میں یہاں کافی رونق ہوتی ہو گی۔ مرکز شہر کی خاص بات ایم سی جی یا ملبورن کرکٹ گراؤنڈتھا جہاں کرکٹ میچ ہوتے ہیں اور کرکٹ کا شوق رکھنے والے پاکستانی کم از کم اس کے نام سے ضرور واقف ہیں ۔ دوسری عمارت یوریکا ٹاور تھی جو آسٹریلیا کی دوسری بلند ترین عمارت تھی۔

یہ چیزیں دیکھتے ہوئے ہم ائیر پورٹ پہنچ گئے ۔ عبدالشکور صاحب مجھے اندر تک چھوڑ نے آئے اور میری بورڈنگ کروادی۔ آسٹریلیا میں تمام ڈومیسٹک ائیر پورٹ پر میں نے یہی دیکھا کہ لینے والے سامان لینے کی جگہ تک اور چھوڑ نے والے بورڈنگ بلکہ بعض جگہ تو جہاز میں بیٹھنے سے پہلے تک ساتھ آئے تھے ۔ جبکہ ہر جگہ جہاز میں پانی بھی لے جانے کی اجازت تھی جو کہ عام طور پر اب دنیا میں نہیں دی جاتی ۔

ملبورن

عبدالشکور صاحب بڑ ی محبت کے ساتھ مل کر رخصت ہوئے ۔ میں ویٹنگ لاؤنج جا کر بیٹھ گیا سڈنی کی فلائٹ کا انتظار کرنے لگا۔میرا دو دن کا ملبورن کا انتہائی مصروف اور مختصر قیام اس بات کے لیے تو قطعاً ناکافی ہے کہ ملبورن شہر پر کوئی تبصرہ کیا جا سکے ۔ لیکن جو کچھ سنا اور جو کچھ اس مختصر وقت میں دیکھا اس لحاظ سے واقعتا یہ ایک بہترین شہر تھا۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 38

ملبورن آسٹریلیا کا دوسرا بڑ ا شہر ہے جس کی آبادی 45لاکھ ہے ۔ یہ دنیا کے پانچ بہترین شہروں میں سے ایک شہر ہونے کا اعزاز بھی رکھتا ہے ۔میں جب مرکز شہر آیا تو اس کی بلند و بالا عمارات نے پہلی دفعہ کسی شہر کا تاثر پیدا کیا۔ورنہ اس سے قبل میں جس علاقے میں رہ رہا تھا یا جہاں کہیں بھی گیا تھا وہ مضافاتی بستیاں تھیں ۔ یہ مضافاتی بستیاں بہت پرسکون علاقے تھے جہاں پر کشادہ گھر بنے ہوئے تھے ۔ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ حال میں ہونے والے امیگریشن کے سبب یہاں تیزی سے آبادی میں اضافہ ہوا اور نئی نئی بستیاں بنتی چلی جا رہی ہیں ۔ میں نے کہیں پڑ ھا تھا کہ اگلے دو عشروں میں ملبورن سڈنی کو پیچھے چھوڑ کر آسٹریلیا کا سب سے بڑ ا شہر بن جائے گا۔

یہاں مسلمان بھی کافی ہیں ، مگر زیادہ انڈین یا عرب ہیں ۔ پاکستانی دس ہزار کے لگ بھگ ہوں گے ۔مگر سب ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ کئی مساجد اور ا سکول بھی ہیں ۔ہم نے جس مسجد میں فجر پڑ ھی وہاں ا سکول بھی تھا جس میں تقریباًسولہ سوبچے پڑ ھتے تھے ۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی ا سکول تھے ۔

آسٹریلیا میں لوگوں کا رویہ اسی طرح پروفیشنل ہے جس طرح مغربی دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتا ہے ۔بورڈنگ جن خاتون نے کی انھوں نے دیکھا کہ میرا بیگ کا ہینڈل ٹوٹ گیا ہے تو اس پر سرخ رنگ کا ٹیپ چڑ ھادیاتاکہ سامان اٹھانے والے محتاط رہیں ۔ انھوں نے ہمیں آگے جانے کا راستہ بھی تفصیل سے سمجھادیا۔جہاز پر چڑ ھتے وقت جن خاتون نے بورڈنگ پاس چیک کیا۔ انھوں نے شلوار قمیض پہنے دیکھ کر مجھے غیر ملکی سمجھا اور بہت گرم جوشی سے میرا استقبال کیا۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مغرب میں ہرشخص کا رویہ ہر معاملے میں سو فیصد درست یا پروفیشنل ہوتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ مجموعی قومی مزاج ایسا ہی ہے اور اسی سے قوم کے حالات سنورتے یا خراب ہوتے ہیں ۔یہ اجتماعی مزاج نظام تعلیم کی درستی سے آتا ہے ۔ اس بارے میں میں نے کئی مقامات سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے بات کی۔ سفرنامے میں بھی اس پر آگے تفصیل سے بات ہو گی۔    ۔۔۔۔۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : سیرناتمام