گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 52

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 52

  

حبشہ میں لوگوں نے سالہا سال سے پیغمبر اسلام ﷺ کی ریش مبارک کا ایک بال محفوظ رکھا ہوا ہے اور وہاں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ اگر مصیبت کے وقت اس مُوئے مقدس کو باہر نکالا جائے اور دعا مانگی جائے تو مصیبت ٹل جائے گی۔ اٹلی والوں نے اس روایت کی بڑی تضحیک کی اور جب حبشہ فتح کیا تو وہاں کے لوگوں سے کہا کہ اب ذرا اپنا مُوئے مقدس نکالو ۔ لیکن وہ برخود غلط اطالوی اب کہاں گئے؟ ایک بار گاندھی نے بھی کہا تھا کہ میں 120 سال تک زندہ رہوں گا۔ کہاں گئے گاندھی؟ خدائے وحدہ لاشریک کے سوا کوئی ذات زندگی اور موت پر قادر نہیں۔

رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں نے حبشہ میں پناہ حاصل کی تھی، ینگس نے جو عیسائی تھا نو واردوں سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟ انہوں نے کلام پاک کی وہ آیتیں پڑھیں، جن میں حضرت مریمؑ کااور آپؑ کے بطن سے حضرت عیسیٰؑ کی مقدس پیدائش کا ذکر ہے۔ نیگس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور بعد کے مسلمانوں نے بھی وقتاً فوقتاً حبشہ میں پناہ حاصل کی۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک بار انڈیا آفس سے کسی کا فون آیا کہ تمام ہائی کمشنر وں کے لیے لندن سے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے انتظامات کر دیے گئے ہیں اور میرے لیے بلیک پول کے دو تین ہوٹلوں میں جگہ مخصوص کر دی گئی ہے ۔ لندن سے بھاگنے کی بات مجھے پسند نہیں آئی اس لیے میں نے ایک یا دو ہائی کمشنروں سے فون پر بات کی اور اُنہوں نے کہا کہ ہم کہیں نہیں جا رہے اور نہ ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

میں نے انڈیا آفس میں فون کیا اور کہا کہ میں لندن چھوڑنا پسند نہیں کرتا۔ یہ تو پھر بعد میں معلوم ہوا کہ اس آفس میں کسی شخص کی نظر ہمارے انڈیا ہاؤس کی خوبصورت عمارت پر تھی اور اسے اپنی حکمت عملی سے خالی کرانا چاہتا تھا لیکن لندن سے باہر نہ جانے کی جو فطری خواہش میرے اندر موجود تھی اس نے یہ کھیل بگاڑ دیا۔ آدمی کو چاہیے کہ کام کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کا اچھی طرح جائزہ لے لیا کرے تاکہ یہ اطمینان ہو جائے کہ درپردہ اسے بے وقوف تو نہیں بنایا جا رہا ہے۔

میرے لندن کے دورانِ قیام کا ایک اور واقعہ قابلِ ذکر ہے ۔ ایک بار کوئی عام جلسہ ہوا جس کی صدارت وزیرِ ہنڈلارڈزٹ لینڈ کر رہے تھے۔ میں جلسہ میں کسی قدر تاخیر سے پہنچا اور دروازہ کے قریب کھڑے ہونے کی جگہ ملی۔ جیسے کہ اختتام پر کچھ اہم شخصیتیں ڈائس کے قریب اکٹھی ہو گئی تھیں۔ اتنے میں کسی شخص نے سرمائیکل اور ڈائر پر گولی چلا دی۔ سرمائیکل ۱۹۱۹ء کے مارشل لاء کے زمانہ میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر رہ چکے تھے، جب کہ امرتسر میں جنرل ڈائر کے تحت ہندوستانی باشندوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئی تھیں اور اس حادثہ میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔سرمائیکل کا قاتل نکل کر بھاگنا چاہتا تھا کہ ایک انگریز اس کے پیچھے دوڑا اور اس نے جست لگا کر اس کی گردن اپنے دونوں بازوؤں میں جکڑلی۔ مجرم نے اپنا نام مسلمانوں کا سا بتایا۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بدنامی ہو ۔ لیکن سکاٹ لینڈ یارڈ کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ وہ ایک سکھ ہے اور سرمائیکل کو قتل کرنے کے ارادہ سے برطانیہ آیا تھا۔ سرمائیکل کی جیب میں سگریٹ کیس تھا اور اسی کی بدولت وہ بچ گئے تھے۔

زٹ لینڈ کے لیے میرے دل میں بڑا احترام تھا۔ میں نے ہمیشہ اُنہیں مہربان خلیق اور مفاہمت پسند پایا ۔ ان کے بعد وزیر ہند کے طور پر مسٹر ایمر ے کا تقرر عمل میں آیا۔ ایمرے سے میری پہلی ملاقات مسز کے شیل ورتھ کے یہاں کھانے پر ہوئی تھی ۔ حسنِ اتفاق سے مجھے ان کے پہلو میں جگہ ملی۔ لیکن اس وقت وہ پارلیمنٹ کے ممبر تھے اور کسی طرح کا عہدہ انہیں تفویض نہیں ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کے ایک تاریخی اجلاس میں جب مسٹر ایمرے نے وزیراعظم مسٹر چیمبر لین سے کہا تھا کہ’’ خدا کے لیے کچھ تو کیجئے‘‘تو اخباروں میں دھوم مچ گئی تھی اور ان کا بیان شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہواتھا۔ ہماری میزبان مسز کے شیل ورتھ کسی قدر روحانیت کی طرف مائل تھیں اور نہایت مذہب پر ست تھیں۔ ان کے وجہیہ شو ہر پہلی جنگ عظیم میں مارے گئے تھے اوردو لائق اور خوب صور ت فرزند رچڑد اور رومانی ، دوسری جنگ عظیم کی نذر ہو گئے ۔ رچرڈ کو باپ کی جگہ دارالامرا ء کا رکن نامزد کیا گیا تھا۔ وہ لنکا سٹر کے قریب کہیں رہتے تھے اوران کے ساتھ میں پرندوں کے شکار کو بھی جا چکا تھا۔ وہ ایک نہایت ہونہار نوجوان تھے اور ’’برطانیہ کی جنگ میں ‘‘جرمن فضائیہ کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔

مسٹرایمر ، خوش قسمتی سے اس دعوت کے تھوڑے ہی دنوں بعد وزیر ہند مقرر ہوئے اور تب میں نے سوچا کہ کاش میں نے دعوے میں دوسروں کی بجائے زیادہ وقت انہی کے ساتھ بات چیت میں صرف کیا ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں اُردو کے مشہور شاعر اکبر الہٰ آبادی کا ایک شعر تازہ ہو گیا ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’برطانوی حکومت کے راز کو بس اسی شخص نے سمجھا جس نے ہرٹمی کولیفٹیننٹ گورنر قیاس کیا۔‘‘ یہ سمجھنا کچھ ایسا غلط نہ ہو گا کہ پارلیمنٹ کا ہر رکن ، راتوں رات ، کوئی بہت اہم شخصیت بن سکتا ہے۔

بہر حال مسٹر ایمر ے بہت اچھے دوست بن گئے اور اسی طرح مسزایمر ے بھی مجھ پر بہت مہربان رہیں۔ وہ انڈیا ہاؤس میں میرے دفتر آجایا کرتی تھیں تاکہ ریڈ کر اس پارٹی کا کام جاری رہے۔ اس پارٹی کا ارکان جرمنی میں جنگی قیدیوں کے کیمپ میں اسیر ہندوستانی سپاہیوں کے لیے کھانے کی اشیاء کے پیکٹ تیار کرتے تھے۔ ایک اور مددگار لیڈی کری تھیں۔ ان کے علاوہ اور بہت سی خواتین بھی تھیں جو کارکنوں کا ہاتھ بٹانے کے لیے آتی تھیں۔ انہی میں مسز نندہ بھی تھیں، یہ سرہری سنگھ گور کی صاجزادی تھیں اور ان کے شوہر لندن میں ڈاکٹر تھے۔ کئی دوسرے ہندوستانی ڈاکٹر بھی انہی کی طرح پریکٹس کر رہے تھے ۔ برطانیہ میں ہندوستانی ڈاکٹر بڑی کامیاب زندگی گزارتے ہیں ۔ یہاں کے مزدور طبقہ میں اس توہم نے بڑا اثر ڈالا ہے کہ سیاہ فام ڈاکٹر کو غیب سے شفا بخشی کی مافوق الفطرت طاقت و دیعت ہوئی ہے۔

وہ ’’برطانیہ کی جنگ‘‘ کا زمانہ تھا اور جنہوں نے لندن میں اس جنگ کا مزہ چکھا ہے وہ اسے کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ قصرِ بکنگھم تک بمباری کی زد سے محفوظ نہیں رہا تھا۔ انڈیا ہاؤس میں گبسن نام کا ایک شخص ملازم تھا۔ وہ پنجاب میں جنگلات کا چیف کنزرویٹررہ چکا تھا اور اب ریٹائر ہونے کے بعد یہاں آگیا تھا ۔ میں اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ میرے محکمہ تجارت میں پیمائش کے شعبہ کا نگران تھا اور اس کا بیٹا برطانوی فضائیہ میں جانے سے پہلے ہمارے دفتر میں کلرک تھا۔ یہ وہی مشہور پائلٹ تھا جسے بعد میں جرمنی میں میورن ڈیم کے مقام پر ہوائی حملہ کی دلیرانہ قیادت کرنے پر وکٹوریہ کراس کا اعزاز دیا گیا۔ بدقسمتی سے کچھ عرصہ بعد وہ اسی جنگ میں ہلاک ہو گیا۔

لندن والوں کے حس مزاح کی ایک مثال مجھے پہلی جنگ عظیم کے دوران میں نظر آئی جب کہ میں طالب علم تھا ۔ ایک دن میکاڈلی سرکس کی طرف سے گزرتے ہوئے میری نگاہ ایک تصویر پر پڑیں ، جسے میں نے خرید لیا اور ہندوستان واپس آنے کے بعد بھی اسے مدتوں اپنے پاس محفوظ رکھا۔ تصویر میں چند ہندوستانی والیان ریاست (بیکانیر ، پٹیالہ وغیرہ) کو پیش کیا گیا تھا جو خوبصورت ریشمی لباس، دستار ، جواہرات ، سوتی پائجامہ اورپمپ کے جوتے پہنے کھڑے تھے ۔ تصویر کے نیچے یہ عبارت لکھی تھی۔ ’’ ہندوستانی شہزادے ، محاذ پر ۔‘‘ میں یہ سوچ سوچ کہ حیران ہوتا تھا کہ اس تصویر کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ اس احساس کے ماتحت تو نہیں بنائی گئی کہ والیانِ ریاست کے محاذ پر جانے کا مطلب دراصل آرام وہ ہوٹلوں میں قیام فرمانا ہے نہ کہ گھاٹیوں میں گھس کر بیٹھنا جہاں بھارتی بھر کم جوتوں میں بھی سپاہیوں کے پاؤں کوپالا مار جاتا ہے۔

میں نے پکا ڈلی سرکس میں ایک ایک اور تصویر دوسری جنگِ عظیم کے زمانہ میں خریدی۔ یہ ایک آبی رنگ کی تصویر تھی جس میں کُتے کے ایک پلے کو کٹی ہوئی دم کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ ایک بھِڑاس کی کٹی ہوئی دم میں ڈنک چھبورہی تھی اور نیچے یہ عبارت درج تھی۔’’صحیح مؤقف پر ڈٹے رہو۔‘‘

جنگ کے زمانہ میں سر محمد ظفر اللہ خاں دہلی میں سپلائی کے وزیر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک انگریز سیکرٹری نے ان کے پاس ایک فائل بھیجا جس میں ایک اور انگریز کے لیے ملازمت کی سفارش کی گئی تھی۔ایک بیان کے مطابق سرظفر اللہ نے فائل پر لکھا۔’’رب دِتیاں گاجراں ، وچے ر مبارکھ ۔‘‘ سیکرٹری اس عبارت کا مفہوم سمجھنے کے لیے سارے سیکرٹریٹ میں بھاگا پھرا ، یہاں تک کہ ایک پنجابی سے آمنا سامنا ہو گیا اور اس نے بتایا کہ ’’اللہ نے تمہیں کھانے کے لیے گاجروں کی فصل دی ہے۔ اپنا رمباو ہیں رکھو۔ ‘‘ مطلب یہ کہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے کھو دتے جاو اور کھاتے جاؤ۔ یہ کہاوت بڑی دلچسپ ہے لیکن اس پر شدت سے عمل نہیں کرنا چاہیے۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 53 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فادرآف گوادر -