وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68
وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دنگل سے ایک روز پہلے دستور کے مطابق پہلوانوں کا جلوس نکالا گیا۔ کالا پہلوان بے پناہ تیاری کے ساتھ شب دیجو ربناہوا تھا۔حریف کو دیکھ کر اچھا پہلوان کے اندر جوالا مکھی کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔اکی تو آتش پا ہوا پھر رہا تھا۔

10اپریل1949ء کے دنگل میں لاہور تماشائیوں سے بھر گیا تھا۔ہر طرف تانگے ہی تانگے اور ڈبل ڈیکر بسیں نظر آرہی تھیں۔ دنگل بارہ بجے شروع ہوا۔ تین بجے کے قریب اچھا اور کالا کی جوڑ میدان میں اتری۔ اچھا بڑے نپے تلے انداز میں اکھاڑے میں داخل ہوا۔شاید وہ اکی کی بڑھکوں سے سبق سیکھ چکا تھا۔ ادھر کالا بھی حسب معمول اپنے مخصوص انداز میں آگیا۔

اچھا پہلوان اکھاڑے میں کیا اترا جیسے مردانہ حسن کا ایک اچھوتا شاہکار میدان میں آگیا ہو۔تماشائیوں کی نظریں اس کے سروقامت اور ترشے ہوئے جسم سے چپک کررہ گئیں۔میدے اور سندور سے گوندھے ہوئے جسم کے ساتھ اچھا پہلوان نظروں کی دعائیں لیتا ہوا آگے ہی آگے بڑھ گیا ۔اس کی رانیں شہرہ آفاق پہلوان کلو امرتسری رستم ہند اور گاموں بالی والا جیسے رستموں سے بھی بڑھ کر حسین تھیں۔

کالا پہلوان اچھا کے اس روپ کے آگے دب سا گیا۔وہ گویا نظر ہی نہیں آرہا تھا۔بس اتنا ہی نظر آیا کہ ہاتھ ملاتے ہی اچھا نے کالا کو آگے رکھ لیا تھا۔ اچھا کی اس دیدہ دلیری اور عجلت سے یہ بات ظاہر ہو رہی تھی کہ وہ اپنے حریف کو اچانک ڈنک مارنے کا کوئی موقع ہی نہیں دینا چاہتا تھا۔اچھا پہلوان نے کالا کو سمیٹ کر اس کی گردن پر گھٹنا رکھ دیا اور لنگر میں دونوں ہاتھ ڈال کر کالا کو الٹانے کا عمل شروع کر دیا۔

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر67  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کالا لمحہ بہ لمحہ شکست کی طرف گامزن تھا کہ اچانک ارائیں برادری کے نعرے گونجنے لگے۔ یہ مقابلہ دراصل آرائیں برادری نے ہی کرایا تھا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ کالا اب گیا ہے تو انہوں نے اکھاڑے میں سایہ فگن تنبو کی رسیاں کاٹ دیں جس سے تنبو گر گیا اور پہلوان اس کے نیچے چھپ گئے۔ گو انہوں نے کالا کی ہمدردی میں یہ کام کیا تھا مگر چند لمحوں بعد ہی تنبو ہٹا دیئے گئے اور پہلوان پھر سے نبرد آزما نظر آنے لگے۔کالا نیچے ہی تھا۔ بظاہر وہ چت ہوتا نظر آرہا تھا مگر در حقیقت وہ ایک ایسے کام میں لگا ہوا تھا جس سے بازی پلٹ بھی سکتی تھی۔وہ الٹتے الٹتے دونوں ہاتھوں سے اچھا پہلوان کی دونوں رانیں کھینچ رہا تھا اور اچھا نے لنگر سے دایاں ہاتھ نکال کر زمین پر ٹیک بھی دیا تھا۔ اس کے باوجود کالا تلملا رہا تھا۔اس کی گردن پر ایک انسان کی ران نہیں گویا شہتیر رکھا ہوا تھا۔ یہ کشتی یونہی طول کھینچتی جارہی تھی۔ دس منٹ بعد کالا نیچے سے نکل آیا تو دونوں کو برابر چھڑا دیا گیا۔

ادھر اکی کے ستارے ابھی بھی گردش میں تھے۔ بڑی جوڑ سے قبل اس کی تلا پہلوان سے کشتی ہوئی تو وہ فتح یاب ہونے کی بجائے برابر ہی رہا۔ کالا کا ستارہ تو عروج پر تھا۔ وہ بھولو کے لیے خطرہ بن گیا۔جس رفتار کے ساتھ اس نے بھولو کے دو بھائیوں کو گھائل کر دیا تھا،اب لگ رہا تھا بھولو اس کی پہنچ سے دور نہیں رہا۔

کالا کی شاہ زوری کے چرچے عام ہو رہے تھے۔پنجاب بھر میں نورے والوں کا نعرہ گونجنے لگا۔’’لو بھئی ساڈے کالے نے امام بخش کے شیروں کو نتھ ڈال دی ہے۔‘‘

یہ رسوائی تھی جو امام بخش اور حمیدا پہلوان سے براشت نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے اپنے لڑکوں کو اکھاڑے میں پیس ڈالا۔ پھر اگلے ہی سال اعظم پہلوان کالا کے مقابل اتر آیا۔19مارچ1950ء کے دن یہ مقابلہ ہوا۔اعظم آخری قلعہ تھا جس کو گرانے کے بعد کالا بھولو تک پہنچنے کا حقدار تھا۔

اعظم شیروں کی اولاد تھا۔ وہ جست لگا کر اکھاڑے میں کودا اور ہوا میں قلا بازی کھا کر قدموں کے بل زمین پر کھڑا ہو گیا۔ یہ اس کی اضافی خوبی تھی۔ جس طرح بلی جتنی بھی بلندی سے گرے مگر زمین پر ہمیشہ قدموں کے بل گرتی ہے، اعظم میں بھی بلی ایسی ہی خوبی تھی۔ ادھر کالا پہلوان بھی فیصلہ کرکے آیا تھا۔ وہ بھولو پہلوان تک پہنچنے کے لیے راستے کا ہر قلعہ مسمار کر دینا چاہتا تھا۔ وہ بڑے صبر و تحمل کے ساتھ سمجھ بوجھ سے کشتی لڑنا چاہتا تھا۔پھر جب دونوں ایک دوسرے سے ’’لگے‘‘ تو اکھاڑے میں بجلیاں سی کوندتی نظر آنے لگیں۔

اعظم نے پہل کی تھی اور کالا پہلوان کو کسوٹا رسید کیا۔ کالا پہلوان نے گردن کو جھٹکا دیا اور اس حملہ کو درخوراعتنا نہ سمجھا اور جوابی حملہ کر دیا۔ اس نے اعظم کو دھوبی پاٹ دے مارا۔ اعظم پہلوان نے پھرتی دکھائی اور کالا پہلوان کے اس مہلک ترین داؤ سے بچ گیا۔ پھر تو دونوں طرف سے داؤ مارے اور توڑے جاتے رہے۔ کشتی آدھ گھنٹہ تک جاری رہی مگر فیصلہ کن ثابت نہ ہوئی بالآخر دونوں کو برابر چھڑا دیا۔ کالا پہلوان کا برابر چھوٹ جانا ان کی دف کی بہت بڑی جیت تھی۔ وہ تو لڈیاں دھمالیں ڈال ڈال کرنعرے مار رہے تھے کہ کالا پہلوان نے رستموں کے گھرانے کو ’’وخت‘‘ڈال دیا ہے۔

***

کالا طاقت و فن کا طوفان بن گیا تھا۔ وہ دھیمے انداز میں سمجھداری سے لڑتا تھا۔ آج وہی کالا ہیرو نمبر ون کہلا رہا تھا جو27مارچ1939ء کو میلہ چراغاں کے ایک دن بعد بھولو پہلوان اور احمد بخش پہلوان ملتانیہ کی بڑی جوڑ میں27ویں نمبر پر کشن چند نامی پہلوان سے کشتی لڑا تھا مگر آج اس کا شمار صف دوئم کے شاہ زوروں میں ذکر ہو رہا تھا اور وہ صف اوّل کے فنکار شاہ زور بھولو کو للکاررہا تھا۔ یہ اس کے دلکش اور نرالے انداز کشتی کا کمال تھا کہ وہ میدان پر میدان مارتا جارہا تھا۔

کالا نے صف اوّل کے تینوں شاہ زوروں بھولو پہلوان، اچھا پہلوان اور یونس پہلوان کو باری باری للکارا تھا مگر سوائے بھولو کے اچھا اور یونس سے اس کے معرکہ آرا مقابلے ہوئے۔ اس عہد کے دوبڑے شاہ زوروں سے کشتی کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ کالا پہلوان بھی صف اوّل کا شاہ زور بن گیا تھا یہی وجہ تھی کہ اس کا دنگل دیکھنے کے لیے خلقت ٹوٹ کر گرتی تھی۔

شیرپنجاب کالا پہلوان ہیرو نمبرون اپنی زندگی کا خود معمار تھا۔ اس کی حیات شاہ زوری دلچسپی سی خالی نہیں ہے۔ایک غریب گھرانے میں جنم لینے والا معمولی لڑکا اتنا بڑا شاہ زورکیسے بن گیا اور اس نے چراغوں سے چراغ کیسے جلائے۔ بڑا حیران کن ہے۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : طاقت کے طوفاں