بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سائبر کرائمز کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ کی لوٹ مار

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سائبر کرائمز کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ کی لوٹ ...
 بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سائبر کرائمز کے ذریعے ساڑھے چار کروڑ کی لوٹ مار

  

  دیپالپور (اے این این) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سائبر کرائمز کے ذریعے لوٹ مار کا انکشاف ٗ یونائٹڈ بینک اور بی آئی ایس پی کے فرنچائزرز نے ملی بھگت سے مستحقین کو ساڑھے چار کروڑ کا ٹیکہ لگادیا ٗ بے کس خواتین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سینکڑوں خواتین نے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ضلعی کوآرڈینیٹر اصغر حسین حماد اور تحصیل کوآرڈینیٹر مسعود علی ہاشمی کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ غریب ٗ بیواؤں اور مستحق افراد کیلئے ہر تین ماہ بعد بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی طرف سے 3600 روپے دیئے جاتے ہیں جس کے حصول کیلئے اے ٹی ایم کارڈ جاری کئے گئے ہیں جن کی تعداد 16 ہزار ہے جبکہ 16 ہزار کارڈ بننا ابھی باقی ہیں ۔ خواتین جب فرنچائز پر جاتی ہیں تو بینک کا عملہ اور فرنچائز مالکان ان سے بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ رات 11 بجے پیسے اے ٹی ایم سے نکل گئے ۔ چار ہزار خواتین کی تین اقساط جبکہ کل 7 ہزار خواتین کی ساڑھے 4 کروڑ روپے سے زائد کی رقم یو بی ایل اور فرنچائز عملہ نے نکلوا کر ہڑپ کرلی ہے فرنچائز مالکان راتوں رات کروڑ پتی بن گئے جن میں حویلی لکھا کے کسٹمرز سروس عمیر ٗ بھیرپور کے خلیل کسٹمرز ٗ دیپالپور کے سلامت عرف پپو شامل ہیں ان تمام فرنچائزز پر یو بی ایل عملہ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مستحق خواتین کے نکلوا لئے جاتے ہیں جبکہ کئی خواتین کے کوڈ پھاڑ دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں خواتین اپنی رقوم وصول کرنے سے محروم ہوچکی ہیں ۔

مزید : اوکاڑہ