وزیراعظم کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس:اچھے اور برے طالبان میں فرق ختم، سات روز میں دہشتگردی پر قومی پلان ترتیب دینے کا فیصلہ

وزیراعظم کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس:اچھے اور برے طالبان میں ...
 وزیراعظم کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس:اچھے اور برے طالبان میں فرق ختم، سات روز میں دہشتگردی پر قومی پلان ترتیب دینے کا فیصلہ

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں ہر پارٹی کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا، کمیٹی سات روز کے اندر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قومی پلان ترتیب دے کر سیاسی قیادت کو پیش کرے گی، اجلاس میں دہشتگردوں کا خاتمہ کرنے کیلئے اچھے طالبان اور برے طالبان کے درمیان روا فرق مکمل ختم کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس گورنر ہاؤس میں ہوا جس میں سانحہ پشاور کی بعد پیدا ہونے والے صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد وزیر اعظم نے تمام سیاسی قیادت کے ہمراہ خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کو جاری رکھا جائے گا اور اس دوران سامنے آ نے والے ہر دہشت گرد کو ختم کیا جائے گا خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب شروع ہو تو کچھ دہشت گرد بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے، افغان حکومت کے تعاون سے ان کے خلاف بھی کاروائی کریں گے تا کہ یہ ناسور ختم ہو سکے۔

وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی میرے ہمراہ موجود ہیں، ان کے ہمارے ساتھ کئی سیاسی اختلافات ہیں مگر اس معاملے پر ساری قوم ایک ہے۔

جنرل راحیل شریف نے افغان عسکری قیادت سے ملافضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کردیا، پاک افغان فورسز کے مشترکہ آپریشن کا امکان

انہوں نے اعلان کیا کہ فوری طور پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لے کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے ایک قومی پلان ترتیب دے گی، یہ پلان صرف ایک ہفتے میں تیار کیا جائے گا جس کو قیادت کو پیش کیا جائے گا اور اتفاق رائے سے اس پر عمل کیا جائے گا۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ آئندہ دہشت گرد حملوں سے بچنے کیلئے انٹیلی جنس تعاون کو مزید بہتر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور سول ایجنسیز کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وزیر اعظم نواز شریف نے بتایا کہ دوران اجلاس میں نے سیاسی معاملات کا حل نکالنے کیلئے عمران خان کے گھر چائے پینے یا عمران خان کو چائے پر بلانے کی رائے بھی دی ہے، اگر مجھے زخمی بچوں کی عیادت نہ کرنی ہوتی تو شاید میں عمران خان کے ہمراہ ان کے کنٹینر پر بھی چلا جاتا۔

یہ وقت سیاسی اختلافات کی بجائے سب کے ایک ہونے کا ہے : خورشید شاہ

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا جکہ اجلاس میں دہشت گردی ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ہم دہشت گردی کے معاملے پر ایک ہیں اور ملکر ہی اس معاملے کا حل نکالیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے حکومت کے ساتھ جو بھی اختلافات ہیں وہ انا کیلئے نہیں ہیں، لیکن پھر بھی یہ اختلافات دہشتگردی کے مقابلے پر ہماری راہ میں نہیں آ ئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قومیں متحد ہو جایا کرتی ہیں تو پھر وہ جنگیں بھی جیت جایا کرتی ہیں اور ہم یہ جنگ بھی جیت کر دکھائیں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس موقع پر تمام سیاسی قیادت کی طرف اجلاس میں شرکت اور اتفاق رائے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سزا لازم ہے ، ملزم رہاہوکر دہشتگردوں کیساتھ دوبارہ مل جاتے ہیں :وزیراعظم نواز شریف

مزید :

قومی -Headlines -