خیبرپختونخواہ کا 344 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ ، پنشن کم از کم 5,000 روپے کر دی گئی، صوبے میں انرجی ایمرجنسی نافذ کرنے فیصلہ

خیبرپختونخواہ کا 344 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ ، ...
خیبرپختونخواہ کا 344 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ ، پنشن کم از کم 5,000 روپے کر دی گئی، صوبے میں انرجی ایمرجنسی نافذ کرنے فیصلہ

  


پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ خیبر پختونخواہ کا 344 ارب روپےحجم پر مشتمل مالی سال 14-2013ءکا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس کے مطابق گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور گریڈ 17 سے 22 کیلئے 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم از کم پنشن 3,000 سے بڑھا کر 5,000 روپے کر دی گئی ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر خزانہ سراج الحق نے مالی سال 14 -2013ء کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کو بجٹ سازی کیلئے صرف دو ہفتے ملے تاہم پوری قوت سے عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور غربت کی شرح موجودہ شرح کے نصف تک لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں انرجی ایمرجنسی نافذ کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے جبکہ توانائی بحران کے حل کیلئے صوبے میں 10 چھوٹے پن بجلی گھر تعمیر اور 50 میگاواٹ کے سولر پلانٹ تعمیر کئے جائیں گے جبکہ جیلوں کیلئے شمسی توانائی منصوبے شروع کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی اور امن و امان تباہ ہو گیا جبکہ صوبہ خیبرپختونخواہ جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار رہا۔ سراج الحق نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، نجی شعبے کو اہمیت دیں گے اور حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے گی، کرپشن عناصر کا احتساب ہو گا اور عوام کی ترقی ہو گی، صوبے کا ہر محکمہ صوبائی کابینہ کو جوابدہ ہوگا، غریب اور بے سہارا عوام کیلئے تبدیلی امید کی کرن ثابت ہو گی، غریبوں کو مفت علاج کی سہولتیں دیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم کر کے مسائل کے خلاف جنگ شروع کریں گے، ہمارے پیش نظر مدینے کا نظام حکومت ہو گا، صوبے میں شرح نمو کو تین سال میں سات فیصد تک لائیں گے۔ سراج الحق نے کہا کہ ضلع سوات میں ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تعلیم کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے پشاور میں ٹیکنیکل یونیورسٹی اور چترال میں پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا اور صوبے میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2013-14 ءکے بجٹ میں تعلیم کیلئے 13 ارب 82 کروڑ روپے اور صحت کیلئے سات ارب 99 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، سڑکوں کی تعمیر کیلئے 10 کروڑ روپے، دیہی ترقی کیلئے 14 ارب 8 کروڑ روپے، غریب بچوں کی ماہانہ امداد کیلئے 20 کروڑ روپے، سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 18 کروڑ روپے، اخراجات جاریہ کی مد میں 211 ارب روپے، بلدیاتی انتخابات کیلئے 1 ارب روپے، امن امان کیلئے 23 ارب 82 کروڑ 34 لاکھ روپے، سڑکیوں کی تعمیر اور بحالی کے کام کیلئے 10 ارب روپے، زراعت کیلئے 2 ارب روپے، پولیس کیلئے 23 ارب روپے اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے 11 لارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ گندم پر دو ارب سے زائد سبسڈی دی جائے گی جبکہ ملازمتوں میں معذور افراد کیلئے کوٹہ رکھا جائے گا۔ پشاور میں ماس ٹرانزٹ سسٹم لایا جائے گا، صاف پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، پٹواری نظام کمپیوٹرائزڈ کریں گے۔ سراج الحق نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کیلئے غیر ملکی امداد کی مد میں 35 ارب اور سروسز پر سیلز ٹیکس سے 6 ارب روپے ملیں گے جبکہ پانی کے خالص منافع کی مد میں بھی 6 ارب روپے ملیں گے۔ 2015ءتک ملینئم دڈویلپمنٹ پروگرام کا ہدف مکمل کر لیا جائے گا۔ سراج الحق کے مطابق اخراجات کا تخمینہ بشمول سالانہ ترقیاتی پروگرام 344 ارب روپے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کا نظرثانی شدہ تخمینہ 73 ارب روپے رہا جبکہ صوبے کو 198 ارب روپے وفاق محاصل سے ملیں گے اور رائلٹی کی مد میں 27 ارب روپے ملیں گے۔

مزید : بجٹ ۲۰۱۳ /اہم خبریں