آرٹیکل 62-63کا اطلاق ججوں اور جرنیلوں پر بھی کیا جائے:سراج الحق

  آرٹیکل 62-63کا اطلاق ججوں اور جرنیلوں پر بھی کیا جائے:سراج الحق

  



لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد پر معاہدہ ہوناضروری ہے جن پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ملک میں ہونے والے ہرالیکشن کے بعد دھاندلی کے چشم کشا واقعات تمام ثبوتوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں جس سے حکومت کی ساکھ ختم ہوکر رہ جاتی ہے مگر کسی حکومت نے بھی ایسے واقعات کے سدباب کیلئے کچھ نہیں کیا۔62/63کا اطلاق صرف سیاستدانوں پر نہیں ججوں اور جرنیلوں پر بھی کیا جائے۔الیکشن کمیشن کا قیام بھی تمام سیاسی جماعتوں کے مشورے سے عمل میں لایا جائے۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے منصورہ میں جاری مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ انتہائی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت پر تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک معاہدہ کریں تاکہ انتخابی نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سرپرستی حاصل رہی ہے۔انتخابی دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور خواہش سے برسراقتدار آنے والی حکومت عوامی حمایت سے محروم رہتی ہے اور آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی۔ دھاندلی کے مقدمات کے فیصلے آنے والی حکومت کے جانے کے بعد بھی نہیں ہوتے۔اب وقت آگیا ہے کہ سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سیاسی جماعتیں ایک ایسے معاہدے پر متفق ہوجائیں جس کے تحت انتخابی نظام کو قابل بھروسہ اور بااعتماد بنایا جاسکے۔  انہوں نے کہا کہ کمزور اور متنازعہ الیکشن کمیشن آج تک ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہا ہے۔انتخابی اصلاحات پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔انتخابی قوانین کی دھجیاں اڑانے والے ہر بار معتبر ٹھہرتے اور قوانین پر عمل درآمد کرنے والے منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر