خان صاحب یہ تو بتا دیں کہ یہ کمبل ہے یا ریچھ؟؟

خان صاحب یہ تو بتا دیں کہ یہ کمبل ہے یا ریچھ؟؟
خان صاحب یہ تو بتا دیں کہ یہ کمبل ہے یا ریچھ؟؟

  

ایک مثل بہت مشہور ہے کہ میں تو کمبل چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔ کہتے ہیں کہ کوئی بندہ دریا کنارے کھڑا پانی کو دیکھ رہا تھا تو اسے پانی کے اندر ایک کمبل بہتا ہوا دکھائی دیا، وہ اس کمبل کے لالچ میں دریا میں کود گیا اور جب کمبل کو پکڑنے لگا تو پتا چلا یہ کمبل نہیں بلکہ ایک ریچھ ہے اب ریچھ کو بھی سہارا چاہیے تھا اس نے بندے کو جپھی ڈال لی، کنارے سے کسی دوسرے شخص نے آواز لگائی کہ کمبل کو چھوڑو اپنی جان بچا کر واپس آجاو، اندر سے اس شخص نے جواب دیا کہ میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل بھی تو مجھے چھوڑے؛ تب نا!

ہمارے خان صاحب بھی شاید پاکستانی سیاست کے سمندر میں کمبل کو دیکھ رہے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کے علاوہ یہ سارے سیاستدان نالائق ہیں۔ ان کو تیرنا بھی نہیں آتا ورنہ یہ کمبل پکڑ کر عوام کو اس سے مستفید کر سکتے تھے اسی لیے خان صاحب نے خود سمندر میں کودنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن اب ہمارے بہادر خان صاحب خاموش ہیں اور یہ بتانے سے بھی قاصر ہیں کہ جسے وہ کمبل سمجھ رہے تھے وہ کمبل ہی ہے یا ریچھ ہے۔ اس وقت پاکستان میں خان صاحب پر تنقید کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ اپنے کیا بیگانے کیا سب کے تیروں کا نشانہ وزیراعظم ہاوس کی طرف ہے۔ لیکن یہ خاکسار تنقید کرنے والوں میں نہیں ہے۔ کیوں کہ تنقید کرنے سے پہلے بہت ساری باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر کوئی اپنا کام کرنے کی بجائے دوسروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ کریں اور ہم ان کے کام میں نقائص تلاش کریں، اس بدقسمت ملک کی ٹاپ کی لیڈرشپ(سیاسی، فوجی، عدالتی اور  بیوروکریسی) تمام کے تمام اپنی ذاتی اناؤں اور ذاتی مفادات کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس کی بھاری اکثریت کی رگ رگ میں بدعنوانی سرائیت کر چکی ہے۔ اس وطن کے ساتھ لوگ جذباتی مخبت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ وفا کرنے والوں کی تعداد محدود ہے۔ اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اپنا کام کرنے کی بجائے دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے کو فرض سمجھتے ہیں۔ یہاں منخب کوئی ہوتا ہے لیکن فیصلوں کی چھڑی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ فیصلے کسی اور کے ہوتے ہیں۔ ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے۔ 

ہم 40 برس سے دیکھ اور سن رہے ہیں کہ سیاستدان اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں۔ لیکن کسی کا نام لیے بغیر روتے ہیں۔ خود استعفی دینے کی بھی ہمت نہیں کرتے، اس بہو کی طرح جس کو صرف کھانے کی خاطر ساس کا ہر ظلم سہنا قبول ہوتا ہے۔ اپنی مدت پوری کرنے کے جتن کرتے ہیں۔ اس میں سیاستدانوں کی اپنی غلطیاں بھی شامل ہیں۔ کیونکہ یہ خود پر یا عوام پر اعتماد کرنے کی بجائے اسی طاقت کا سہارا لیتے ہیں۔ جو ان کو بے سہارا کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنی جماعتوں میں جمہوریت لائیں اور میرٹ پر فیصلے کریں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ایک دوسرے کی جائز سپورٹ کریں تو ان کی توقیر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ 

بہرحال بات ہو رہی تھی خان صاحب کی اور ان پر ہونے والی تنقید کی یہ ناچیز خان صاحب پر ڈالر کی قیمت بڑھانے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ نہ مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے خان صاحب کو ہدف تنقید بناتا ہے۔ میں آج بھی صاحب کی حکومت کو پانچ سال کی مدت پوری کرنے کا حامی ہوں (وہ پانچ سال کے لیے مینڈیٹ لے کر آئے ہیں) لیکن میں چاہتا ہوں کہ خان صاحب یہ تو بولیں نا کہ جسے ہم سب کمبل سمجھتے تھے یہ ریچھ ہے۔ اور اب مسائل کے اس ریچھ سے کیسے نمٹنا ہوگا؟ کس کی مدد درکار ہے۔ 

خان صاحب مہنگائی میں بھلے مزید اضافہ کر لیں لیکن ملک کے اندر کسی نظام کی بنیاد تو رکھیں نا!! خان صاحب میں آپ سے ایک کروڑ نوکریوں کا ہر گز مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ جب آپ نے یہ بات کی تھی میں تب ہی سمجھ گیا تھا کہ کسی نے آپ کو غلط اعداد و شمار دے دیئے تھے۔ لیکن خان صاحب آپ بے روزگاری کے خاتمے کا کوئی منصوبہ تو دیں نا؟ جناب خان صاحب میں یہ بھی نہیں پوچھنا چاہتا کہ سانحہ ساہیوال کے مجرم کیوں بچ گئے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرم کیوں آزاد ہیں۔ لیکن میری گزارش یہ ہے کہ ملک کے اندر انصاف کے لیے کوئی انقلابی تبدیلی کی داغ بیل تو رکھ دیں نا!! قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور ان پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نیا طریقہ متعارف کروا دیں۔ وطن عزیز میں جسٹس منیر سے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب تک عدالتی فیصلے جو ہوئے سو ہوئے، اس عدالتی نظام میں کوئی بہتری لے آئیں، پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں جو "منظور شدہ " نصاب پڑھا کر نوجوانوں کے علم کو محدود رکھا جاتا ہے اور یہ بھی پتا نہیں کہ یہ نصاب کس کا منظور شدہ ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا کوئی محلہ ایسا نہیں جس میں نجی تعلیمی ادارے نہ ہوں اور ان کی من مانیاں نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے چپے چپے پر مذہبی مدرسے جن کی دنیا ہی الگ ہے۔

تحقیق، تحریر اور تنقید اس ملک میں مانع ہو چکی ہے خان صاحب آپ کا دعوی تھا کہ ایک تعلیمی نظام دیں گے اس طرف کوئی قدم اٹھا دیں۔ خان صاحب یہ زرعی ملک ہے۔ اس میں کسی زرعی پالیسی ہی کی بنیاد رکھ دیں، ہماری زرعی زمین جس رفتار سے کم ہو کر ہاؤسنگ سوسائیٹیوں اور ناکارہ صعنتی یونٹوں میں تبدیل ہو رہی ہے اس کی روک تھام کے لیے کوئی بلڈنگ کو ڈ بنا دیں اور کسی صعنتی پالیسی ہی کا اعلان جاری کر دیں، جناب میرا اس پر بھی گلہ نہیں کہ آپ نے بقول آپ کے پاکستان کے سب سے بڑے چور میاں نواز شریف کو برآمدگی کے بغیر لندن کیوں جانے دیا اور مریم نواز 10 سال کی سزا کے باوجود جیل سے باہر کیوں ہے اور نیب میں حاضر ہونے کی بجائے حملہ آور کیوں ہوتی ہے۔ لیکن جناب ہم یہ تو مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں نا کہ کرپشن کے راستے میں کوئی بند باندھنے کی کوشش تو کریں ناں! خان صاحب آپ 2013 سے 2018 تک دھاندلی کا شور مچاتے رہے۔ کیا آپ کی حکومت نے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے سدباب کے لیے کوئی اقدام کیا ہے؟ الیکشن کمیشن کے اندر کوئی آزاد پالیسی یا امیدواروں کی اہلیت اور الیکشن مہم میں پیسے کے بے دریغ استعمال کی روک تھام کے حوالے سے کوئی کام؟؟ 

خان صاحب آپ ایک بہادر انسان ہیں آپ بولڈ سیاستدان کے نام سے مشہور رہے ہیں۔ اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو ان قوتوں کو ہی ننگا کر دیں جو آپ کو آزادی سے کام نہیں کرنے دے رہی ہیں۔ (تم کو بھی غم نے مارا ہم کو بھی غم نے مارا آؤ اس غم کو مار ڈالیں) اس کے بعد آپ کو اپنی حکومت کی قربانی بھی دینی پڑ گئی تو بھی یہ سودا مہنگا نہیں ہوگا۔ 

مزید :

رائے -کالم -