سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 31

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 31
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 31

  

تھوڑی دیر بعد رچرڈ اس کے ساتھ اٹھا اور دروازے سے ہوتا خیمے کو ہٹا کر مدورخرگاہ میں داخل ہو گیا ۔ جہاں نیچی مستطیل میز پر سونے کے برتنوں میں بھُنے ہوئے مسلم پرندے ، تلی ہوئی پوری رانیں ، شوربا ، بسکٹ ، پھل ،میوے ، پنیر اور شہد ڈھیر تھا اور کئی گلفام اور ستارہ لباس کنیزیں مؤدب کھڑی تھیں۔ رچرڈ نے اس کے مقابل بیٹھ کر کھانا شروع کرنے کا اشارہ کر کے کہا۔

’’اس میں کوئی ایسی چیزیں نہیں ہے جسے ہمارے معزز دوست کا مذہب قبول نہ کرے۔ ‘‘

’’ہے‘‘۔

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 30 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’کیا؟‘‘رچرڈ نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ دیں:

’’سونے کے برتن۔‘‘

’’آپ سونا استعمال نہیں کرتے۔ ‘‘

’’کرتے ہیں مگر برتن نہیں۔ ہم سونے کی کرسیاں، سونے کی میزیں ، سونے کے پلنگ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ ‘‘

پھر کنیزوں نے تمام کھانا شیشے کے برتنوں میں چن دیا۔ رچرڈ نے ایک کنیز کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

’’یہ ہماری بہن جین کی خاص الخاص کنیز ہے ‘‘۔

اس کی عمر پختہ ، رنگ سفید، آنکھیں نیلی اور قبا کے شانوں پر لہرائے ہوئے بال سرخ تھے۔ وہ اسے دیکھتا رہا جو ایلینور کی تصویر بنی کھڑی تھی اور اس کی شاہانہ نگاہیں فرش پر لوٹ رہی تھیں۔ جب کنیز نے نگاہ اٹھائی تو اسے اپنا آبگینہ دل نگاہ کی مستی سے پگھلتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کا لباس دوسری کنیزوں سے قیمتی اور بھاری تھا اور دوسری کنیزوں کے برعکس اس کے بدن پر کوئی زیور نہ تھا سوائے ایک صلیب کے جور چرڈ کے سر کی پیٹی کے جواہرات سے کہیں مہنگی تھی۔ وہ ایک مہمان نواز ملکہ کی طرح انتہائی وقار ار تمکنت کے ساتھ میز کی چھوٹی چھوٹی خدمتیں انجام دے رہی تھی اور کنیزوں کی نگاہیں اس کے چہرے تک پہنچتے پہنچتے مودب ہو جاتی تھیں۔ اسے خود بخود یقین ہو گیا کہ جس طرح ملک العادل کے بھیس میں وہ بیٹھا ہوا ہے اسی طرح ایک کنیز کے روپ میں خود ایلینور کی بیٹی رچرڈ کی بہن اور صقلیہ کی سابق ملکہ کھڑی ہوئی ہے ۔ اس نے جین کو اتنی تیز نگاہ سے دیکھا کہ ران کو تراشتی ہوئی اس کے ہاتھ کی زریں چھری کانپنے لگی اور اس کے دل میں عجیب و غریب تمنا تڑپ اٹھی ۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اپنی بیٹی عفت زمانی کی طرح اسے اپنے قریب بلائے، اس کی پیشانی پر بوسہ دے ، اس سے باتیں کرے اور تخت و تاج کی دولت سے نہال کر دے۔ وہ جو اس کے خوابوں کے تخت پر ملکہ کی طرح بیٹھی ہوئی ایلینور کی ہم شکل تھی، ہم صورت تھی۔ نگاہوں میں وہی تمکنت ، سراپے پر وہی شاہانہ پن اور اداؤں میں وہی تاج بے نیازی۔ وہ اسے دیکھتا رہا۔ رچرڈ کی نگاہوں سے بے نیاز دیکھتا رہا۔ اور جین کے چہرے کی کیفیت اسے یقین دلاتی رہی کہ وہ اس کی مؤدب نگاہوں کی با ادب گستاخیوں سے آشنا ہے ۔ رچرڈ کی آواز نے اس کی محویت کے طلسم کو شکست کر دیا۔

’’ہماری آرزو تھی کہ آپ کے سلطان اعظم کو دیکھیں۔ اس سپاہی سے ملاقات کریں جس نے ایک لڑائی لڑ کر پوری مسیحی سلطنت کو غارت کر دیا جس کی ایک فتح نے ساری مسیحی دنیا میں زلزلہ ڈال دیا۔ اس عظیم انسان سے گفتگو کریں جس کی فیاضی نے افسانوی شہرت حاصل کر لی ہے اور جسے تبنین کے ہمفری نے نائیٹوں کے نائٹ کا خطاب دیا ہے ۔ ‘‘

رچرڈ یہ سب بڑی دل سوزی سے کہہ رہا تھا اور جین بڑے شوق سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو بظاہر رچرڈ کی طرف متوجہ تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اور رچرڈ دونوں سلطان سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ مدتوں سے اس کی باتیں سن رہے ہیں، اسے دیکھنے کا ارمان کر رہے ہیں۔

’’یہ سلطان کو دیکھنے کی آرزو تھی کہ ہم نے سیاست کے واسطے سے ملاقات کی خواہش کی تھی اور ملاقات میں ادب و آداب برتنے کی کوئی شرط نہیں رکھی تھی۔ سلطانِ اعظم نے ہمارے علاج کے لئے حکیم روانہ کئے ، ٹھنڈا پانی ، برف اور پھل ارسال کئے ، تحائف قبول کئے اور بھیجے لیکن ہم کو بازیاب کرنا قبول نہ کیا۔ انتہا ہے کہ شہنشاہ فرانس سے بھی ملنا پسند نہ کیا حالانکہ دوسری صلیبی جنگ میں اس وقت کے شہنشاہ لوئی سے ان کی ملاقات ہو چکی تھی جب وہ صرف دمشق کے گورنر کے بیٹے تھے۔ ‘‘

’’اب وہ مشرق کے سب سے بڑے شہنشاہ ہیں۔ ‘‘

جین نے پہلی بار اپنی آواز سنائی جس میں ایلینور کی شعلہ خوئی اور عفت زمانی کی صدا کی کھنک تھی۔

’’لوئی ہفتم نے ان کو نائٹ بھی بنایا تھا۔ ‘‘

رچرڈ نے لقمہ دیا۔

’’ہمارے بادشاہ کی ماں اور اس وقت کی ملکہ فرانس نے انہیں اپنی خدمت میں باریاب بھی کیا تھا۔ ‘‘

جین نے بڑے جوش سے کہا۔

’’ہاں جب وہ ملکہ انگلستان بنیں ااور اپنے ذاتی ملک ا’’اینٹیک ‘‘ پر پورا حق مانگا تو لوئی کے درباریوں نے اسی ملاقات کے افسانے گڑھ لئے۔ ‘‘

یہ کہتے وقت رچرڈ کی آنکھیں جھک گئیں۔ کھانا ختم ہوا باتیں چلتی رہیں اور وقت اس کا فرمان لے جانے والے صبارفتار قاصدوں کی طرح اڑتا رہا۔ پھر اس کور چرڈ کی خواب گاہ میں پہنچا دیا گیا۔ جس کی آرائش بادشاہوں کے شیانِ شان تھی ۔ اس کو اندر پہنچا کر رچرڈ واپسی کی اجازت اور میٹھے خوابوں کی دعا کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ جین دوسری کنیزوں کے ساتھ اندر آئی ۔ آبنوسی تپائی پر رکھے چاندی کے صندوقچے کی طرف اشارہ کر کے بولی۔

’’شب خوابی کا لباس نکال دیا جائے۔‘‘

وہ بوڑھے ترجمان کی وحشت زدہ آنکھوں کے سامنے زرہ کی کڑیاں کھولنے میں اس کی مدد کرنے لگی۔ آہن پوش بدن پر بھی اس کی انگلیوں کے نرم زندگہ لمس نے تسکین عطا کی ۔ وہ تسکین جو صرف بیٹی اپنے باپ کی گردن میں باہیں ڈال کر دے سکتی ہے ۔ جب وہ کپڑے تبدیل کر چکا تو وہ پھر اسی مغرور بے تکلفی کے ساتھ اندر آگئی اور اسے وضو کرانے میں اپنے ہاتھ سے مدد کرنے لگی۔عفت زمانی کی طرح ایک حکم کی تعمیل اور دوسرے حکم کا انتظار کرنے لگی ۔ جب وہ فرش کے قالین پر مصری جانماز بچھا کر کھڑا ہوا تو وہ لپک کر باہر گئی اور مغربی دیوار کے پیچھے کھڑے ہوئے تاج انگلستان کے محافظانِ خاص کو بنفس نفیس حکم دے کر ہٹا دیا۔ جب تک وہ نماز پڑھتا رہا جین دوسری کنیزوں کے ساتھ مودب کھڑی رہی۔ اسے مسہری پر لٹا کر پردے برابر کئے اور پر سکون نیند کی دعا کر کے باہر چلی گئی۔

اور وہ لیٹا ہوا اس رچرڈ کے متعلق سوچتا رہا جس نے عکہ کے چار ہزار بے گناہ مسلمانوں کو ذبح کر ڈالا تھا اور آج کس قدر مہذب، مہمان نواز نیک دوست نظر آرہا تھا اور اس نے اپنے عسکری منصوبوں کو دور اندیشی کی داد دی۔ اس نوجوان سپہ سالار کو عکہ کی فتح کتنی مہنگی پڑے گی ۔ چاہتا ہے کہ اس فتح کو صحیح سلامت انگلستان پہنچا دے ۔ کسی نہ کسی طرح بیت المقدس پر دخل چاہتا ہے بہن کی زندگی برباد ہو جائے گی اس کی سالاری کا بھرم قائم رہے ۔ شہرت اور عزت کی بھوک کتنی بھانک ہوتی ہے ۔ اور جین ؟ جین کو اگر ملک العادل دیکھ لے تو اس کا امکان ہے کہ صلیبیوں کے خلاف اس کی تلوار کی گرفت ڈھیلی ہو جائے۔

وہ رات کتنی پراسرار تھی۔ دنیا صلاح الدین ایوبی کو ملک العادل سمجھ رہی تھی اور ایلینور کی بیٹی اسے اپنا ہونے والا شوہر خیال کر رہی تھی جبکہ ملک العادل گھوڑے پر سوار برفیلے جھکڑوں کے تھپیڑے کھا رہا تھا۔ جب اس کی آنکھ کُھلی اور اس نے کلمہ پڑھا اور پہرے پر کھڑے ہوئے محافظوں کی مودب سرگوشیاں گنگنانے لگی تو سب سے پہلے جین داخل ہوئی۔ اس کے پیچھے کنیزیں گرم پانی اور چاندی کا تسلہ اور ریشمیں تو لیہ سنبھالے ہوئے آئیں ۔ جب وہ نماز پڑھ چکا جین نے اسے زرہ بکتر پہننے میں مدد دی بستر پر لیٹی ہوئی ننگی تلوار کی احترام سے اٹھا کر نیام میں رکھا اور تکیے کے نیچے سے خنجر نکال کر غلاف کیا اور اس کے کمر بند میں لگایا۔ کفتان کے یا قوتی تکمے اپنے ہاتھ سے بند کئے ۔ کانسی کی تپائی پر رکھا ہوا عمامہ دونوں ہاتھوں میں اس ادب سے اٹھایا گویا وہ عمامہ نہیں کوئی صحیفہ ہو۔ پھر دروازے پر کھڑی ہوئی مسلح کنیز نے رچرڈ کے آنے کی خبر دی ۔ رچرڈ نے بڑی گر مجوشی سے بایاں ہاتھ سینے پر رکھ کر داہنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ رسمی گفتگو کی اور دوسرے خیمے میں ناشتے پر بٹھا دیا۔ جین اس کی خدمت پر مامور رہی ۔

’’سلطان اعظم ہمارے عزیز دوست کو محبوب رکھتے ہیں۔‘‘

’’کیوں ؟ ‘‘

’’مطلع کیا گیا ۔‘‘

’’مطلع کیا گیا ہے کہ سارا اسلامی لشکر تمام رات کمر بستہ رہا ۔ سلطان اعظم بنفس نفیس گھوڑے پر سوار ہو کر گشت کو نکلے ہیں ۔ ساری رات ان کی بارگاہ پر نوبت بجتی رہی یعنی ساری رات وہ اپنے ندیموں کے ساتھ بیدار رہے ہیں۔ نتیجے میں ہماری بھی ساری رات تیار رہی۔‘‘

اور جب وہ جنگی مجلس کی خرگاہ کی طرف جانے کیلئے اٹھا تو جین نے اسے آخری بار دیکھا۔ اور محسوس ہوا جیسے وہ دمشق کے اندرونی دالان میں کھڑا عفت زمانی اور عصمت الدین کے الوداعی سلام قبول کر رہا ہو۔ اور جب وہ جنگی مجلس سے بادشاہوں ، شہزادوں ، نوابوں اور امیروں ، سپہ سالاروں اور پادریوں سے رخصت کی رسم ادا کر کے رچرڈ کے ساتھ چلا اور عیسائی لشکر کی سلامی لے کر اپنے گھوڑے کی طرف بڑھا اور ماروین کے حکمراں نے رکاب تھام لی تو ر چرڈ نے بڑے جوش و خروش سے ہاتھ ملایا اور دیر تک دبائے رکھا۔

جب تک کوچ کا نقارہ نہیں بجا اس نے ہاتھ نہ چھوڑا ۔ رکاب میں پاؤں رکھتے ہی نقارے پر چوٹ پڑی۔ اور جھنڈوں کے بھاری پھر یروں نے اسے چھپا لیا۔ اور جب تک اس کے خدم و حشم نظر آتے رہے رچرڈ اسی جگہ اسی طرح ساکت کھڑا رہا۔ اور وہ اپنے دل پر ایک بوجھ لئے اپنے لشکر گاہ میں داخل ہوا ۔(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس