معاشی انحطاط کے عوامل اور ان کا حل

معاشی انحطاط کے عوامل اور ان کا حل
معاشی انحطاط کے عوامل اور ان کا حل
کیپشن: kashif darwesh mandarni

  

 جناب من!انگریزی عملداری میںبرصغیر کا سب سے پہلا متوازن بجٹ 28فروری 1947ءکو ایک غیر انگریز وزیر مال نواب زادہ لیاقت علی خان نے ہندوستان کی مرکزی اسمبلی میں پیش کیا ۔ یہ وہ بجٹ تھا ، جسے غریب کا بجٹ کہہ کر سراہا گیا اور حقیقی معنوں میں یہ بجٹ ایسا تھا کہ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں سے کہ جنہوں نے اربوں روپیہ ناجائز طور پر کما کر سرکاری ٹیکس دبا لیا تھا، تمام رقم واپس لی جائے اور یہ بجٹ اس لحاظ سے متوازن تھا کہ اس کی بنیاد قرآن حکیم کی تعلیمات پر رکھی گئی تھی۔ بجٹ تقریر کے موقعہ پر نواب زادہ لیاقت علی خان نے فرمایا کہ:”قرآن حکیم کے اس حکم پر میرا یمان ہے کہ دولت کی گردش صرف امیروں کے درمیان ہی نہیں رہنی چاہئے ۔قرآن حکیم نے افراد کے ہاتھوں میں ارتکازِ زر کے خلاف بڑا سخت انتباہ کیا ہے“....(قائد ملت ،لیاقت علی خان ،حیات و خدمات؛مرتبہ :زاہد حسین انجم )....جی ہاں !یہی وہ بنیادی قرآنی تعلیم ہے کہ جس کو بنیاد بنا کر یہ بجٹ بنایا گیا تھا ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ باوجود سخت مخالفت کے 28مارچ 1947ءکو کانگریس نے بھی مسلم لیگی ارکان کے اشتراک سے بجٹ کی منظوری دے دی ۔اس بجٹ کی سب سے اہم تجویز یہ تھی کہ ٹیکس چوری سے جمع کی ہوئی دولت کے بارے میں تحقیقات کرنے کے سلسلے میں ایک کمیشن قائم کیا جائے ۔ اس بجٹ کی قابل تعریف بات یہ تھی کہ اس میں دو ہزار سے بڑھا کر اڑھائی ہزار روپے سالانہ تک کی آمدنی پر ٹیکس معاف کر دیا گیا۔

 ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ بڑے صنعت کاروں ،سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے اور غریبوں کا خون نچوڑنے کی خاطر ہر بجٹ میں ان پر مزید ٹیکس لگا دیئے جاتے ہیں ،جبکہ نواب زادہ لیاقت علی خان کے پیش کردہ بجٹ کی ایک خاص تجویز یہ بھی تھی کہ ایک لاکھ سے متجاوز کاروباری منافع پر پچیس فیصد خصوصی انکم ٹیکس نافذکیا جائے ،جبکہ سرمائے میں 55ہزار سے زائد افزائش پر ایک تدریجی ٹیکس لگایا جائے،مگر ہمارے ہاں حکومتیں ہر سال عوام کو سبز باغ دکھاتی ہیں ۔ یہ حقیقت نفس ا لامری ہے کہ حکومتی سطح پر اہل اور ایمان دار لوگوں کی کمی کی وجہ سے جو روپیہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہئے ،وہ راستے میں ہی کہیں گم ہو جاتا ہے ،جبکہ غریب عوام کے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس جاتی ہیں اورغریب لوگ بیچارے پتھر کے بت کی طرح سکتے کی حالت میں انگشت بدنداں ”الا نتظار اشد من الموت“کے مصداق اضطرابی کیفیت میں ہی اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں۔ ہر بجٹ کے بعد مہنگائی ان کا بھر کس نکالنے پر کمربستہ رہتی ہے اور آئی ایم ایف کے حکم پر آئے دن بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھا کر غریبوں پر عذاب مسلط کیا جاتا ہے ۔ جو قرض آئی ایم ایف اور عالمی بنک وغیرہ سے اربوں ڈالرز کی صورت میں ہمارے حکمران وصول کرتے ہیں.... (حال ہی میں عالمی بنک نے پاکستان کے لئے 700ملین ڈالر قرضے کی منظوری دی ہے )....اس قرض کا اتارنا غریبوں کے ذمہ واجب ا لاداءقرار دیا جاتا ہے ۔غر ضیکہ مہنگائی کے ڈرون نے غریب عوام کو جیتے جی قبر میں ڈال دیا ہے اور وہ سسک سسک کر مر رہے ہیں، مگر ان کے ”ہر دلعزیز “زعماءکے اللے تللے ختم ہی نہیں ہوتے، بقول شاعر :

کچھ خبر ہے شمع اپنے دیوانوں کی

چیونٹیاں لاش لئے جاتی ہیں پروانوں کی !

جناب من! یہ بہت ہی دل دکھا نے والی بات ہے کہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے بجائے اپنے وسائل پر انحصار کے قومی اداروں کی نجکاری کو عمل میں لایا جاتا ہے۔یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے بجٹ کا بڑا حصہ غیر ملکی قرضوں اور ان کا سود اتارنے میں خرچ ہو جاتا ہے ۔یہ قرضے طول شب فراق کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔آئندہ مالی سال 2014-15ءکے بجٹ میں بھی وزیر خزانہ نے اداروں کی نجکاری کی ”نوید “سنائی ہے ، جس کے نتیجے میں جو بیروز گاری پھیلے گی، اس کا ذکر تک نہیں کیا گیا ۔اسی طرح اس سال بھی بجٹ میں زراعت کو اس طرح اہمیت نہیں دی گئی، جس طرح دینی چاہئے تھی، جبکہ خود وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ملکی پیداوار میں زراعت کا اکیس فیصد حصہ ہے اور 65فیصد لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔اس سلسلے میں قابل ذکر بات ڈار صاحب نے کی کہ مختلف فصلوں کو تباہی سے بچاﺅ کے لئے ساڑھے بارہ ایکڑ زمین تک کے لئے انشورنس کا پروگرام ہے اور بتایا کہ یہ سلسلہ جاری ہے ۔

 اگست کے مہینے میں ہمارے دریا بپھر جاتے ہیں ، خاص طور پر جنوبی پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں اپنی طغیانی دکھاتے ہیں اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں ....اس ضمن میں مستقل بنیادوں پر پالیسی مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔پاکستان میں پانچ کروڑ ایکڑ کے قریب رقبہ بنجر حالت میں پڑا ہوا ہے ،اس کو آباد کرنے کی سعی کرناوقت کی ناگزیر ضرورت ہے ۔مزید برآں حلال فوڈ انڈسٹری کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ دنیا کی تجارت میں حلال فوڈ انڈسٹری کا حصہ بیس فیصد بنتا ہے ،جبکہ پاکستان کی حلال میٹ انڈسٹری کی سرٹیفیکیشن کا مسئلہ دردسر بنا ہو ا ہے جو حکومتی سطح پر ہونی چاہئے اور یہ بین حقیقت ہے کہ پاکستان حلال فوڈ کی برآمدات کو فروغ دے کر اس شعبے میں بلاشرکت غیرے ایک سپر پاور کے روپ میں سامنے آسکتا ہے۔ پاکستان سے بڑی تعداد میں مویشی افغانستان کے راستے سے دوسرے ممالک سمگل کئے جارہے ہیں ،اس لئے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح زرعی فارمز پر ویئر ہاﺅس نہ ہونے سے پچاس فیصد زرعی اجناس کا ضیاع ہوتا ہے ، اس کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو سالانہ ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے ماہرین زراعت کے مطابق زرعی اجناس کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے حکومت کو تمام شہروں میں ویئر ہاﺅس تعمیر کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے حکمران حقیقی معنوں میں رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق: ”سید ا لقوم خادمھم“....( قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے ) کے مصداق بن جائیں۔ (آمین)

مزید :

کالم -