جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 42

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 42
جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 42

  

اس دن میری زندگی میں نیا موڑ آگیا ۔میں سوچنے لگا کہ علم جیسا بھی ہوبولتا ضرور ہے ۔جس کی قسمت میں جو لکھا ہوگا اور جو جس ماحول میں بھی چلا جائے گاوہ اس علم کو اپنے طور پر استعمال کرنے سے باز نہیں آئے گا ۔صرف انسان ہی نہیں جنات بھی اپنی خواہشات کے اسیر ہیں اور کبھی اس پر سمجھوتہ نہیں کرتے ۔شاہد بھائی آپ تو بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنات ایسی مخلوق میں غصہ نفرت اور انتقام بہت زیادہ ہوتا ہے ،اسکا بلڈپریشر ہر وقت ہائی رہتا ہے ۔کسی جن کو ہاتھ لگا کر دیکھ لو اسکا بدن تپ رہا ہوتا ہے جبکہ ہم انسانوں کے جسموں میں ذرا سی حرارت آجائے تو تپ چڑھ جاتی ہے اور دماغ الٹ جاتا ہے ۔جنات کا دماغ اس غصہ سے کھولتا رہتا ہے ۔اللہ نے اسکو بنایا ہی ایسا ہے کہ اسکا دماغ بہت گرم بھی ہوجائے تو وہ اس قوت کو برداشت کرتا ہے لیکن انسان کا دماغ تپ جائے تو الٹ جاتا ہے ۔میں نے حافظ عبداللہ کو بھی دیکھا،اسکی منگیتر کو بھی دیکھا ،عجیب سی مخلوق ہے جس میں محبت کا جنون نفرت سے پیدا ہوتا ہے ۔اس قدر بے قرار جنس ہے کہ اللہ معاف کرے ،ہم انسانوں کو باہمی جذبوں کے اظہار میں غرق ہوتے دیکھ کر شرم سے دوہرے ہوجاتے ہیں لیکن جنات کا جذبہ محبت تو آتش نار جیسا ہے جو بھڑکتا ہے توبجھتاہے ۔ 

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔..قسط نمبر 41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں اگر اپنی زندگی کے انہی واقعات کو بیان کرتا رہ گیا تو کئی دن اور راتیں یونہی گذر جائیں گی ،میں تو ایسی کہانی کا طلسمی کردار بن گیا تھا کہ جس کے ساتھ روزانہ کچھ نہ کچھ ہوتا تھا ۔اب میں آپ کو زندگی میں آنے والے اس موڑ اور تبدیلی کے مرحلے سے روشناس کراتا ہوں کہ میں میچورہوکر گمراہ کیسے ہوگیا اور میں نے پھر کیا کچھ حرام کاریاں کیں۔

حافظ عبداللہ سے میری دوستی بہت آگے چلی گئی تھی۔میں نے اسے کئی عمل سیکھا دئیے جو پہلے اس سے چھپا کررکھنا چاہتا تھا لیکن جب وہ خود میرے ساتھ کھلی کتاب کی طرح پیش آنے لگا،میرا سایہ بن گیا تو میں اسکے ساتھ کنجوسی اور بے مروتی نہیں کرسکتا تھا ۔کئی مہینوں بعد جب کہ میں نے بھی اس سے کافی راز کی باتیں اور عمل سیکھ لئے تھے اور قرآن پاک کے دس پارے بھی حفظ کرلئے تھے تو ایک دن میری زندگی میں اسی گڑیا جیسی لڑکی نے حیران کن تبدیلی پیدا کردی ۔حافظ صاحب جو میرے استاد تھے اور روحانی علوم میں تابدار علوم رکھتے تھے ،انکی بیٹی سے مجھے محبت ہوگئی،مجھ سے چھوٹی تھی لیکن وہ میرا بہت خیال رکھتی تھی ۔ہم دنوں ہی ابھی نابالغ تھے لیکن جذبہ بالغانہ تھا ۔انتہائی سلیقہ مند اور ذہین تھی،اسکا نام بھی زلیخا تھا ۔حافظ عبداللہ نے اسکو اپنی بہن بنایا ہوا تھا اور اس سے بڑا بے تکلف تھا ۔وہ میرے جذبے کو جانتا تھا اور اکثر مجھے واضح طور پر بھی کہتا تھا ’’ بابر ایک دن زلیخا تیرے گھر کا نور بن جائے گی اور دیکھو تم سے اسکی شادی میں ہی کراوں گا ،اسکا صدقہ لازمی اتارنا ،یہ بڑی پاکیزہ لڑکی ہے ۔اسکی قدر کرنا ‘‘ 

یہ بات حافظ صاحب نے محسوس کرلی تھی ۔انہوں نے میری ماں کو اپنی بہن بولا تھا اس لئے انہوں نے خود ہی اس سے کہہ بھی دیا کہ وہ چاہتے ہیں جب بابر حسین پڑھ لکھ جائے تو انکی زلیخا سے اسکا بیاہ کردیا جائے ۔بعد میں معلوم ہوا کہ حافظ صاحب کو یہ مشورہ عبداللہ نے ہی دیا تھا ۔میری ماں کو اور کیا چاہئے تھا کہ جس بگڑے ہوئے بچے کو انسان بنانے کے لئے وہ مسجد کے مکتب میں چھوڑ آئی ہے اب وہاں اس کا زندگی بھر دھیان رکھنے والا مسیحابھی مل گیاہے ۔وہ اپنے باپ کے گندے سائے سے بھی بچارہے گا ۔

انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ،زندگی اپنے فیصلے خود کرتی ہے اور اپنے راستے میں آنے والوں کو کچل کررکھ دیتی ہے ۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جب میں نے دس سیپارے حفظ کرلئے تو ایک دن عبداللہ مجھ سے بگڑ کر بولا ’’ تم بڑے منافق ہو بابر ‘‘

میں اس وقت تک منافق کا مطلب جان چکا تھا ،اس لئے ذرا برا لگا ،یہ گالی کی طرح میرے دل پر لگا ’’ میں نے تجھ سے کون سی منافقت کی ہے ‘‘ جواب میں میرا لہجہ تلخ تھا ۔

’’ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے کہ میں تو تجھے اپنے دادا کی قبر پر بھی لے گیا اور تمہیں وہاں بیٹھا کر وہ عمل بھی کرادیا ہے جو شاید ہی کسی انسان کو کرایاجاتا ہے لیکن تم نے آج تک مجھے اپنے والد اور گرو سے نہیں ملوایا ‘‘ 

میں حیران ہوکر اسکا منہ تکنے لگا ’’ ان سے مل کر تم کیا کرنا چاہتے ہو؟‘‘ 

’’ یار میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ عمل شمل کیسے کرتے ہیں،ان کے طور طریقے کیا ہیں ۔ ‘‘ 

میں سوچ میں پڑگیا ۔دماغ میں کہیں گہرائی میں تحت الاشعور میں کوئی گندہ کیڑا ہلکے سے رینگنتا ہوا محسوس ہوا ،لگا کہ جیسے کوئی بھولی ہوئی بات یاد کرانے کے لئے میری یادوں کو ڈنک ماررہا ہے اور میری یادوں کو اچھالنا چاہتا ہے۔میں نے اسکی جانب دیکھا اور کہا’’ میں تو ان لوگوں کو جیسے بھول ہی گیا تھا عبداللہ ،میری ماں کیا چاہتی ہے اور میں کیا تھا ۔یہ تم سے چھپا ہوا نہیں ہے ۔مرا دل بھی اپنے باپ کو ملنے کو ترستا ہے لیکن اب تک کوئی ایک ایسا احساس مجھ پر غالب رہا ہے کہ میں انہیں دوسرے ہی لمحے بھول جاتا ہوں ۔تم نے یاد کراکے میرے اندر کا بابر جگانے کی کوشش کی ہے ۔لیکن اچھا ہوگا کہ یہ سویا مرا پڑا رہے ۔میں اپنی ماں کو دکھ نہیں دینا چاہتا اور نہ ہی ۔۔۔‘‘ اس وقت اتفاق سے زلیخا اپنے سر پر دوپٹے کا سکارف بنائے ہوئے ہم دونوں کی طرف آگئی تو میں خاموش ہوگیا ،اسکو دیکھتے ہی مجھے جیسے سکون اور قرار سا آگیا ۔

’’ چل بھاگ جا تو اس وقت کیوں آگئی ہے ‘‘ عبداللہ نے محبت بھرے انداز میں اسکو جھڑکا تو وہ بولی ’’ عبداللہ بھائی میں تو یہ کہنے آئی تھی کہ مجھے بازار سے مہندی لا دو،امی نے بولا ہے کہ لڑکیوں کو مہندی لگانی چاہئے ‘‘ 

زلیخا کی معصومانہ بات سن کر عبداللہ ہنس پڑا’’ اچھا اچھا لا دیتا ہوں،ابھی بڑی عمر پڑی ہے تیری۔ مہندی لگانے کے چاو بھی پورے کریں گے تیرے۔ لیکن ابھی تو رفو چکر ہوجا ‘‘ 

زلیخا کے آنے سے میرے خیالات یکدم بدل گئے تھے اور ان کا محور یہ مسجد ،مینار ،مکتب اور اس میں حافظ صاحب کا چھوٹا سا حجرہ نما گھر عود آیا ۔میں ابھی خیالوں میں تھا کہ عبداللہ نے ٹہوکا دیا ’’ ہاں تو بول کب لیکر جارہا ہے ‘‘ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور کہا ’’ یارمیں تو نہیں جانا چاہتا ‘‘ میں اندر سے اب گھبرا گیا تھا ۔کوئی اندیشہ تھا کہ اگر وہاں گیا تو کہیں واپس آنے کے قابل ہی نہ رہوں ۔پہلی بار میرے اندر یہ لطیف سا خوف پیدا ہواتھا ۔مگر عبداللہ تو جیسے میرے پیچھے ہی پڑگیا ۔ ایک دن اس نے حد ہی کردی اور مجھ سے ناراض ہوگیا ۔اب حالات ایسے تھے کہ میں عبداللہ کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا،وہ میرا غم ساز تھا لیکن وہ اپنی غرض میں اندھا ہوگیا تھا ۔

اس دن اتوار کا دن تھا ۔’’ چل تو بھی کیا یاد کرے گا ‘‘ میں نے ہار مان لی اور پھر یہ ہار میری زندگی کا روگ بن گئی،پھر کبھی نہ جیتنے کے لئے میں کالی دنیا کی مجبوریوں کے سامنے ہارتا ہی چلا گیا ۔میں اسے لیکر گھر نہیں گیا بلکہ سیدھا پتا گرو کے استھان نما قبرستان کی طرف نکل پڑا ۔راستہ بھر مجھے گھبراہٹ ہوتی رہی ،اگر میں اکیلا ہوتا تو شاید واپس لوٹ جاتا لیکن عبداللہ نے میرا ہاتھ تھام رکھا تھا اور وہ مجھے اپنی باتوں میں لگا کر من سے میراخوف نکالتا رہا ،نور اور اجالے کی دنیا سے نکال کو وہ مجھے کالی گمراہ دنیا کی طرف لئے چلا جارہاتھا ۔یہ کتنی بھیانک سچائی ہے کہ عبداللہ نے قرآن بھی حفظ کیا ،اسلامی تعلیمات بھی حاصل کرلیں مگر وہ ہر طرح کے مخفی اور شیطانی علوم کی جانکاری لینے کے لئے دیوانہ ہوگیا تھا ،انسان کو کبھی دو کشتیوں کا سوار نہیں ہونا چاہئے۔اسکی دیوانگی نے ہی مجھے بھی پھر دیوانہ اور ببر بنا دیا تھا ۔اس وقت اتفاق سے پتا گرو اپنی کٹھیا میں موجود تھا ،مجھے دیکھتے ہی اس نے تو جیسے چنگاڑ سی ماری تھی ،وہ ہڑبڑاکر اٹھا اور مجھے اپنے سینے سے لگا کر چیخ چیخ کر رونے لگا اور بار بار کہے جاتا ’’ او میری دیوی ماتا آج میں تجھ سے کچھ اور بھی مانگتا تو مجھے وہ بھی تو سوئیکار کردیتی‘‘اس نے ایک چیلے کو آواز دی اور کہا ’’ جا جا اسکے گرو کو بلا کر لا اور اسے بول کہ تیرا ببر آگیا ہے ‘‘ پتا گرو کی دیوانگی کا یہ عالم دیکھ کر عبداللہ بڑا خوش ہورہا تھا جبکہ پتا گرو نے اسے بالکل ہی نطر انداز کیا ہوا تھا ۔اس نے عبداللہ کی موجودگی کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیا تھا ،بس مجھے کسی دیوانے کی طرح اپنے سے لپٹاتا اور میرا منہ چومنے لگتا ۔سچ تو یہ ہے کہ اس کے گلے لگ کر مجھے انتہائی بدبودار سی ہمک آنے لگی تھی۔ 

(جاری ہے )

مزید : کتابیں /جناتی