اردوئے محلہ کی نئی لغت

اردوئے محلہ کی نئی لغت
 اردوئے محلہ کی نئی لغت

  

عہد ساز شاعر، شاعرِ انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کا کہنا تھا ’’شاعر لغت بناتا ہے، لغت شاعر نہیں بناتی‘‘، چنانچہ انہوں نے اپنی شاعری اور نثر میں نئے سے نئے الفاظ و محاورے اردو زبان و ادب کو دیئے ’’یادوں کی برات‘‘ ان کی انتہائی جرات مندانہ نثری آپ بیتی، جگ بیتی، سرگزشت ہے جو متنازعہ ہونے کے باوجود اس لحاظ سے بھی ناقابلِ فراموش ہے کہ اس ایک کتاب سے اردو اور خصوصاً صحیح اردو کے استعمال کا سلیقہ آ سکتا ہے۔

محاوروں، تلمیحوں، استعاروں سے اپنی زبان دانی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو خیر جملہ ء معترضہ سمجھئے یا آج کے کالم کا ابتدائیہ سمجھ لیجئے۔ آمدم برسرِ مطلب!

آج کل نئی سے نئی لغات زیرِ ترتیب زیر تکمیل ہیں، لہٰذا پرنٹ میڈیا یعنی کتب و رسائل و جرائد اور اخبارات کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا یعنی ریڈیو ٹی وی کے مختلف چینلز اردو کی جوٹانگ توڑ رہے ہیں اور اپنی نئی لغت ایجاد فرما رہے ہیں، مُشتے نمونہ از خِروارے کچھ مثالیں دیکھئے، پڑھیئے اور کالم سے لطف اندوز ہویئے اور بس! ہماری اکثر تحریروں کو تفنن طبع کے لئے ہی پڑھا جاتا ہے۔ بین السطور دکھ کو محسوس نہیں کیا جاتا۔ ہم آج ان سنہری حروف پر عمل پیرا ہیں کہ ’’اب اس ملک میں اُردوئے محلہ ہی چلے گی، اردوئے معلی نہیں‘‘۔۔۔ بہرحال بقول جگر مراد آبادی:

ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

’’فریقین‘‘ کے لئے ’’دونوں فریقین‘‘ کا مستقل استعمال۔۔۔ جزئیات کو ’’جزیات‘‘ پڑھا جانا۔ بیڑا (بی ڑا) اٹھانا کو ’’بیڑہ اٹھانا‘‘۔۔۔ خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’’بیڑہ‘‘ اور بِیڑا‘‘ کا واضح فرق سمجھانے کو عرض کرتا چلوں کہ ’’بیڑہ‘‘ کشتی کو کہتے ہیں ’’بیڑہ‘‘ سمندر کے ساحل پر لنگرانداز ہوتا ہے، بحری بیڑہ وغیرہ۔

بیڑا ’’بی ڑا‘‘ پان کی گلوری کو کہتے ہیں لاہور میں مولا بخش پان والے کا ’’بِیڑا‘‘ مشہور و مقبول تھا کہ کھانے والے کے منہ میں خود بڑے پیار پریم سے ’’بی ڑا‘‘ بنا کر ڈالتے تھے، لکھنو میں یہ رسم و رواج کا حصہ تھا جب کوئی کسی مہم جوئی کے لئے جاتا یا کسی کام کو کرنے کا عزمِ بالجزم کرتا، وہ منت کے طور پر ’’بی ڑا‘‘ اٹھاتا تھا اور جب تک وہ کام پورا نہ کر لیتا یا مہم سر نہ کر لیتا تو یہ مَنّت اس پر قرض اور فرض رہتی۔۔۔ بہرحال ’’بی ڑا‘‘ اور ’’بیڑہ‘‘فرق کو ملحوظ رکھنے سے ’’اردوئے محلیٰ ٰ‘‘، ’’اردوئے معلی‘‘ کی پھبتی کی ضرورت نہیں، صحیح اردو کا استعمال ہر ایک پر لازم ہے۔

اسی لئے اردو بطور قومی زبان نافذ کرنے کے لئے ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ کا قیام عمل میں آیا تھا اور جب مقتدرہ نے اپنے مشکل نام کو پذیرائی نہ ملنے کے باوجود اردو کو دفاتر میں بطور قومی زبان نافذ کرنے کے لئے اصطلاحات و اصلاحات اور ترجمے کا کام مکمل کر لیا تھا، مگر مقتدر قوتوں نے اردو کو ابھی تک نافذ نہیں ہونے دیا۔

بیورو کریسی کا رویہ یہ رہا ہے کہ مقتدرہ قومی زبان والے تنخواہیں لیتے رہیں اور منہ بند رکھیں، چنانچہ تیسری بار مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین مقرر ہو کر افتخار عارف نے ادارے کا نام ہی بدل دیا ہے اور مقتدرہ قومی زبان یعنی لینگویج اتھارٹی کو ’’ادارۂ فروغِ زبانِ اردو‘‘ میں بدل دیا ہے اب یہ ان کا فرض ہے کہ اردو کا نفاذ نہیں ہو سکا تو کم از کم پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر زبان درست کرائیں۔

اب تو عالم یہ ہے ’’تقریب کا آغاز، شروع ہونے والا ہے‘‘ جیسے جملے اینکر پرسن حضرات وخواتین کا معمول بن چکے ہیں۔ ’’سال ہا سال‘‘ کے بجائے ’’برس ہا برس‘‘ کا استعمال۔

حالانکہ برس ہندی کا لفظ ہے اور ’’ہا‘‘ فارسی کا۔ ہندی، فارسی کی ترکیب کسی طور جائز نہیں۔ ’’برس ہا برس‘‘ غلط اور ’’سال ہا سال‘‘ صحیح ہے۔ اسی طرح ’’عوام‘‘ نجانے کیوں اور کیسے ، مونث بنا دیا گیا، اگرچہ یہ حقیقت ہے مستقل ظلم و جبر سہ سہ کر عوام مونث ہی ہو چکے ہیں مگر تمام اردو لغات کے بموجب ’’عوام‘مذکر ہیں۔ اب یہ کہنا کہ ’’ہماری عوام یہ بھی چاہتی ہے کہ قانون کی عملداری ہو‘‘۔۔۔یہاں عوام یہ بھی چاہتے ہیں کا مَردانہ اظہار جرات ہونا چاہیے۔

’’چپقلش‘‘ کو ’’چپل قش‘‘ کہا جاتا ہے جو سراسر غلط تلفظ ہے۔۔۔!

ایک مشہور نیوز چینل ’’اے آر وائی‘‘ کے خبرنامے میں 30دسمبر2017ء پونے نو بجے شب سننے کو ملا کہ:

گُل ہائے عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئے۔جبکہ ’’گلہائے عقیدت‘‘ میں گُل کی صورت میں پھول شامل ہیں یہ تو ’’سنلائٹ سوپ صابن ‘‘ یا ’’مال روڈ کی ٹھنڈی سڑک‘‘، ’’برلبِ سڑک کے کنارے‘‘۔۔۔ اور ’’استفادہ حاصل کرنا‘‘ جیسی اردو اگر اردوئے محلےٰ کے طور پر رائج و نافذ کرنی ہے تو اردو کا اللہ ہی حافظ ہے۔’’وتیرہ‘‘ کو وطیرہ (ط سے) لکھنا۔

نسل کُشی کو ’’نسل کَشی‘‘ بنانا، اور ’’اقامہ‘‘ کے معنی ویزا اور ’’بادی النظر‘‘ کے معنی ’’میرے خیال میں‘‘ جیسے معنی و مفہوم نئی زیر ترتیب و زیرِ تکمیل لغت کا حصہ ہی بن سکتے ہیں، وگرنہ تو حقیقتِ مُبرم بقول نواب مرزا داغ دہلوی یہی ہے کہ:

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو!

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

اور اگر خُودستائی پر محمول نہ کیا جائے تو ایک دو SMS کا ذکر کرتا چلوں صدرِ شعبہِء اُردو منہاج یونیورسٹی لاہور جناب پروفیسر مختار عزمی نے گزشتہ کالم ’’بادِ شمال‘‘ پڑھ کر چند حرفی پیغام میں ایس ایم ایس کے ذریعے لکھا: ’’اردو ادب کی چلتی پھرتی تاریخ۔ ناصر زیدی‘‘ جبکہ سکواڈرن لیڈر (ر) فیروز ناطق خسرو نے کراچی 26دسمبر2017ء کو ایس ایم ایس کے ذریعے یوں اظہار خیال کیا۔

محترم ناصر زیدی ان صحت مند ادبی رویوں کے امین ہیں جو اب عنقا ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جب آپ اپنی کوئی تخلیق مدیر کو ارسال کرتے اور کو اس کی وصولی کی رسید آپ کو چند روز میں موصول ہو جاتی۔ کچھ عرصے بعد اس کی اشاعت یا ناقابلِ اشاعت ہونے کی اطلاع مل جاتی، پھر وہ ادبی پرچہ وصول ہوتا جس میں محرر کی تحریر شامل ہوتی۔

مَیں نے اپنے دورِ طالب علمی میں مختلف ادبی پرچوں کو اپنی غزلیں / نظمیں کہانیاں بھیجیں جیسے محترم سلمان الارشد(الشجاع کراچی) بھائی ناصر زیدی(ادب لطیف) محترم جون ایلیا بھائی (عالمی ڈائجسٹ) یا ڈاکٹر انور سدید (اردو زبان) بھائی نسیم درانی (سیپ) سیف زلفی وغیرہ کے خطوط آج بھی میرا اثاثہ ہیں‘‘۔

آخر میں ایک غلط بخشی کی طرف توجہ دلا دوں! ایک اشتہار میں ’’بحریہ ٹاؤن‘‘ کے فضائل بیان کرتے ہوئے اشتہار کے کاپی رائٹر نے آخر میں یُوں خامہ فرسائی کی ہے:

جہاں خوابوں کی تعبیر ہوتی ہے زندگی کی

تکمیل ہوتی ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

یہ نثری ٹکڑا دیکھ کر، پڑھ کر، سن کر ایک مشہور زمانہ شعر کی طرف دھیان گیا جو ایک زمانے میں پسرور کے در و دیوار اور خصوصاً سکولوں کی عمارت کے باہر درج ہوتا تھا یہ شعر تھا مضطر نظامی (پسروری) کا:

ایک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں

مزید : رائے /کالم