کراچی کیلئے 500ارب کے پیکیج کا اعلان کیا جائے :حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی کیلئے 500ارب کے پیکیج کا اعلان کیا جائے :حافظ نعیم الرحمٰن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے لیے 500ارب روپے کے تین سالہ پیکج ، تمام شعبوں کے لیے جامع اور واضح عملدرآمد منصوبے کا وقت اور بجٹ کے تعین کے ساتھ اعلان کیا جائے ۔K4منصوبہ ، S-3گرین لائین منصوبے فی الفور مکمل کیے جائیں اور ماس ٹرانزٹ پروگرام اور سرکلر ریلوے کے پروجیکٹ پر فوری کام شروع کیا جائے ،کراچی کے پانی کے کوٹے میں اضافہ کیا جائے اس کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت اپنا کردار اد اکریں،نادرا کی جانب سے عوام سے غیر ضروری اور قدیم دستاویزات طلب کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔بنگالیوں اور افغانیوں کو شناختی کارڈ کی فراہمی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والے بہاریوں کو بھی شناختی کارڈ فراہم کیے جائیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی ہم مذمت کرتے ہیں ، اس فیصلے کو ہرگز واپس نہیں لیا جانا چاہیئے ۔اس حوالے سے فوری طور پر قانون سازی کی جائے ۔کراچی کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا شکار ہیں ان کو اپ گریڈ کر کے گرانٹ فراہم کی جائے اور وفاقی حکومت بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے ،صفائی ستھرائی ، سڑکوں ، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے لیے طویل المدتی اور قلیل المدتی منصوبوں کا اعلان کیا جائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر کراچی برجیس احمد ، سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، ڈپٹی سکریٹری کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ، حافظ عبد الواحد شیخ ،ضلع جنوبی کے امیر و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، راجہ عارف سلطان اور دیگر بھی موجود تھے ۔ پریس کانفرنس میں نادرا کے مسائل اور شناختی کارڈز کے حوالے سے بنگلہ ، برمی ، پختون اور بہاری کمیونٹی کے افراد بھی شریک تھے جنہوں نے نادرا کے حوالے سے جماعت اسلامی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو کراچی آمد کے موقع پر ان کی ٹیم کی جانب سے مؤثر بریفنگ نہیں دی گئی اور نہ کوئی ورکنگ کی گئی جس کی وجہ سے عمران خان کراچی کے لیے واضح لائحہ عمل اور منصوبوں کا اعلان نہیں کرسکے ۔عمران خان صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی دفعہ کراچی تشریف لائے تو کراچی کے عوام کو ان سے بجا طور پر توقع تھی کہ وہ کراچی کی ترقی کے لیے بڑے اور جامع منصوبوں کا اعلان کریں گے لیکن پھر بھی ہم وزیر اعظم کی جانب سے کراچی میں کچھ شعبوں میں بہتری لانے کے اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ان منصوبوں پر عمل در آمد کے لیے کسی بھی واضح پروگرام کا اعلان نہ ہو نا تشویش کا باعث ہے ۔ وزیر اعظم سے کراچی کے عوام کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور کراچی کے 21میں سے 18ارکان قومی اسمبلی کی وفاقی حکومت سے وابستگی کی وجہ سے ان امیدوں کو مزید بڑھا دیا ہے ۔ عوام اس بات کی توقع رکھتے تھے کہ عمران خان کراچی آمد پر ایک جامع پیکیج اور اس پر عمل درآمد کے لیے واضح پروگرام اور وقت کے تعین کا اعلان کریں گے تاہم عمومی نوعیت کے اعلانات سے بات آگے نہیں بڑھ سکی ہے ۔انہوں نے کہاکہ عوام کو امید تھی کہ عمران خان کے الیکٹرک مافیا کے خلاف واضح اقدامات کا اعلان کریں گے ۔ جو ایک جانب عوام کو بری طرح لوٹ رہی ہے تو دوسری جانب اس کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات ہو رہے ہیں اور اب لوڈشیڈنگ بھی 12گھنٹوں تک جا پہنچی ہے ۔ کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور اس کی نگرانی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ کے ۔الیکٹرک کے معاملات پر گرفت کی جائے ۔لوٹ ماراور لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے ۔کے ۔الیکٹرک اپنی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہلاکتوں اور زخمی افرا دکے لیے کم از کم 5کروڑ روپے فی فرد ادا کرے ، اس کی FIRکے ۔ الیکٹرک کی اعلیٰ انتظامیہ کے خلاف درج ہونی چاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے پختون، بہاری اور بنگالی زبون بولنے والوں کو شہریت دلانے کے لیے جدوجہد کی اسی سلسلے میں جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات پر نادرا نے ایس اوپی 4.02منظور کیا گیا ہے اب اس کے مطابق ان تمام لوگوں کو شناختی کارڈ کا اجراء کیا جائے اور شناخت کے لیے کاغذات مانگنے کا سلسلہ بند کیا جائے ،محصور پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات کیے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں زیر تعمیر گرین لائین منصوبہ صرف 5فیصد ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرسکے گا جو تاحال تاخیر کا شکار ہے ۔کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے ماس ٹرانزٹ سسٹم اور سرکلر ریلوے کے منصوبے کو شروع کیا جائے ۔پی ٹی آئی کی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی بات نہ آنا افسوس ناک ہے ۔انہو ں نے کہاکہ کراچی میں اس وقت امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی ہے ۔ سڑکوں ، گھروں اور دفتروں میں ڈکیتی کی وارداتیں بہت بڑھ چکی ہیں ۔ بچوں کے اغواء کے واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے لگتا ہے کہ مجرم شہر میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جب وہ از خود وارداتیں کم کر دیتے ہیں تو حکومت کی جانب سے جرائم کے خاتمہ کا ڈھول پیٹنا شروع ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جرائم پیشہ افراد کے سر پرست حکومت میں شامل ہوں جن کی وجہ سے ان عناصر کو چھوٹ مل گئی ہو ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر