جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 09

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی ...
جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 09

  

7فروری کو ماڈل ٹاؤن میں ذوالفقار کھوسہ، سعد رفیق، تہمینہ دولتانہ سمیت متعدد افراد سے میں نے ملاقات کی اور مختلف امور پر نواز شریف صاحب کا پیغام ان تک پہنچایا۔ 9 فروری کو کراچی میں مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بھی تھا جس میں ان ارکان نے میری موجودگی کو بہت ضروری قرار دیا مگر لاہور کے اجلاس کی سردمہری اور بات بے بات مخالفت کے سبب میں نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کررکھا تھا مگر ان احباب اور بھائی سرانجام خان کے اصرار پر میں نے کراچی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے بھائی سرانجام کو کہا کہ ان تمام کو بتادیجئے کہ نہ تو میں پارٹی صدارت کی خواہش رکھتی ہوں اور نہ ہی پارٹی پر کوئی اجارہ داری ہمیں درکار ہے۔ آج بھی پاکستان کی غالب اکثریت نواز شریف کے ساتھ ہے۔ میں ان کا صرف پیغام لے کر آرہی ہوں۔ سرانجام خان نے جواب میں کہا’’ بیگم صاحبہ! ہمارا فرض اذان دینا ہے کوئی جماعت میں شامل ہو نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ آپ ضرور تشریف لائیے گا تاکہ ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔‘‘

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 08پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چنانچہ 9 فروری کو میں مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے کراچی پہنچی۔ دوران اجلاس جب مجھے گفتگو کرنے کے لئے کہا گیا تو میں نے چند منٹ کی گفتگو کی اور نواز شریف صاحب کا یہ پیغام پہنچایا کہ آگے بڑھیں اور جہدوجہد کریں۔ اس اجلاس میں ہی فیصلہ کیا گیا کہ GDA سے آئین اور جمہوریت کی بالادستی اور بحالی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنانے کے لئے رابطہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی کے جلد قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ GDA کا حصہ پی پی پی بھی تھی مگر اس وقت مجلس عاملہ کے اس فیصلہ پر کہ GDA سے آئین او رجمہوریت کی بحالی و بالا دستی کے لئے گفتگو کی جائے، کوئی اختلاف سامنے نہ آیا کیونکہ مسلم لیگ نے پہلے دن ہی اپنے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کرلیا تھا کہ ہم ہر اس قوت کو ساتھ لے کر چلیں گے جو کہ آئین اور جمہوریت کی بات کرے گی۔

دوسری طرف میاں اظہر، اعجاز الحق اور خورشید قصوری نے 11 فروری کو کھانے پر ملاقات کی۔ ان تمام ملاقاتوں اور اس کے بعد پیش کئے جانے والے تاثر کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ہم پرویز مشرف کی بی ٹیم بن سکتے ہیں اور مسلم لیگ میں آمریت کی حسب خواہش پھوٹ ڈالنے کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ ان میں اعجاز الحق کا کردار سب سے دلچسپ تھا بلکہ آج بھی ہے۔ وہ آمریت کی طرف سے ذرا سی آس دلانے پر قیادت کے نمبر ون مخالف ہوجاتے تھے مگر جب انہیں ٹھینگا دکھانے والے حالات پیدا ہونے لگتے تو وہ دوبارہ نواز شریف کی شان میں قصیدہ پڑھنا شروع کردیتے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا ہے کہ اعجاز الحق 12 اکتوبر کے فوراً بعد اچانک نواز شریف صاحب کے مخالف ہوگئے اور طرح طرح کے بار بار پینترے بدلتے رہے۔ مثلاً ادھر پارٹی قیادت کے خلاف بیانات دئیے اور اس کی تبدیلی کی خبریں دیں۔ پھر ذرا سی آمریت کی بے رخی کے بعد وہ اچانک ہمارے ہمدرد ہوجاتے۔ مثال کے طور پر انہوں نے 22 جنوری 2000ء کو ایک آن ریکارڈ بیان میں کہا کہ ’’25 اور 30 تاریخ کے پارٹی اجلاسوں میں پارٹی قیادت زیر بحث نہیں ہوگی کیونکہ نواز شریف کی موجودگی میں اس سلسلے میں بحث کی کو ئی ضرورت نہیں۔ نواز شریف نے مسلم لیگ کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ ان کی کوششوں سے آج مسلم لیگ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ مسلم لیگ اپنے قائد کو تمام من گھڑت کیسوں سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی کیونکہ مسلم لیگی قائدین کا تحفظ دراصل پاکستان کا تحفظ ہے۔‘‘

پھر وہ چند دن بعد ہی دوبارہ قیادت کی تبدیلی کی باتیں کرنے لگے۔

ان کی قیادت کی تبدیلی کی باتیں دراصل اس سہانے خواب کی وجہ سے تھیں جو ان کو دکھایا گیا تھا کہ آپ کو اقتدار سونپ دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے اپنی تمام تر خدمات کے ساتھ پھر آمریت کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔ 17 فروری کو انہوں نے مشرف کے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کے پیکج کی بات کی کہ پارلیمنٹ اپنی پامالی پر مہر تصدیق ثبت کردے پھر چند دن پہلے تک نواز شریف کے دفاع کو پاکستان کا دفاع قرار دینے والے اعجاز الحق نے اپنا نیا انکشاف سنایا کہ ’’قوم صرف نواز شریف کی کوتاہیوں کی سزا بھگت رہی ہے‘‘ بہ الفاظ دیگر انہوں نے یہ تسلیم کرلیا کہ مشرف کا اقتدار قوم کے لئے سزا ہے مگر یہ اور بات ہے کہ اس کا سبب نواز شریف نہیں بلکہ بعض اقتدار پرست افراد ہیں جنہوں نے آج بھی اپنا مفاد آمریت میں تلاش کررکھا ہے۔

جہاں میں بدستور پارٹی کے مختلف عہدیداروں کو قیادت کے پیغامات اور خیالات سے آگاہ کررہی تھی وہیں پر میرا ذہن یوتھ ونگ کے ایک باقاعدہ اجلاس کے انعقاد کی جانب بھی تھا۔ چنانچہ 21 فروری کو مسلم لیگ ہاؤس میں یوتھ ونگ کے اجلاس میں شرکت کی اور ان کے سامنے میاں صاحب کا ماضی الضمیر پیش کیا تاکہ قوم کے یہ بچے جان سکیں کہ موجودہ حالات میں بھی قیادت اصولوں پر کسی تجارت کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس سے اگلے دن مسلم لیگ ہاؤس میں ہی صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان کا ایک اجلاس ہوا، جس میں تمام ارکان تو نہ آئے مگر آنے والے اکثر افراد کی زبان پر یہ الفاظ ضرور موجود تھے کہ اگر میاں صاحب حکم دیں تو ہم فوراً احتجاجی تحریک کا آغاز کردیں مگر میاں صاحب کی یہ ہدایت تھی کہ چاہے حالات بدتر سے بدترین کیوں نہ ہوجائیں مگر ہمیں ریاستی اداروں اور غاصبوں کے درمیان حد فاصل کا خیال رکھنا ہے اور ہمارا ٹکراؤ غاصبوں سے ہے ریاستی اداروں سے نہیں۔

پرویزی آمریت کی دھونس دھاندلی اور دھمکیوں کی وجہ سے فروری کے آخر میں نواز شریف صاحب کے وکلاء نے مقدمے کی پیروی سے انکار کردیا اور دستبردار ہوگئے۔ یہ حالات حکومتی پالیسیوں کے سبب غیر متوقع تو نہیں تھے مگر پھر بھی ہمارے پاس فوراً اس کا کوئی متبادل بھی نہ تھا۔ چنانچہ میاں صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ازخود ہی عدالت کا سامنا کریں گے مگر دوسری طرف اپنے وکلاء کو بھی پیروی پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ دو تین دن کے بعد سوائے ایک وکیل کے باقی نے کیس کی پیروی پر آمادگی کا اظہار کردیا جو ایک خوش آئندہ فیصلہ تھا۔

مگر اس فیصلے کی اقبال رعد (شہید) کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ وہ روز اوّل سے میاں صاحب کی پیروی کرنے والوں کے سرخیل تھے اور نہایت قابل شخص بھی تھے ان کو مارچ کے دوسرے ہفتے میں ان کے دفتر میں گھس کر شہید کردیا گیا۔ رعد صاحب کی شہادت نے وکلاء کے، عدالتی کارروائی کے علاوہ اپنی سلامتی کے حوالے سے شکوک و شبہات کو نہ صرف ثابت کردیا بلکہ اس کے بعد ان افراد نے ازسرنو فیصلہ کیا کہ وہ کراچی میں سلامتی کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر عدالتی کارروائی میں حصۃ نہیں لیں گے۔ بہرحال بعد میں یہ معاملہ بھی حل ہوگیا۔

16 مارچ کو پشاور میں ظفر اقبال جھگڑا صاحب کی رہائش گاہ پر سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مَیں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا اہم ترین ایجنڈا جمہوری جدوجہد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا اور دستوری بالادستی کو ملک پر قائم کرنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ایک سات رکنی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تاکہ دیگر سیاسی طاقتوں سے فی الفور گفتگو کا آگاز کیا جائے۔ سات رکنی کمیٹی میں اس بات سے ماورا ہوکر رکنیت دی گئی کہ کون حکومتی صفوں میں جانے کے لئے بے چین ہے اور کون قافلہ جمہوریت کا رکن رہنا چاہتا ہے تاکہ کسی طرف سے یہ الزام عائد نہ کیا جاسکے کہ ہم کو اس سارے عمل سے علیحدہ کرکے عملاً لاتعلق کردیا گیا تھا اور ہم مجبوراً قیادت کے خلاف ہوگئے۔ چنانچہ کمیٹی میں خورشید قصوری، گوہر ایوب، اسد جونیجو اور حسین بنگش بنگلزئی کو مسلم لیگ سے جب کہ حلیف جماعتوں سے ساجد میر، حاصل بزنجو اور صاحبزادہ فضل کریم کو نمائندگی دی گئی اور ان افرادکو فوراً رابطوں کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کے بعد راجہ ظفر الحق نے اخباری نمائندوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قیادت کے معاملہ پر صرف ایک ہی بات ہوئی ہے کہ نواز شریف ہمارے قائد ہیں۔(جاری ہے)

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /جبر اور جمہوریت