’میری 5 ماہ قبل شادی ہوئی تھی، لیکن میری بیگم اب میری ہی بہن کے ساتھ۔۔۔‘ دولہے نے پولیس کو ایسی شرمناک ترین درخواست جمع کروادی کہ دیکھ کر پولیس والوں کے بھی گال لال ہوگئے

’میری 5 ماہ قبل شادی ہوئی تھی، لیکن میری بیگم اب میری ہی بہن کے ساتھ۔۔۔‘ ...
’میری 5 ماہ قبل شادی ہوئی تھی، لیکن میری بیگم اب میری ہی بہن کے ساتھ۔۔۔‘ دولہے نے پولیس کو ایسی شرمناک ترین درخواست جمع کروادی کہ دیکھ کر پولیس والوں کے بھی گال لال ہوگئے

  

کانپور(نیوز ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنسی پرستی کو قانونی قرار دے دیا ہے، اور لگتا ہے کہ اس ’تاریخی‘ فیصلے کے نتیجے میں بھارتی معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ کانپور شہر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی اپنی نئی نویلی دلہن کے خلاف پولیس کو شکایت بھارت میں رونما ہوتی اسی تبدیلی کی ایک واضح مثال کہی جا سکتی ہے۔ 

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نوجوان نے گزشتہ روز پولیس کے پاس شکایت درج کروائی ہے جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی اہلیہ نے اس کی بہن کے ساتھ ہم جنس پرستانہ تعلق استوار کرلیا ہے اور اب اُسے مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے۔ بدقسمت نوجوان کی شادی کو ابھی صرف پانچ ماہ ہوئے ہیں۔ 

درخواست گزار نوجوان نے اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ ’’جب سے میری بیوی نے میری بہن کے ساتھ ہم جنس پرستی کا تعلق قائم کیا ہے ہماری ازدواجی زندگی تباہ ہوکررہ گئی ہے۔ وہ میری غیر موجودگی میں کئی کئی گھنٹے کمرے میں بند رہتی ہیں، اور گزشتہ روز ہم نے انہیں رنگے ہاتھوں قابل اعتراض حالت میں پکڑا ہے۔ خاندان میں بھی لوگوں کو اس بات کا علم ہو چکا ہے اور اب تو ہمیں سماجی بائیکاٹ کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ 

ہماری سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ دونوں اب کھلے عام اپنی محبت کا اعتراف کرنے سے بھی ہچکچاتی نہیں ہیں۔ میں نے انہیں برا بھلا کہا لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا تعلق قانون کے دائرے میں ہے، تم نے جو کرنا ہے کر لو۔‘‘‘ 

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں مزید بتایا ہے کہ پہلے تو وہ یہی سمجھتا رہا کہ دونوں آپس میں سہیلیاں بن گئی ہیں لیکن اصل حقیقت سامنے آنے پر بیچارے زندگی ہی برباد ہوگئی ہے۔ نوجوان نے اپنی اہلیہ اور بہن کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن لگتا ہے کہ اب یہ اتنا آسان نہیں رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قانونی مشورہ لیا جائے گا اور پھر دیکھا جائے گا کہ کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔

مزید : بین الاقوامی