جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64

  

حسین آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ اچانک مجھے اپنی تذلیل یاد آگئی جسکی ذمہ دار صرف اور صرف بسنتی ہی تھی ۔میرا چہرہ تپ گیا۔ رگوں میں خون کی گردش تیز ہوگئی ۔میرا خیال درست تھا کالی داس کی اس سازش میں بسنتی پوری طرح شریک تھی۔

’’مجھ ابھاگن پرکس کارن خفا ہو مہاراج؟ میں نے تو کیول مہاراج کالی داس کی آگیا کاپالن کیا ہے‘‘ اسکی مدہر آوازآئی۔ میرے چہرے سے دلی کیفیات عیاں تھیں۔

’’بسنتی تم نے دھوکہ دیا ہے۔ رادھا تجھے کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘ میرا لہجہ خود بخود سرد ہوگیا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر63 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ْ

’’اب چھوڑو بھی پرانے جھگڑے فاروق خان! ہم متر بن چکے ہیں اور متروں کے واسطے من میں کرودھ رکھنا پاپ ہے‘‘ کالی داس کے ہونٹوں پردوستانہ مسکراہٹ تھی۔ لیکن مجھے اس خبیث کی کسی بات پر اعتبار نہ رہا تھا۔

’’یدی تمرا من صاف نہیں ہے تو میں جاتاہوں اسکے بعد تیرے سنگ جوہوگا وہ تو بھگت نہ پائے گا‘‘ایک بار پھر اس نے مجھے دھمکایا۔ دل تو چاہ رہا تھا ان دونوں کو جان سے مار دوں لیکن یہ میرے اختیارمیں نہ تھا۔

’’ٹھیک ہے وعدہ کرتا ہوں میں تمہاری بات مانوں گالیکن تم بھی یہ وعدہ کرو کہ مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دلاؤ گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہوناچاہئے کہ یہ سب کچھ کس طرح ممکن ہوگا۔ اور رادھاکے سلسلے میں میں تمہاری کیامددکر سکتاہوں؟‘‘ بالآخر میں نے کہا۔

’’تو بڑا بھاگی شالی ہے کالی داس نے تجھے اپنامترمان لیا ہے۔ اب دیکھنا کالی داس تجھے اس کشٹ سے کیسے نکالتاہے؟‘‘ اس کے لہجے میں تکبر بول رہاتھا۔

’’رہی بات رادھا کی ‘‘ کچھ دیر وہ پُر خیال نظروں سے میری طرف دیکھتا رہاپھر کہنے لگا’’جب رادھاجاپ سے واپس آکر تجھ سے شریر کاسمبندھ جوڑنے آئے تو تو کیول مجھے کھبر کردینا‘‘ اس نے بڑے آرام سے مجھے سمجھایا۔

’’لیکن میں تمہیں کیسے بتاؤں گا؟‘‘ میں نے وضاحت چاہی۔

’’سمے آنے پر میں تجھے سمجھا دوں گا۔ پرنتو اس سمے کیول اتنا جان لے جب رادھا تجھ سے شریرکا سمبندھ جوڑنے کو کہے تو تو کہنا آج نہیں کل۔ اس کے بعد تو میری آگیاکاپالن کرتے ہوئے مجھے کھبرکردینا۔ باقی میں کھد دیکھ لوں گا۔ ‘‘ اس نے اپنامدعا واضح کیا۔ اسکی بات سے میں یہ سمجھا کہ جب میں اور رادھا ملتے ہیں تو وہ کوئی ایسا بندوبست کرلیتی ہے جس سے کالی داس کو ہمارے ملنے کی خبر نہیں ہوسکتی۔

’’ٹھیک ہے کالی داس! میں تمہاری بات ماننے پر تیار ہوں‘‘ میں نے کہا۔ اس کے مکروہ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ اس دوران بسنتی بالکل خاموش کھڑی رہی ۔میری بات ختم ہونے پر اس نے کالی داس سے کہا۔

’’مہاراج مجھے جانے کی آگیا دو ۔میرے بھوجن کا سمے ہو رہا۔‘‘

’’ہاں تو جا۔۔۔جب تیری جرورت ہوگی میں بلا لوں گا‘‘ کالی داس نے لگاوٹ بھری نظروں سے بسنتی کو دیکھا۔

’’مہاراج ! اپنا وچن یاد رکھنا۔ یدی تم بھول گئے تو بسنتی بھی اپنے وچن سے پھر جائے گی‘‘ دوسرے ہی لمحے وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ اس کے جانے کے بعد کالی داس میری طرف متوجہ ہوا۔

’’تجھے کس بات کی چنتا ہے؟ میں نے جو کہہ دیا کہ اب ہم متر ہیں اور کالی داس کے متر کو کشٹ بھوگنا پڑے یہ اسمبھو(ناممکن) ہے جانتا ہوں اتنی جلدی تو مجھ پر وشواس نہ کرے گا۔ ٹھہر۔۔۔تجھے ایک اور چمتکار دکھاتا ہوں۔ پرنتو دھیان رہے کسی کے سامنے مجھے آواج نہ دینا۔‘‘

میں ابھی اس کی بات کا مطلب پوچھنے ہی والا تھا کہ باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے گھبرا کر کالی داس کی طرف دیکھا جو بڑے اطمینان سے اپنی جگہ نیم دراز تھا۔ کمرے میں یکدم اندھیرا چھا گیا۔

’’کمرے میں اندھیرا کیوں ہے؟‘ دروازے کے باہر سے آواز آئی۔

’’سر جی! شاید بلب فیوز ہوگیا ہے‘‘ جواب ملا۔ اس کے بعد تالا کھلنے کی آواز آئی۔

’’جا بھاگ کر ایمرجنسی لائٹ لے آ‘‘ پہلے والے نے کہا۔ تیز قدموں سے کسی کے جانے کی آواز آئی۔ اندھیرا اتنا بھی گہرا نہ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو۔ دروازے کے سامنے ایک درازقد شخص کا ہیولا دکھائی دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہی آدمی ہاتھ میں جلتی ہوئی ایمرجنسی لائٹ پکڑے آگیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور دونوں اندر آگئے۔ ایک نے وردی پہنی ہوئی تھی جبکہ ایمرجنسی لائٹ پکڑے ہوئے آدمی سادہ لباس میں تھا۔

’’سر جی! ذرا اسے پکڑیں میں بلب لگا دوں‘‘ سادہ لباس نے وردی والے سے کہا پھر بلب لگا کر لائٹ آن کر دی۔ کمرہ روشنی سے بھر گیا۔ وردی میں ملبوس شخص کے کندھے پر لگے سٹارز اسے انسپکٹر ظاہر کر رہے تھے جبکہ دوسرا شاید سپاہی تھا۔ انسپکٹر نے مجھے غور سے دیکھا۔

’’کھڑے ہو جاؤ‘‘ اس نے کہا۔ میں بمشکل اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے کالی داس کی طرف دیکھا وہ بڑے اطمینان سے نیم دراز تھا۔ مجھے اس کی ہدایت یاد تھی کسی کے سامنے میں اسے مخاطب نہ کروں۔ انسپکٹر میرا سر سے پاؤں تک جائزہ لے رہا تھا۔

’’مجھے یقین ہے کہ تم بے گناہ ہو۔ میں تو شکل سے مجرم کو پہچان لیتا ہوں‘‘ پھر سپاہی کی طرف مڑا۔

’’اسے کچھ کھانے کو بھی دیا ہے یا نہیں؟‘‘

’’سر جی! صاحب جی کا آرڈر تھا کہ اسے کچھ نہیں دینا‘‘ سپاہی نے کہا۔

’’وہ تو پاگل ہے اس کی نظر میں ہر شخص مجرم ہے ۔۔۔جاؤ اس کے لئے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ‘‘ اس نے ’’صاحب جی‘‘ کو برا بھلا کہتے ہوئے سپاہی کو حکم دیا۔ وہ فوراً باہر چلا گیا۔

’’میرا نام انسپکٹر عادل ہے۔ میری پولیس سروس کو پچیس سال ہوگئے ہیں۔ میں شکل سے ہی مجرم کو پہچان لیتا ہوں۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ تم مجرم نہیں لیکن یہ بات بھی میری سمجھ سے باہر ہے سب لوگ تمہارے خلاف کیوں ہیں؟کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟‘‘ اس نے بڑے مہذب انداز میں سوال کیا۔

’’اس سے کہہ تجھے کسی بات کی جانکاری نہیں۔ جی اچھا نہ ہونے کے کارن تو گھر پر تھا کچھ منش آئے۔ انہوں نے تیرے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور تجھے مار مار کر تیری یہ دشا بنا دی۔ اس کے بعد تجھے کچھ کھبر نہ رہی۔ جب ہوش آیا تو یہاں حوالات کے کمرے میں پڑا تھا‘‘ کالی داس نے کہا۔ میں نے چونک کر پہلے کالی داس پھر انسپکٹر کی طرف دیکھا۔ وہ کالی داس کے وجود سے بے خبر مجھے دیکھ رہا تھا ’’یہ مجھے نہیں دیکھ سکتا‘‘ کالی داس میری پریشانی بھانپ کر بولا۔ میں نے اس کی ہدایت کے مطابق تھانیدار کو وہی کہانی سنا دی۔

’’کون لوگ تھے اور انہیں تم سے کیا دشمنی ہے؟‘‘ میں نے پھر کالی داس کی طرف دیکھا۔

’’کچھ اپنی بدھی سے کام لے لے ‘‘ اس کی بیزار آواز آئی۔

’’یہ تم بار بار پیچھے کیوں دیکھنے لگتے ہو؟‘‘ تھانے دارنے نرمی سے پوچھا۔ وہ ایک سلجھا ہوا شخص تھا۔

’’میرے گھر کے سامنے ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات رہتا ہے ۔وہ اس گھر کو خریدنا چاہتا تھا لیکن پروفیسر صاحب جو اس مکان کے مالک ہیں انہوں نے مجھے کرایہ پر دے دیا ۔اس بات کا اسے بہت رنج ہے۔ اس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں یہاں زیادہ دیر تک ٹکنے نہیں دوں گا‘‘ میری جو سمجھ میں آیا میں نے کہہ دیا۔

’’ہوں۔۔۔یہ بات ہے جبھی وہ بڑھ بڑھ کربول رہا تھا‘‘ اس نے کہا۔

’’سامنے والی کوٹھی میں ساجد نامی ایک شخص رہتا ہے ۔وہ عمر حیات کا گہرا دوست ہے۔ اس نے بھی کئی بار مجھے دبی دبی زبان میں کہا تھا کہ میں یہ گھر چھوڑ دوں نہیں تو پچھتاؤں گا‘‘ میں نے اپنی بات میں اضافہ کیا۔ لاشعوری طور پر میں نے ساجد سے بدلہ لیا تھاکیونکہ مجھے مارنے والوں میں وہ پیش پیش تھا۔

’’ٹھیک ہے میں دیکھ لوں گا تم بالکل بے فکر ہو جاؤ ۔ابھی کرم دین کھانا لاتا ہے وہ کھا لو۔ چارپائی اور بسترمیں بجھوا دیتا ہوں آرام سے سو جاؤ کسی بات کی فکر نہ کرنا صبح عدالت سے ضمانت ہو جائے گی۔ اگرمیرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہیں ابھی گھر جانے کی اجازت دے دیتا لیکن تمہارے خلاف پرچہ کٹ چکا ہے تمہیں صبح میں خود عدالت میں لے کر جاؤں گا۔ کسی بات کی فکر نہ کرنا جس درندگی سے انہوں نے تمہیں مارا ہے اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے میں نے تمہاری مرہم پٹی نہیں کروائی کہ جج صاحب کے سامنے میں تمہیں اسی حالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں‘‘۔اس نے ملائمت سے مجھے سمجھایا۔

’’اچھا اب میں چلتا ہوں تم کسی بات کی فکر نہ کرنا میں تمہارا دفاع بھرپور طریقے سے کروں گا‘‘ اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گیا لیکن اس باراس نے دروازہ بند کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ابھی وہ گیا ہی تھا کہ سپاہی کرم دین میرے لئے کھانا لے آیا۔ کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو نے مجھے بھوک کا احساس دلایا۔صبح سے اب تک میں نے سوائے ایک جوس کے ڈبے کے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔

’’صاحب جی! پیٹ بھر کر کھاؤ اور کسی بات کی فکر نہ کرو ہمارا صاحب بہت اچھا آدمی ہے۔ وہ تمہاری مدد کرے گا‘‘ اس نے کھانا میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا اور باہر نکل گیا۔ جاتے ہوئے اس نے دروازہ بند تو کر دیا لیکن اس میں تالا نہیں لگایا۔

’’بھوجن کر لو پھر باتیں کریں گے‘‘ کالی داس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ کھانا دیکھ کر میں اس کی موجودگی کو فراموش کر بیٹھا تھا۔

’’آجاؤ تم بھی کھا لو‘‘ میں نے اسے دعوت دی۔ اس میں وقت اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر اسکی ہر بات ماننے کے لئے تیار تھا اور اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا تھا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا