’’تاریخ طب عہد بہ عہد‘‘

’’تاریخ طب عہد بہ عہد‘‘
 ’’تاریخ طب عہد بہ عہد‘‘

  


نام کتاب: تاریخ طب عہد بہ عہد

تصنیف: ڈاکٹر زاہد اشرف (تمغہ امتیاز)

ناشر: اشرف اکادمی، سرگودھا روڈ، فیصل آباد

صفحات: 272

دنیا میں جتنے علوم معرض وجود میں آئے ان کا افشا مفاجأۃً یعنی ایک دم نہیں ہوا بلکہ ان علوم کا وجود آہستہ آہستہ عمل میں آیا، پھر ان علوم نے ترقی کی منازل بھی تدریجاً ہی طے کیں۔ یہ کیفیت سائنسی علوم میں زیادہ نظر آتی ہے۔

صحت اور بیماری کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا انسان کا ماضی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیماری کو بھی پیدا کیا۔ بیماری کے ساتھ اس کی دوا بھی پیدا کی۔ اسی لیے یہ قول مشہور ہے: ’’لکل داءٍ دواء‘‘اس مقولے کی صداقت قرآن کا یہ فرمان بھی مضبوط دلیل ہے۔ فرمایا:

’’وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْر‘‘(الفجر3/89:)

قسم ہے اس بات کی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کاجوڑا پیدا کیا۔

یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ پہلی مرتبہ کون سا انسان کب اور کہاں بیمار ہوا؟ البتہ قرآن مجید میں بیماری اور شفا کے حوالے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ملتا ہے۔ آپ نے فرمایا:

’’وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ‘‘(الشعراء:80/26)

’’جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو اللہ مجھے شفا عطا کر دیتا ہے۔‘‘

کسی بھی بیماری کا علاج اللہ نے کہاں رکھا ہے اور کیا ہے اس بات کا کھوج لگانا انسان کی ذمہ داری ہے۔ یہ کھوج علم، جہد مسلسل، تجربہ اور علم کیمیا میں مہارت کا رہین منت ہے۔

اس حوالے سے مسلمان سائنس دان فوقیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس پر فخر بھی ہے اور فخر بجا ہے کہ مسلمانوں کو اعتقادی طور پر اس بات کا علم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج کسی نہ کسی جگہ ضرور رکھا ہوا ہے، صرف تلاش باقی ہے۔

مسلم سائنس دانوں نے اشیاء کا علم اور خواص تلاش کرنے میں زندگیاں صرف کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں عظیم سے عظیم سائنس دان دانشور پیدا ہوئے اور طب کے میدان میں انسانیت کی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

اس ضمن میں ابن الھیثم الکندی، فارابی وغیرہ معروف نام ہیں۔

عجیب بات ہے کہ بعض کم علم لوگ سائنسی کارناموں کا سہرا یورپ کے سر باندھتے ہیں حالانکہ یورپ کے پاس سائنسی معلومات مسلمانوں ہی کا مسروقہ مال ہے۔

یورپ تو سترھویں صدی تک اندھیروں کا مکین تھا۔اس کے بعد سائنسی سرقہ سے مالا مال ہوا۔ برصغیر پاک و ہند میں حکیم نیر واسطی، حکیم اجمل خان، حکیم محمد سعید شہید، حکیم محمد حسن قرشی جیسے عظیم حکماء پیدا ہوئے جن کی خدمات تحقیقات مسلم ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کا خطہ اس لحاظ سے باکمال ہے کہ یہاں بھی عظیم اور باکمال اطباء پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم وفضل اور محنت سے بہت سی بیماریوں کے علاج دریافت کیے، جن سے دکھی انسانیت شفا یاب ہوئی۔ اس کا ایک سبب صاحب ثروت مسلمانوں کی علم پروری کا جذبہ تھا۔

جب صاحبان ثروت اس علم سے دست کش ہو گئے تو اس عظیم فن میں ترقی ختم تو نہیں ہوئی البتہ اس کی رفتار میں کمی ضرور آ گئی اس کے باوجود ہر دور میں ایسے حکماء، اطباء اس میدان میں داخل ضرور ہوئے، جن کی محنت شاقہ اس علم و فن کو زندہ رکھے ہوئے ہے جن میں ہمدرد دواخانہ کے مؤسس حکیم محمد سعید کا نام نامی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر زاہد اشرف کی تصنیف ہے۔ بنیادی طور پر آپ طبیب ابن طبیب ہیں۔

ڈاکٹر زاہد اشرف نے پیدائش ہی سے علمی گہوارے میں آنکھ کھولی۔ یہی وصف ان میں علمی ذوق کی آبیاری کا ذریعہ بنا۔ ان کی مادری زبان اگرچہ پنجابی ہے لیکن علمی گہوارے سے ملی گھریلو تربیت زبانوں کی تحصیل کا ذریعہ بنی۔ آپ اُردو، فارسی، عربی، انگلش پر گہری دسترس رکھتے ہیں اور ہر زبان میں تحریر و تقریر کا ملکہ بھی ان کو حاصل ہے۔

اسی ذوق کے نتیجہ میں آپ نے القانون فی الطب دراسہ و تحلیل (القانون فی الطب کا مطالعہ و تجزیہ) کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جس پر انہیں پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی جو زیور طباعت سے آراستہ ہوئی۔ علمی حلقوں میں ’’تاریخ طب عہد بہ عہد‘‘ کے نام سے علمی ذوق رکھنے والے حضرات کے ہاتھوں میں ہے۔

حکیم منصور العزیز طب اور طبابت کے میدان میں وسیع تجربے کی حامل شخصیت ہیں۔ آپ تعلیم طب میں بھی بہت سوں کے مسلمہ استاد ہیں بلکہ فیصل آباد کی حدود اور حدود سے باہر اس علم کی افشا میں انہیں کمال حاصل ہے۔

آپ جامعہ طبیہ فیصل آباد کے پرنسپل رہے جو علم طب میں فیصل آباد کے اندر واحد علمی ادارہ ہے۔ آپ سے ہزاروں بے ہنروں نے یہ ہنر سیکھا اور عام کیا۔ انہوں نے حکیم زاہد اشرف کی پیش نظر کتاب پر تقریظ لکھی اور کتاب کو چار چاند نہیں بلکہ کئی چاند لگائے۔ ان کی لکھی تقریظ بذات خود ایک علمی دستاویز ہے۔

لوگ حکیموں پر علمی تحقیقات سے بے بہرہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں لیکن ان کی تقریظ کی ایک ایک سطر علمی تحقیق کا پتہ دیتی ہے۔ ان کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے قلم سے لکھے مقدمات اپنی جگہ تاریخ طب کی عظمت اور علوِ رتبہ کی دلیل ہیں۔

کتاب مذکور دو سو بہتر صفحات پر مشتمل ہے جس کو مؤلف نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان چاروں حصوں کو وہ فصول کا نام دیتے ہیں۔

پہلی فصل کا عنوان آغاز طب ہے۔ اس فصل میں کرہ ارض کے پہلے طبیب اور طب کا مسکن اول پر بحث کرتے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف آراء کا تذکرہ ہے جن کے بارے میں اتفاق یا اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔

دوسری فصل میں طب اور اس کی شاخوں کا ذکر ہے جن میں طب بابل، طب مصر، طب ہند، طب چین، طب فارس، طب یونان اور طب عرب قبل از اسلام کو شامل بحث کیا گیا ہے۔

تیسری فصل کا عنوان طب عربی و اسلامی ہے جس میں بعثت محمدیہ سے عصر حاضر تک کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

چوتھی فصل میں برصغیر میں اسلامی و عربی طب پر بحث کی گئی ہے۔

موضوع کے اعتبار سے مذکورہ کتاب جامع معلومات کا خزانہ ہے۔ جامعیت کے باوجود کتاب کا مطالعہ تشنگی کا احساس چھوڑتا ہے جو کتاب کی افادیت کی دلیل ہے۔

’’تاریخ طب عہد بہ عہد‘‘ طبی تحقیقات میں اپنی مثال آپ ہے۔ فن طبابت سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اس کے مطالعہ سے کبھی بے نیاز نہیں ہو سکتے۔

مزید : رائے /کالم