سی پیک ہم نے شروع کیا اور ن لیگ نے اس پر قبضہ کرلیا:بلاول بھٹو

سی پیک ہم نے شروع کیا اور ن لیگ نے اس پر قبضہ کرلیا:بلاول بھٹو
سی پیک ہم نے شروع کیا اور ن لیگ نے اس پر قبضہ کرلیا:بلاول بھٹو

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حب(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سی پیک پر ن لیگ کی حکومت نے قبضہ کر لیا ہے، 2013 میں سی پیک معاہدے پر آصف علی زرداری نے دستخط کیے، آمر نے بلوچستان میں نفرت کی آگ لگائی، صدر زرداری نے بلوچستان کے عوام سے قصور نہ ہونے کے باوجود معافی مانگی،نواز شریف نے بلوچستان کو کالونی سے زیادہ اہمیت نہ دی، بلوچستان میں غیروں نے ناانصافیاں کیں، بندوق انکی اور کندھے بلوچوں کے استعمال کئے گئے،گولی زندگی نہیں دے سکتی، (ن)لیگ نے سی پیک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، سی پیک پر یہ جھوٹا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔

حب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرا آپ سے صدیوں کا رشتہ ہے، میرا آپ سے تہذیب اور ثقافت کا رشتہ ہے، بلوچستان رقبے کے لحاظ سے آدھا پاکستان ہے، یہ سرزمین قدرتی وسائل سے مالامال ہے، یہاں کی گیس سے گھروں میں چولہے جل رہے ہیں، بلوچستان آج تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے، بلوچوں کے ساتھ تاریخی ناانصافیاں ہوئیں، آمروں نے بلوچوں کو دکھ دیئے، میرے نانا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، شاہنوازبھٹو کو زہر دیا گیا، میر مرتضیٰ بھٹو کو گولیاں ماری گئیں، میری ماں کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ماں کی لاش اٹھائی، کارکنوں کی لاشیں اٹھائیں، میں نے جمہوریت بہترین انتقام کا نعرہ لگایا، آپ کے بھی قتل ہوئے ہمارے بھی، آپ کے لوگ بھی اغواء ہوئے اور ہمارے بھی اغواء ہوئے، وہ مارتے رہیں گے ہم کہتے رہیں گے جیوے جیوے پاکستان، ہم نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، بلوچستان والو آپ کے اور ہمارے دکھ اور سکھ ایک ہیں، ہمارا اور آ پکا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میری والدہ نے اپنی شہادت سے ہفتہ پہلے ڈیرہ اللہ یار میں کہا تھا کہ میں بلوچستان میں آپریشن ختم کروں گی، بلوچستان میں استحصال ختم کروں گی، بلوچستان کے ساتھ ظلم کیا گیا اور محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ترقی سے محروم رکھا گیا، ایک آمر نے بلوچستان میں نفرت کی آگ لگائی، صدر زرداری نے بلوچستان کے عوام سے قصور نہ ہونے کے باوجود معافی مانگی۔

بلاول بھٹو  زرداری نے کہا کہ صدر زرداری نے بلوچ عوام کے زخموں پر مرہم رکھا، ہم نے اپنے دور حکومت میں آتے ہی آمر اور قاتل کو ایوان صدر سے نکالا، آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا، ہم نے این ایف سی ایوارڈ میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو دیا، ہم نے 18ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات صوبوں کو منتقل کئے، ہم نے جرات مندی سے کام کئے،2008میں آگ کی لپیٹ میں خون میں لت پت بلوچستان ملا، نواب اکبر بگٹی کی شہادت نے اس آگ کو مزید تیز کر دیا تھا، ہم میں بلوچستان کے ماتھے سے خون صاف کیا،3نکات پر مشتمل آغازحقوق بلوچستان پیکج دیا اور اس پروگرام پر عمل کر کے دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں بلوچستان کے پاس سرپلس بجٹ تھا، ہماری وفاقی حکومت نے بلوچستان کو واجب الادا رقم دی، ہم نے ساڑھے 9لاکھ غریب عورتوں کی امداد کی، ہم نے پورے ملک میں سینکڑوں میل لمبی سڑکیں بنائیں، ہم نے سیاسی قیدیوں کے مقدمات ختم کر کے ان کو رہا کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تمام تاریخی کام کرنے کے باوجود بھی ہمیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، سانحہ ہزارہ نے انسانیت کو شرما دیا، پشاور میں اے پی ایس بچوں کو شہید کیا گیا، ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے نہتے شہریوں کو شہید کیا، آج (ن)لیگ حکومت نے سی پیک پر قبضہ کرلیا، بلوچستان کے لوگ جانتے ہیں کہ صدر زرداری نے سی پیک منصوبہ شروع کیا،2013میں سی پیک پر دستخط ایوان صدر میں ہوئے،اس کا مقصد پسماندگی دور کرنا تھا، (ن)لیگ نے سی پیک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، سی پیک پر یہ جھوٹا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں، تھرکول منصوبے میں مقامی افراد کو سب سے پہلے فائدہ پہنچایا، مقامی خواتین کو ٹرک ڈرائیور سے لے کر انجینئرز تک لگوایا، ترقیاتی کام کروائے، وائر فلٹریشن پلاٹ لگائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں دل کے امراض کے ہسپتال بنوائے، بلوچستان کے بھائیوں کو سندھ سے علاج کروانا پڑتا ہے، میں بلوچستان میں ایسی تمام سہولیات چاہتا ہوں، ہم نے خواتین کو بلا سود قرضے دیئے اور 6لاکھ خواتین کو برسرروزگار کیا، ہم ایسے پروگرام پورے پاکستان میں چاہتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم نے نہروں کو پکا کر کے پانی کے ضیاع کو روکا،میں بلوچستان کے نوجوانوں کو برسرروزگار دیکھنا چاہتا ہوں، میاں نواز شریف نے بلوچستان کو کالونی سے زیادہ اہمیت نہ دی، 5سال میں این ایف سی ایوارڈ تک نہ دیا، سی پیک کے مغربی روٹ کو نظرانداز کر کے بلوچستان کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، نام نہاد قوم پرست جماعتیں (ن)لیگ کے ساتھ اقتدار کے مزے لیتی رہیں اور تخت رائیونڈ کی غلامی قبول کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے چین کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا، ہم پر بلوچستان حکومت گرانے کا الزام ہے جبکہ یہ کام آپ کی اپنی جماعت کا ہے، نواز شریف اور (ن)لیگ پر بلوچستان کے عوام نے عدم اعتماد کیا، کوئی صوبہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، ماضی میں چھوٹے صوبوں کو محروم رکھا گیا، ہمیں پسماندہ رکھ کر پسماندگی کا طعنہ دیا گیا، اب ہم طعنے نہیں سنیں گے، میں اب میدان میں اتر چکا ہوں، بلوچستان میں تین سال میں تین وزیراعلیٰ آئے، بلوچستان میں غیروں نے ناانصافیاں کیں، آپ کو تعلیم اور صحت سے محروم رکھا گیا، بندوق غیروں کی اور کندھے بلوچوں کے استعمال کئے گئے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ غیروں کیلئے اپنے کندھے استعمال نہ کریں،گولی زندگی نہیں دے سکتی، میں اور پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی طاقت سے ہم اقتدار میں آئیں گے، بلوچستان کے وسائل بلوچ عوام پر لگیں گے، تمام وسائل اور سی پیک پر بلوچستان کے عوام کا حق ہو گا، پیپلز پارٹی آپ کو آپ کا حق دلا سکتی ہے،یہ بلوچستان اور پورا ملک آپ کا ہے، خدا را بلوچستان کو سنبھالو۔

مزید : قومی /علاقائی /بلوچستان /حب