جب مشتاق احمد یوسفی نے خود اپنا خاکہ لکھا

جب مشتاق احمد یوسفی نے خود اپنا خاکہ لکھا
جب مشتاق احمد یوسفی نے خود اپنا خاکہ لکھا

  

دو صدیوں کا سفر کرنے والے بزرگ مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی عمر عزیز کی سینچری مکمل کرتے کرتے چورانوے برس کی عمر میں جہاں فانی کی کریز پر آوٹ ہوگئے ۔انہوں نے زندگی کی زور دار اننگ کھیلی۔مزاح میں خاکہ نگاری کو جدت اور شائستگی دیکر خود آسودہ خاک ہوگئے۔

بہت سوں کا کہنا تھا کہ یوسفی صاحب نے ذومعنویت کو مہذبانہ انداز میں بیاں کرنے کا اسلوب سکھایا تھا لیکن انکی پیروی کرنے والوں کو ان جیسا طرز سخن نہیں ملا اور وہ صرف ذومعنویت کی غلاظت میں طنزو مزاح کی ڈبکیاں لگاتے رہے ہیں اور ابھی بھی چلے جارہے ہیں، انکی منزل اور راستہ شاہراہ یوسفی سے جدا ہے۔ آخری عمر میں وہ علیل ہوئے لیکن ان کی علالت میں بھی مزاح جوان اورایسا ہشاش بشا ش اور توانا رہا کہ انکے مالشئے انکی تقلید میں اپنے لئے راستے ہی تلاش کرتے رہ گئے ، کوئی ان کی دھول تک نہیں سونگھ پایا۔

یوسفی صاحب نے مزاح کا اسلوب ادب پر استوار کیا ۔انہوں نے انکے قلم کا جہاں دراز تھا ۔خاکوں ،تبصروں ،پیروڈی ،آپ بیتی ،کالم گویا جس طرز میں بھی لکھا طنزومزاح سے کشیدہ کاری،بنت کاری ایسی کی کہ بس ہر کوئی مزہ چاٹتا رہ گیا ۔ ان کا اسلوب اور میدان تازہ دم اور وسیع رہا ۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہر شعبہ تحریر میں نشتر گاڑھے۔ آپ بیتی،مضمون، خاکہ ،افسانہ، ناولٹ، ناول ،تاریخ وتحقیق ،گویا کوئی شعبہ انکی دسترس سے نہیں بچ پایا ۔ایک شاہسوار قلم کی حیثیت میں شاید ہی کوئی انکے نیزہ قلم سے بچ پایا ہوگا ۔اس پر حضرات ان پر کھولتے اور زبان درازیاں بھی کرتے رہے۔مگر وہ میدان ادب میں قلم دوڑاتے رہے ۔

بقول پروفیسر ڈاکٹر محمد علی صدیقی ”یوسفی صاحب نظیر اکبر آبادی کی طرح سرسید جیسی شخصیت پر پھبتیاں کستے تھے اور سرسید اپنے کام میں جتے رہتے تھے، کبھی کبھی کسی سے کدورت دوسرے کو عزت دوام بخشتی ہے، یوسفی صاحب پر بھی پھبتیاں کسی گئیں اگر یوسفی صاحب ان پھبتیوں پر کان دھرتے تو آج وہ مشتاق احمد کے نام سے جانے جاتے۔“

یوسفی صاحب نے بے شمار خاکے لکھے ،قلمی پھبتیاں کسیں،لیکن وہ دوسروں کے علاوہ اپنی ذات کے بھی ناقد تھے ، ان کی اعلیٰ ظرفی کا یہ مقام تھا کہ وہ خود اپنے بارے بھی خاکہ آرائی کرتے رہتے تھے ۔انکی کتاب ”چراغ تلے“کا مشہور زمانہ مقدمہ اس کا بین ثبوت ہے ۔ایسا خاکہ خواجہ حسن نظامی ؒ نے بھی اپنی آپ بیتی کے دوران لکھا تھا جس نے ادب کو نئی جہت دی تھی ۔ یوسفی صاحب کی خاکہ آرائی نے ادب میں مزید پیش رفت کی اور خاکہ آرائی سے صاحبان قلم کو کتابوں کے مقدمہ جات لکھنے کا نیا انداز ملا ۔مشتاق احمد یوسفی نے اپنے بارے کیا لکھا آپ بھی اس کو پڑھ کر انکے لطیف پیرائے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں ۔

یوسفی صاحب نے چراغ تلے کے جہازی سائز مقدمہ میں اپنا مختصر سا خاکہ بھی بیان کیا ہے۔وہ یوں پیش کرتے ہیں ۔

نام۔۔سرورق پر ملاحظہ فرمائیے

خاندان۔۔سو پشت سے پیشہ آباء سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔

تاریخ پیدائش۔۔عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔

اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقل صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔

پیشہ۔۔گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن سکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔

اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اصلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔

پہچان ۔۔قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)

وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔

جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن ستا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو میرے بھی فٹ آتا ہے۔

حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔

پسند۔غالب، ہاکس بے ، بھنڈی

پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوو¿ں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔

پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بر بنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔

چڑ۔۔جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔

مشاغل۔۔فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا

تصانیف۔۔چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط

کیوں لکھتا ہوں۔۔ڈزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ