چاچا رفیق کے تبصرے

چاچا رفیق کے تبصرے
چاچا رفیق کے تبصرے

  

چاچا رفیق آج کئی روز کے بعد بیٹھک میں آیا۔ کریم بخش چاچا رفیق کو دیکھتے ہی بڑا خوش ہوا اور کھڑے ہو کر گلے لگ گیا۔ کہنے لگا چاچا رفیق اتنی زیادہ چھٹیاں نہ کیا کرو۔ ہم سب تمہارے انتظار میں رہتے ہیں۔ خبروں کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ چاچا رفیق نے بات کاٹتے ہوئے کہا، کریم بخش یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ تم پڑھاکو کو بلاؤ اور تازہ خبریں سناؤ۔ پڑھاکو پاس ہی بیٹھا تھا، اس نے اخبار پکڑا اور کہنے لگا، خبر یہ ہے کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ چاچا اصغر بولا، پڑھاکو اگلی خبریں بعد میں پڑھنا پہلے یہ بتاؤ، وفاقی کابینہ کیا ہوتی ہے۔ پڑھاکو نے کہا،چاچا جی وفاقی کابینہ ملک کے انتہائی سمجھدار بندوں کی جماعت ہوتی ہے، جو آپس میں مشورے کے ساتھ ملک کا نظام چلاتے ہیں، اس جماعت کے بڑے تھوڑے سے رکن ہوتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے پورے ملک میں سے اکیس لوگوں کو چنا ہے۔ وہ اس کابینہ کے رکن ہیں۔ ہر ایک کو الگ الگ محکمہ کا ذمہ دار بنایا ہے۔ مثلاً وزیر صحت، وزیر مال، وزیر تعلیم، وزیر قانون۔ ہر وزیر اپنے محکمہ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور انتظام چلاتا ہے۔

چاچا بولا، پھر تو یہ اکیس آدمی ملک کے سب سے زیادہ عقل مند لوگ ہوں گے۔ پڑھاکو نے کہا ،چاچاجی بالکل صحیح ہے۔ لو جی جنہوں نے پورے ملک کے نظام کو چلانا ہے وہ تو بہت ہی عقل مند ہوں گے۔ جبھی تو نظام چلے گا۔ یہ ہمارے کریم بخش سے تو اپنی چھوٹی سی دوکان نہیں چلتی۔ کبھی کسی سے پیسے لینے بھول جاتا ہے، کبھی کس کو ادھار دے بیٹھتا ہے اور پھر واپس لینا بھول جاتا ہے، اس لئے وزیر لوگ بڑے سمجھدار، پڑھے لکھے اور عقل مندوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔ چاچا بولا، میں نے اسی لئے اپنے بھتیجے شریف کو سکول داخل کرا دیا ہے۔ وہ دوسری جماعت میں پڑھتا ہے۔ آہستہ آہستہ وزیر بن ہی جائے گا۔

اچھا پڑھاکو وزیروں کی باتیں بعد میں کریں گے، اب اگلی خبریں سناؤ۔ اگلی خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے تمام وزیروں کے صوابدیدی فنڈز پر پابندی لگا دی ہے۔ پڑھاکو صاحب یہ صوابدیدی فنڈ کیا ہوتے ہیں، یہ کیوں بند کئے ہیں؟چاچا رفیق صوابدیدی ایسے فنڈ کو کہا جاتا ہے جو ہر وزیر کو محکمہ چلانے کے لئے دیئے جاتے ہیں، جنہیں وزیر صاحب اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔ پھر تو یہ فنڈ بند کرکے بہت اچھا کیا ہے۔ کیوں کہ اگر ہر وزیر اپنی مرضی سے جتنا چاہے خرچ کرنے لگے تو ملک کا خزانہ خالی ہو جائے گا۔ اس لئے وزیر اعظم صاحب نے وزیروں کا یہ اختیار ختم کر دیا ہے تاکہ ملکی سرمایہ فضول ضائع نہ ہو سکے۔ پڑھاکو اب آگے بڑھو، تم ایک خبر سنا کر چپ کیوں ہو جاتے ہو۔

چاچاجی لو پھر اگلی خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر کسی وزیر کو سرکاری کام کے لئے کسی دوسرے ملک جانا ہو تو وہ سرکاری ہوائی جہاز میں نہیں جائے گا، اچھا تو وہ وزیر صاحب اپنا جہاز بنوائے گا۔ چاچا جی آپ سمجھے نہیں۔ وہ وزیر اپنا جہاز نہیں بنوائے گا، بلکہ عام جہاز میں دوسری سواریوں کے ساتھ بیٹھ کر سفر کرے گا اور اپنا ٹکٹ /کرایہ خود ادا کرے گا۔ لے بھئی پڑھاکو یہ تو بڑا صحیح فیصلہ کیا ہے۔ اب وزیر بھی لائن میں کھڑے ہو کر ٹکٹ خریدیں گے، ان کو بھی اسی طرح دھکے لگیں گے، جس طرح ہمیں لگتے ہیں۔ پڑھاکو نے جب یہ سنا تو زور سے ہنسا۔ کہنے لگا چاچا تم تو سیدھے آدمی ہو۔

ہوائی جہاز کے لئے ٹکٹ تو لوگ ٹیلی فون کے ذریعے گھر بیٹھے ہی خرید لیتے ہیں، اس کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑتے۔ چاچا رفیق بولا، اچھا میں سمجھ گیا ہوں۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ لینے کے لئے دھکے نہیں کھانے پڑتے، نہ لائن میں لگنا پڑتا ہے۔ دھکے تو ہوائی جہاز کے اندر بیٹھ کر لگتے ہیں۔ اسی لئے میں کبھی جہاز میں نہیں بیٹھتا۔ ویسے بھی سنا ہے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے لئے پیسے بھی بہت دینے پڑتے ہیں۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ بہت مہنگا ہوتا ہے۔ اسی لئے میں تو کہتا ہوں کہ ہمارے لیے تو ہماری گدھا گاڑی ہی ٹھیک ہے۔ پیسا دھیلا بھی نہیں دینا پڑتا، سفر بھی آرام دہ ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -