ملتان پولیس کے سربراہ کے لئے چند کلمات

ملتان پولیس کے سربراہ کے لئے چند کلمات
ملتان پولیس کے سربراہ کے لئے چند کلمات
کیپشن: abdul hakim ghuri

  

بلاشبہ ملک میں پولیس کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ امن و امان کا قیام پولیس کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے۔ اگر پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو جائے، تو ریاست کا نظم و نسق مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں جاگیرداروں، وڈیروں اور زمینداروں کاراج ہے، حکمرانی کی خواہش کا احساس اُن کے ذہن میں سمایا رہتا ہے، غریب عوام پر حکمرانی کا خواب اُن کی آنکھوں میں ہر وقت محو رقص رہتا ہے۔ الیکشن کے دِنوں میں جو لوگ ہمارے ان اقتدار کے رسیا سیاست دانوں کو ووٹ دینے سے انکاری ہوتے ہیں منتخب ہونے کے بعد یہ لوگ سیاست دان فیوڈل لارڈ کے دستِ انتقام کا نشانہ بنتے ہیں۔ وہ جھوٹے مقدمات کے اندراج کے ذریعے ان لوگوں کو اپنی طاقت سے مرعوب کرتے ہیں، جس تھانے میں ان غریب لوگوں پر ناجائز مقدمے کا اندراج ہوتا ہے۔ وہاں کا انچارج ان سیاست دانوں کا سفارش کردہ ہوتا ہے۔ وہ انچارج تھانہ اس کا جائز ناجائز حکم ہمہ وقت ماننے کے لئے تیار رہتا ہے۔ یوں بے گناہ سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتا ہے، ہم اس تھانے کے ایس ایچ او کو فرعون لکھتے ہیں، جبکہ اصل مجرم وہ معزز اور منتخب نمائندہ ہوتا ہے، جس کے حکم کی زد میں بے گناہ لوگ آتے ہیں۔

 پورے ہندوستان میں انگریز حکمرانوں کی تعداد کوئی40ہزار کے قریب تھی، اس تعداد میں اپنے دور کی بہترین فوج انڈین آرمی کے افسر بھی شامل تھے اور سول سروس کے افسر بھی۔ اس برطانوی راج کو مستحکم کرنے میں تین عہدیداروں کا بنیادی کردار تھا۔ ضلع کا ڈپٹی کمشنر جسے صاحب ضلع، یعنی ضلع کا مالک بھی کہا جاتا تھا ایک پولیس کپتان، ایک سیشن جج۔ بعض اضلاع میں سول سرجن، یعنی ڈاکٹر بھی انگریز ہوتا تھا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے یہ افسر ہماری مقامی اشرافیہ کو للچا کر یا ڈرا دھمکا کر استعمال کرتے تھے اور ان کے ذریعے عوام پر اپنا اقتدار قائم رکھتے تھے۔ اشرافیہ کی نئی نسل کو انگریزیت سے روشناس کرانے کے لئے ہندوستان میں تین چار تعلیمی ادارے بھی قائم کر رکھے تھے، جن میں صرف اشرافیہ کے بچوں کو داخلہ ملتا تھا۔ ان تعلیمی اداروں میں تعلیم واجبی سی مگر کھیل کود اور ادب و آداب کی تعلیم بہت اعلیٰ تھی۔ یہ برطانوی دور کی سول فوج تھی، جو ہر ضلع میں برطانوی افسروں کا دست بازو ہوا کرتی تھی۔امن و امان عام تھا۔ یہاں مجھے یہ باتیں ایک پولیس کپتان کے حوالے سے یاد آ رہی ہیں جو اب کسی ضلع کے نہیں ملتان ڈویژن کے کپتان ہیں۔ پاکستان میں محب وطن ٹیلنڈ اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے والے پولیس آفیسرز کی کمی نہیں، پولیس میں آج بھی ایسے آفیسرز موجود ہیں، جنہوں نے منفی روایات کی بجائے مثبت روایات کو جنم دیا۔

پولیس میں ایسے آفیسر موجود ہیں، جنہوں نے ہر سائل کے مسئلے کو میرٹ کی کسوٹی پر پرکھا۔ ہماری پنجاب پولیس کے بھی ایک ایک افسر ہیں اور ان کی عمل داری میں رہنے والے بھی پرانے پنجابی ہیں۔ ان کی پولیس بھی وہی پرانی ہے اور ان کے وسائل بھی وہی ہیں، جو پہلے تھے، لیکن ان کی عملداری میں سوائے ”امن“ کے اور کچھ نہیں اور امن بھی پنجاب کے بدترین علاقے ”ملتان“ ڈویژن کا جو جنوبی پنجاب کا ہیڈ کوارٹر ہے یہ ملتان ڈویژن کا علاقہ ہے، جو پنجاب کا علاقہ غیر سمجھا جاتا تھا اور پاکستان بن جانے کے بعد بھی اس کی روایت باقی رہی، لیکن آج یہاں کے تاریخی بدمعاش ختم کر دیئے گئے ہیں اور شریف لوگ گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ یہ سب ایک پولیس افسر نے کیا ہے، جس کا نام ہے۔ کیپٹن(ر) محمد امین وینس نئے نظام میں اسے ” آر پی او“ کہتے ہیں کہ ہم اسے ڈی آئی جی بھی کہیں گے۔ کیپٹن(ر) محمد امین وینس سے مَیں گزشتہ دنوں پہلی بار ملا، تو مجھے ایسا لگا کہ وہ درویش منش اور فقیر مزاج آدمی ہیں۔ ان کی گفتگو سے لگتا تھا کہ جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ کسی ادارے کا سچا انتظامی سربراہ وہ ہوتا ہے، جو اپنی ذات میں بیک وقت انسانیت کا درد رکھتا ہو، کیپٹن(ر) محمد امین وینس ایک خوبصورت جوان ہیں اور خوبصورت اعمال سے مزین اور تیسرے یہ کہ پولیس کا بڑا افسر جس کے پاس انصاف اور جرا¿ت کے اور کچھ نہیں۔

کیپٹن(ر) محمد امین وینس کی بات پوچھنی ہو تو اُن دنوں کچے کے جرائم پیشہ علاقے کے عام باشندوں سے پوچھیں جن کے گھر پُرامن ہو گئے ہیں اور جو راتوں کو بے فکر ہو کر سفر کرتے ہیں، وہ لوگ جو اپنے جانوروں اور مال و اسباب کی دیکھ بھال کے لئے ساری رات جاگا کرتے تھے، اب سکون کی نیند سوتے ہیں۔ میرے کچھ مہمان جلالپور پیروالہ کے ایک گاﺅں سے آئے، تو انہوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے میں ہمیں کچھ لوگوں نے بتایا کہ بے فکر ہو کر سفر کریں، اب یہاں امین وینس کا انصاف چلتا ہے، بدمعاشی نہیں چلتی۔ محمد امین وینس کا دفتر اوپن ڈور پالیسی ہے کسی سائل کو دفتر آنے کے لئے کسی چٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے، جو بھی شخص داد رسی کے لئے آر پی او کے دفتر جاتا ہے اس کی ہر ممکن مدد کی جاتی ہے اور ہر شخص کو آزادی سے بولنے کی اجازت ہے۔ آر پی او ملتان محمد امین وینس نے یونین کونسل سسٹم کے تحت ہر شخص تک رسائی حاصل کی ہے اور کافی حد تک جرائم کنٹرول کئے ہیں۔ آر پی او ملتان محمد امین وینس کو ایک اچھی ٹیم ملی ہوئی ہے، جس میں سی پی او ملتان سلطان احمد چودھری، ایس ایس پی ریجنل انویسٹی گیشن کامران عادل، ایس ایس پی آپریشنز شوکت عباس، ایس ایس پی ٹریفک جاوید اقبال، ڈی پی او وہاڑی صادق علی ڈوگر، ڈی پی او خانیوال محمد ایاز سلیم ، ڈی پی او لودھراں گوہر مشتاق بھٹہ و دیگر اعلیٰ پولیس افسران شامل ہیں، ان افسران کی رات دن محنت اور کوشش سے ملتان ڈویژن جرائم کے حوالے سے پنجاب بھر میں ہی نہیں، بلکہ پاکستان میں بہترین کارکردگی رکھتا ہے۔ سبق یہ حاصل ہوتا ہے کہ ایک کلیدی افسر بھی اگر جرا¿ت مند عقلمند اور دیانتدار ہو، تو پولیس کو بھی بدل سکتا ہے، بدمعاشوں کو بھی ختم کر سکتا ہے اور عوام کو بھی جرا¿ت اور حوصلہ دِلا سکتا ہے اور اگر پورے ملک کا ہر گاﺅں اس طرح ہو جائے، تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ اور سوائے خوشحالی کے اس ملک میں اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

مزید :

کالم -