کب ڈوبے گا ’’تشکیک پرستی‘‘ کا سفینہ؟

کب ڈوبے گا ’’تشکیک پرستی‘‘ کا سفینہ؟
کب ڈوبے گا ’’تشکیک پرستی‘‘ کا سفینہ؟

  

 16دسمبر کی تاریخ پاکستانی کبھی نہیں بھلا سکتے۔۔۔ 1971ء میں اسی تاریخ کو مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا تھا۔

پاکستان آرمی ایک بڑی شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ انڈیا نے ہمارے 45ہزار فوجی آفیسرز اور جوان قیدی بنا لئے تھے جو تقریباً تین سال تک انڈیا کے مختلف شہروں میں جنگی قیدیوں (Pows) کے کیمپوں میں محبوس رہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ معاہدہ کرکے ان 90ہزار فوجی اور سویلین قیدیوں کی پاکستان واپسی کا معاملہ طے کیا تو معلوم ہوا کہ یہ مسلم ملٹری ہسٹری میں 1967ء کی تیسری عرب اسرائیلی جنگ کے بعد سب سے زیادہ عبرت آموز شکست تھی! اسی معاہدے کے تحت پاکستان کو کشمیر کی جنگ بندی لائن (CFL) کو لائن آف کنٹرول (LOC)تسلیم کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نہ صرف پاکستان نے اپنا مشرقی بازو، بھارت کو ہار دیا تھا بلکہ مغربی محاذ پر جنگ بندی لائن پر واقع سٹرٹیجک اہمیت کی کئی چوٹیاں بھی شملہ معاہدے کی نذر کر دی تھیں۔ یہی وہ علاقے تھے جو 28برس بعد مئی 1999ء میں اس خونریز لڑائی کا سبب بنے جسے پاک بھارت چوتھی جنگ، کارگل تنازعہ یا کارگل کی لڑائی بھی کہاجاتا ہے۔

مئی 1999ء میں پاکستان نے اپنی وہ چوٹیاں جو دسمبر 1971ء سے پہلے پاکستان کے قبضے میں تھیں، اگرچہ دو ماہ کے لئے عارضی طور پر دوبارہ حاصل کر لیں لیکن ایک امریکی سازش کے تحت انہیں بھارت کو واپس دلا دیا گیا اور اس طرح سٹیٹس کو ’’بحال‘‘ کر دیا گیا۔۔۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ 1967ء میں اسرائیل نے جن عرب علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور جن میں بیت المقدس بھی شامل تھا، کیا 1973ء کی جنگ کے بعد جو جنگ بندی نافذ کی گئی تھی کیا اس میں بھی کسی امریکی بل کلنٹن نے 1967ء سے پہلے والا سٹیٹس کو بحال کروایا تھا؟

1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی شکست پر اَن گنت تحریریں اور تقرریں موجود ہیں۔ ہم ہر سال جب 16دسمبر 1971ء کی یاد تازہ کرتے ہیں (یا ماتم کرتے ہیں) تو کیا انڈین آرمی کے اس آرمی چیف کا وہ انٹرویو بھی کسی ٹی وی چینل پر دکھاتے ہیں جو فیلڈ مارشل مانک شا نے ایک انڈین ٹی وی چینل کو دیا تھا۔ اسی انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا اس جنگ کی شکست کی ذمہ داری اس وقت کی پاک آرمی پر ڈالی جائے گی یا انڈین آرمی کی پروفیشنل برتری پر؟۔۔۔ یہ سوال گزشتہ پانچ عشروں سے متنازعہ چلا آ رہا ہے۔

لیکن مانک شا نے اس میں پاک آرمی کی شکست کے اسباب اور اس کی پیشہ ورانہ اہلیت پر جو تبصرہ اس انٹرویو کرنے والے متعصب ہندو کے سامنے کیا تھا، وہ سننے کے قابل ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ مانک شا نے ہی اس جنگ کی پلاننگ کی تھی لیکن انہوں نے ہی مئی / جون 1971ء کو اپنی وزیراعظم اندراگاندھی کے سامنے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان کا یہ انکار اب تاریخ کا حصہ ہے اور جن وجوہات کی بنا پر انکار کیا تھا وہ بھی ایک تاریخ ہے۔ اندرا گاندھی کو اپنے آرمی چیف کی طرف سے اس انکار کو قبول کرکے 6ماہ تک نومبر 1971ء کا انتظار کرنا پڑا تھا۔۔۔ کیا یہ کہانی بھی کسی پاکستانی میڈیا نے اب تک اپنے چینل پر دسمبر 1971ء کے سانحے کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتائی یا سنوائی ہے؟

فیلڈ مارشل مانک شا نے بڑے واضح اور دوٹوک الفاظ میں یہ بتایا تھا کہ ’’پاکستان آرمی ایک دلیر اور جرات مند آرمی ہے۔ اس نے بڑے پروفیشنل انداز میں یہ جنگ لڑی۔ لیکن ایک تو وہ اپنی مین بیس (Main Base) سے ایک ہزار میل دور تھی۔

دوسرے اس کو کوئی ائر کور حاصل نہ تھا اور تیسرے اس کے مقابلے میں تین گنا انڈین آرمی تھی۔ ان وجوہات کی بناء پر پاکستان آرمی کو ہمارے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا‘‘۔۔۔۔ فیلڈ مارشل مانک شاکے اس اعتراف کو چونکہ کسی انڈین چینل نے آن ائر نہیں کیا، اس لئے کسی پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کو بھی خدا نے یہ توفیق نہ دی کہ وہ اس سچ کو اپنی پبلک کے سامنے پیش کرتا۔۔۔۔ مانک شا کے انٹرویو کی یہ کلپ یو ٹیوب پر آج بھی دیکھی اور سنی جا سکتی ہے۔

پھر اس شکست کے ٹھیک 43سال بعد 16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر جو دہشت گردانہ حملہ کیا گیا ، اس کے زخم بھی 16دسمبر 1971ء کے سانحے کے طرح کبھی نہیں بھر سکتے۔

اسی سانحے کی شدت نے ہی آپریشن ضرب عضب کے لانچ کرنے کی راہ ہموار کی تھی وگرنہ وابستہ مفادات تو اور قسم کی راگنیاں الاپ رہے تھے جن کو ہر پاکستانی جانتا ہے۔

ضرب عضب کی لانچنگ وہ پہلا واٹر شیڈ تھی جس کی کوکھ سے سی پیک (CPEC) نے جنم لیا۔ اگر پاک فوج، شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا صفایا نہ کرتی تو اتنے بڑے منصوبے کی لانچنگ بھی ممکن نہ ہوتی۔

آج ہمارے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جنرل ناصر خان جنجوعہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ان کی وجوہات میں سرفہرست (CPEC) کی تعمیر اور اس کا تسلسل ہے تو یہ کوئی مبالغہ نہیں۔

دو روز پہلے اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کی سویلین اور عسکری ٹاپ براس نے شرکت کی۔اس اجلاس میں وزیر داخلہ، قومی سلامتی کے مشیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہ اور دوسرے سینئر آفیسرز شامل تھے۔ اس میں جو موضوع ایک بار پھر ڈسکس کیا گیا وہ نیشنل ایکشن پلان (NAP) کی رفتارِ تکمیل تھی۔

اس پلان کی بازگشت ہم گاہ گاہ گزشتہ تین برسوں سے سن رہے ہیں۔ میڈیا کے پنڈت بڑے زور و شور سے اس کے حسن و قبح پر نقد و نظر کرتے رہے ہیں اور اب بھی وہی کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ ہمارا دوسرا قومی ترانہ بن چکا ہے کہ ہم ارادے باندھتے ہیں، پلان بناتے ہیں، شورو غل مچاتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس انتہائی اہم مسئلے کو انتہائی عجلت اور انتہائی ذمہ داری سے پایہ ء تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔

لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہم انتہائی ڈھٹائی، انتہائی ارادی سہل انگاری اور انتہائی جانی بوجھی سست کوشی کا ارتکاب کرتے ہوئے سب کچھ بھول بھال جاتے ہیں۔ خیال کرتے ہیں کہ معاملہ رفع دفع ہو گیا ہے۔۔۔۔مٹی پاؤ۔۔۔ لیکن پھر برسوں بعد اچانک اگر کسی گرجا گھر پر حملہ ہوتا ہے، ہمارے درجن بھر مسیحی شہری مارے جاتے ہیں اور چار درجن سے زیادہ زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار ہسپتالوں میں چلے جاتے ہیں تو ساری سویلین اور عسکری قیادت فوراً ہوائی جہازوں یا ہیلی کاپٹروں کی آرام دہ نشستوں پر بیٹھ کر کسی ہوائی اڈے یا ہیلی پیڈ پر اترتی ہے جہاں سٹاف کاروں کا ایک قافلہ موجود ہوتا ہے۔ ان میں سوار ہو کر وہ ہسپتالوں میں پہنچتے ہیں، زخمیوں کا ہاتھ پکڑتے ہیں۔ سامنے ٹی وی کیمروں کی بیڑیاں لگی ہوتی ہیں جن سے خطاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھار پھینکیں گے‘‘۔۔۔۔ لیکن نہ تو یہ جڑ کٹتی ہے اور نہ اکھاڑنے والے کہیں نظر آتے ہیں۔اب ایک بار پھر ملک کی سویلین اور عسکری لیڈرشپ سرجوڑ کر بیٹھی نظر آتی ہے۔۔۔ دیکھیں اب پٹاری سے کون سا کوبرا برآمد ہوتا ہے!

تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ آرمی چیف نے 19دسمبر 2017ء کو سینیٹ کے اراکین کو قومی سلامتی کے موضوع پر جو بریفنگ دی وہ قومی یکجہتی کے لئے ایک خوش آئند شگون کہی جا سکتی ہے۔

امریکی کانگریس میں عسکری قیادت کی طرف سے پیش ہو کر اس طرح کی بریفنگز دینا ایک معمول ہے۔ لیکن یہ اراکین کانگریس اپنے جرنیلوں سے جن معاملات پر وضاحت مانگتے ہیں ان کا تعلق صرف موضوعِ زیر بحث سے ہوتا ہے۔

پاکستان میں چونکہ ایسا پہلی بار ہوا ہے اس لئے اراکین کی طرف سے ’متفرق‘ سوال و جواب کا سلسلہ تین چار گھنٹوں تک پھیل گیا۔ سوال پوچھنے والوں نے دل کھول کر دل کی بھڑاس نکالی اور وہ وہ سوال بھی پوچھے جن کا تعلق قومی سلامتی سے نہیں تھا۔

لیکن اچھی بات یہ بھی ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تمام ’متفرق‘ سوالوں کو بھی خندہ پیشانی سے سنا اور ایسے مسکت جواب دیئے جن کو سن کر آتشِ تنقید پر ٹھنڈا ٹھار پانی پڑ گیا۔

مثلاً انہوں نے برملا کہا کہ فوج جمہوری عمل کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، جمہوری حکمرانوں کی برتری تسلیم کرتی ہے، اور ان کی تابعِ فرمان ہے۔ لیکن اگر دفاع اور خارجہ امور کا برسوں تک کوئی وزیر ہی نہ ہو اور کسی دفاعی اور خارجہ پالیسی کے حتمی خدوخال ہی طے نہ کئے جائیں تو پھر فوج کو مطعون نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پالیسیاں بنائے ہم ان پر عمل کریں گے۔ ان کا ایک فقرہ یہ بھی تھا: ’’تحریکِ لبیک یارسول اللہ کے حالیہ دھرنے میں اگر فوج کا کوئی کردار ثابت ہو جائے تو میں استعفیٰ دے دوں گا‘‘۔

جنرل صاحب شائد جذبات کی رو میں بہہ کر یہ فقرہ بول گئے ہیں۔ اس قسم کے جملے، قسمیں اور سوگندیں سیاستدانوں کے لئے وقف ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ماضی ء قریب میں بہت سے باتیں اور متنازعہ مسائل ایسے بھی تھے جن کو دن رات ’جمہوریت کا حسن‘ قرار دیا جاتا رہا (اور آج بھی کم و بیش یہی حسنِ جہاں سوز ٹیلی ویژن سکرینوں پر جلوہ افروز ہے) ٹی وی ٹاک شوز میں سیاسی رہنماؤں اور قانون سازوں کی طرف سے یہ جملہ بار بار دہرایا جا چکا ہے کہ اگر فلاں الزام میرے خلاف ثابت ہو جائے تو میں سیاست سے دستبردار ہو جاؤں گا یا اگر میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو میں اسی لمحے استعفیٰ دے کر گھر چلا جاؤں گا۔۔۔ میرا خیال ہے افواج پاکستان کی قیادت کو جمہوریت کے اس ’’حسن‘‘ کی تقلید میں اس حد تک آگے نہیں جانا چاہیے۔

عسکری قیادت کا ایک خاص ’’مقام‘‘ہے جو گفتگو کے ایک خاص قرینے کا طلبگار ہے۔ کیا آپ کویاد نہیں کہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جانے کی روائت جنرل جہانگیر کرامت نے ڈالی تھی۔ لیکن اس کا شاخسانہ پوری قوم نے 9سال تک بھگتا!

نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے سلسلے میں تین برس پہلے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا گیا تھا، اس کو دیکھ کر پاکستان کے ہر شہری کو یقین سا آ گیا تھا کہ اب ملک سے دہشت گردی واقعی ختم کر دی جائے گی۔

لیکن تین سال گزرنے کے بعد ماضئ قریب میں ہم کیا دیکھتے رہے ہیں؟ فوج اور سول حکومت ایک دوسرے کو ہدف تنقید بناتی رہی ہے کہ اس نے اس پلان کی تکمیل میں صدق دل سے حصہ نہیں لیا۔

فوج کا موقف یہ ہے کہ اس نے اپنے حصے سے بڑھ کر اور اپنی حدود سے آگے جا کر اس میں حصہ لیا ہے اور سول انتظامیہ کا جواب یہ ہے کہ اس پلان کے کئی پہلوؤں پر پالیسی تشکیل نہیں دی گئی اور نہ ہی اداراتی اصلاحات عمل میں لائی گئی ہیں۔

اداراتی اصلاحات میں ’’نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کو زیادہ موثر بنانا، سول اور ملٹری اداروں کا ایک مشترک انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کرنا اور ایک ایسا نظامِ کار وضع کرنا تھا جس کے تحت فوجی اور سویلین اداروں کو مل کر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا تھا۔

اور اگر آپ کو یاد ہو تو ان میں مدارس کی اصلاحات بھی شامل تھیں۔۔۔ لیکن یہ تمام کام گزشتہ 36 ماہ میں نہ صرف یہ کہ مکمل نہیں کیا جا سکا بلکہ اس کی طرف پیشرفت کا بھی کوئی نمایاں مظہر دیکھنے کو نہیں ملا۔ نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گرد اِدھر ڈوبتے ہیں تو اُدھر نکل آتے ہیں اور اگر اُدھر غائب ہوتے ہیں تو اِدھر ظاہر ہو جاتے ہیں!

کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ کوئی سویلین قیادت ان باہمی شکوک و شبہات کا کوئی قطعی ازالہ کرے اور قوم کو اس بھنور سے نکالے۔ ہمارے چاروں طرف قومی سلامتی کو جو چیلنج آج درپیش ہیں ان کا ادراک کون کرے گا؟ اگر ایک سیاسی تنظیم اعلان کر رہی ہے کہ فلاں ادارے کے خلاف مہم چلائی جائے گی تو دوسری سیاسی تنظیم یہ کہہ کر میدان میں کود جانا چاہتی ہے کہ ہم اس ادارے کے حق میں مہم چلائیں گے۔۔۔

خدارا سوچئے کہ حق و مخالفت کی اس دوڑ کا خاتمہ کب ہوگا؟۔۔۔ کب اس داخلی شکوک و شبہات کا سفینہ ڈوبے گا؟

کب ڈوبے گا ’’تشکیک پرستی‘‘ کا سفینہ؟

دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات

مزید :

رائے -کالم -