درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 40

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 40
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 40

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شیر ارادے کے ارادے خطرناک تھے۔ننانوے کا پھیر بدستور جاری تھا۔ایسا معلوم ہوتاتھا سنچری کبھی مکمل نہ ہو گی۔شکار ہاتھ سے نکل جانے کا اتنا افسوس نہ تھا جتنا یہ صدمہ کہ ایک کی کمی پوری نہیں ہو رہی۔ سردی کا موسم، آگ تاپتے اور ہاتھ ملتے گزر گیا۔فیصل بہار میں بھوپال کے جنگلوں میں ڈھاک کے سرخ پھولوں سے آگ سی لگ جاتی ہے۔ہرے ہرے پتوں میں قرمزی پھول ہر طرف سے دعوت نظارہ دیتے ہیں لیکن ہمارے واسطے یہ موسم بالکل بے کیف تھا۔

چند روز سے خبریں موصول ہو رہی تھیں کلیا کھیڑی کے نواح میں سانبھر(نیل گائے)کھیت پامال کرنے لگے ہیں اور شکاری ان کی تاک میں ہیں۔ہم نے سوچا شیر نہیں تو انہیں کو نشانہ بنائیں۔کچھ تو تفریح ہو جائے گی۔ کیا خبر تھی اس سلسلے میں پرانے دوست سے بھی ملاقات مقدر ہے۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سانبھر کی تلاش میں جنگل کے اندر گھسے ہی تھے کہ اک دل ہلا دینے والی گونج نے سب کو مبہوت کر دیا۔ کچھ گڈ ریے سر پر پاؤں رکھے بھاگتے نظر آئے۔دریافت پر معلوم ہوا شیر کی تلاش میں جارہے تھے اور تتر بتر ہو گئے تھے کہ ان میں سے ایک جو نسبتاً دور نکل گیا تھا وہ شیر کی بھوک کا نشانہ بن گیا۔جنگل کا یہ حصہ چونکہ مختصر تھا۔چھپنے کی جگہ بھی کم تھی اور تالاب بھی ایک ہی تھا۔ اس لیے شیر کو گھیر کر شکار کر لینا دشوار نہ تھا۔ چنانچہ فوراً محاصرہ کرلیا گیا۔نواب صاحب راتوں رات پہنچ گئے۔پانی کے قریب مچان بنا لیا اور ہانکا شروع ہو گیا۔ ڈھول پٹنے لگے تاکہ شیر اپنی کمین گاہ سے گھبرا کر باہر نکلے اور ہماری گولی کا نشانہ بن جائے لیکن وہ نظر آیا بھی تو کہاں؟ پہاڑی کی چوٹی پر،جو اتنے فاصلے پر تھی کہ بہترین نشانہ باز بھی حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا تھا ضرور ہلاک ہو جائے گا۔ چار بندوقوں نے پے درپے گولیوں سے اس کا خیر مقدم کیا مگر شیر ایک جست میں دوسری طرف کود گیا اور جب لوگ پہاڑی کے اوپر پہنچے، غائب ہو چکا تھا۔

جنگل کا سلسلہ آگ بھی دور تک چلا گیا تھا۔ رات قریب تھی،نیچے اترنا خطرناک ضرور تھا لیکن شکار کو اگر یونہی چھوڑ دیا جاتا تو اس کا دوبارہ ہاتھ آنا مشکل تھا۔اس لیے یہی طے کیا گیا سب لوگ مستعد ہو کر تعاقب کریں اور دوسری طرف سے امدادی پارٹی آکر گھیرا ڈال دے۔تین دن اور رات اسی تگ ودو میں صرف ہوئے جن میں کھانا تو درکنار پانی بھی مشکل میسر آسکا۔ چوتھے روز ایک ایسی جگہ پہنچے جو اس جنگل کا بہترین علاقہ تھا اور شیر کے لیے بہترین اقامت گاہ۔۔۔جھاڑیوں کے درمیان کئی غار تھے اور ہماری شکاری حس پکار پکار کر کہہ رہی تھی ان پردوں میں ضرور کوئی مستور ہے۔چند گز کے فاصلے پر تالاب تھا جس کے کنارے جھاڑ جھنکاڑ سے صاف اور نشانہ بازی کے لیے نہایت موزوں تھے۔ مچان تیزی کے ساتھ بنا لیا گیا اور ہم تہیہ کر کے بیٹھ گئے خواہ کچھ ہی ہو جائے،شیر ہمارے ہاتھ سے بچ کر نہ جا سکے گا۔ نو بجے ہی سے فضا میں ایسا سکوت چھا گیا کہ گھڑی کی ٹک ٹک، گھنٹہ گھر کے گھڑیال کی طرح سنائی دیتی تھی۔تالاب میں اگر کوئی مینڈک کو دتا تو ایسا معلوم ہوتا بم کا گولہ پھٹا۔ ہوا سے پتے سرسراتے تو کان گونجنے لگتے۔کوئی بھولا بھٹکا گیدڑ پانی پینے آتا لیکن خدا معلوم کیا دیکھتا بغیر پیاس بجھائے الٹے پاؤں واپس ہو جاتا۔ جھینگرا کوئی راگ الاپنا شروع کر تا لیکن فوراً خاموش ہو جاتا۔ اب بارہ بجنے والے تھے۔نیند ہماری آنکھوں سے تقریباً غائب ہو گئی تھی۔ موسم سرما ختم ہو چکا تھا لیکن سردی رگوں میں پیوست ہوتی جارہی تھی ۔

نواب صاحب نے وشالہ اوڑھ لیا تھا اور میں صافہ لپیٹنے کی فکر میں تھا۔میں انہیں کہہ دیا تھا کہ جب تک میں نہ کہوں اب وہ شیر پر گولی نہیں چلائیں گے۔

اس دوران اچانک فضا میں کچھ تغیر سا محسوس ہوا، پھر زمین سے ارتعاش کی سی کیفیت پیدا ہوئی ۔دور سے دور روشن لالیٹنیں ،تاریکی کے پردے کو چیرتی ہوئی نمودار ہوئیں۔ایک لخطے میں شیر ہمارے سامنے تھا لیکن کیسا شیر؟قدوقامت میں دگنا نہیں توڈیوڑھا ضرور تھا۔ گردن کے بال زمین پر جھاڑو دے رہے تھے اور مقناطیسی آنکھیں مچان پر جمی ہوئی تھیں۔مولا بخش کی تو گھگھی بندھ گئی اور رائفل ہاتھ سے چوٹ کر نیچے جا گری۔ ٹارچ روشن کرتے ہوئے میرا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ انگشت شہادت، بندوق کی لبلبی کودباتی ضرور تھی لیکن بے قابو تھی۔ بندوق چلی مگر گولی سر سے دو نچ اونچی نکل گئی۔نواب صاحب کا نشانہ خطا نہیں ہوا۔ایک عجیب طرح کی غراہٹ شیر کے منہ سے نکلی۔لمحہ بھر کے لیے ایسا معلوم ہوا وہ آگے کی طرف جست بھرے گا لیکن کچھ سوچ کر مڑا اور دائیں کتراگیا۔پے درپے گولیوں نے اس کا تعاقب کیا وہ لنگڑاتا ہوا غائب ہو گیا۔نواب صاحب نے کہا ابھی میں گولی نہ چلاتا تو ہم سب شیر کا نوالہ بن جاتے۔فیصلہ حالات کے مطابق کرنا چاہئے اور اس میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔میں خاموش رہا کیوں کہ وہ درست کہہ رہے تھے۔

ہم نے شیر کو مجروح ضرور کر دیا تھا لیکن کس حد تک؟اس کا کسی کو علم نہ تھا۔ اس خواب کی تعبیر بھی غلط ہو گئی۔اور ہم ایک نئے خوف اور امتحان میں پڑگئے۔(جاری ہے)

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : آدم خور